دیوارِ شب کے پار- سائرہ نعیم

رنگ برنگی دنیا میں کتنے ہی رنگ بکھرے ہوتے ہیں اور ہم ان میں سے اپنے پسندیدہ رنگ چن لیتے ہیں۔ کمال تو یہ ہے جب تمام رنگوں کو برتنے کا سلیقہ ہو۔ زیر نظر ناول “دیوار شب” میں عالیہ بخاری نے زندگی سے جڑے مختلف رنگوں کو اپنے قرطاس پر بہت عمدہ طریقے سے پینٹ کیا ہے۔ “ہم ٹی وی” نیٹورک نے مومنہ درید پروڈکشن کے تعاون سے ناول کی ڈرامائی تشکیل کی ہے، جسے اقبال حسین نے ڈائریکٹ کیا ہے۔ شاید میری طرح کچھ لوگ اسکرین پلے کی تمام تر حشر سامانی کے باوجود کتب بینی کی لذت نہ بھلا سکیں، پڑھتے وقت ذہن جس طرح نئے نئے مقامات تک رسائی کرتا ہے وہ اسکرین میں محدود ہوجاتا ہے ۔”ہم” نے افسانے اور ناول پر کئی کامیاب اور مقبول سیریل پیش کئے ہیں سو امید ہے کہ قرأت و بصارت کا یہ سلسلہ بھی دلچسپ ہوگا۔

کہانی لاہور کے شاہی محلے کے گرد گھومتی ہے، جہاں نانی ستارہ اور ان کی بہن نانی دلدار کا خاندان آباد ہے۔ ایک ہی کاروبار سے پیوست رہنے کے باوجود دونوں گھرانوں میں اقدار کا فرق واضح ہے۔ کلاسیکی مغنیہ ستارہ جہاں زندگی میں آئی پریشانیوں اور محرومیوں کا مقابلہ اللہ توکل کے بعد اپنی مضبوط قوت ارادی اور خودداری سے کرتی ہیں ، جبکہ دلدار بیگم عام لوگوں کی طرح واویلا کرکے مطمئن ہوتی ہیں۔ ناول شروع ہوتا ہے جب نانی ستارہ کا جواں سالہ ناز و نعم میں پلا نواسہ خیام (مرحومہ فیروزہ کا بیٹا)نصف شب چوبارے کی نفرتیں لئے رزق حلال کی تلاش میں گھر کو خیرباد کہہ رہا تھا۔

جب گھر والوں کو اس کی گمشدگی کا علم ہوتا ہے اور غم و غصے کی لہر ہر طرف دوڑ جاتی ہے ، تب حالات سنبھالتی نانی ستارہ گریہ کرنے اور کسی کے بھی سامنے اس بات کو کرنے سے ہدایتاً روکتی ہیں ۔ گھر کے حالات تو فیروزہ کے بعد ہی زوال پذیر ہونے لگتے ہیں لیکن نانی ستارہ نے کبھی کسی کے سامنے نہ رونا رویا نہ ہاتھ پھیلایا۔زیور اور دیگر سامان بیچ کر اور اپنے اخراجات کم کرکے گزارہ کیا لیکن اپنے مرتبے سے کبھی گریں نہیں۔ بیٹی نگینہ اور نواسی صندل کو بھی شوبز کی رنگینیوں میں گم نہ ہونے کی ہدایات دیتی رہیں لیکن انہوں نے کم ہی سنا۔

کہانی میں اسلام چچا اور ان کے راشی بھائی اظہار چچا کا گھرانہ بھی ہے۔ سوتیلی ماں کے ظلم سے بھاگنے والا کروڑ پتی باپ کا بیٹا سالار بھی اور ان ہی کے رشتے دار یوسف کمال بھی ۔ محرومیاں،تلخیاں، عداوتیں اور بے راہروی شاہی محلے تک محدود تو نہیں تھیں۔ چوبارے سے نکلنے کے بعد خیام کی زندگی کٹھن ہوجاتی ہے اور مزاج تلخ یہاں تک کہ وہ اسلام صاحب کے بیٹے معاذ سے ملتا ہے اور دونوں کے اخلاق و کردار سے ایک سلجھا ہوا لڑکا بنتا ہے، جو اپنی زندگی کی محرومیوں کا ازالہ عام معافی کی شکل میں کرتا ہے۔ ۱۲۰۰ صفحات کے ناول کو ڈرامہ میں منتقل کرنے کے لئے طوالت کے خدشے کے پیش نظر کچھ چیزیں ہذف کی گئی ہیں۔

ناول میں عالیہ بخاری نے رزق حلال کی اہمیت اور اس راہ کی مشکلات کو خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ محدود وسائل کے باوجود اسلام صاحب اور معاذ خدمت خلق اور اپنے حصے کے چراغ جلا کر معاشرے سے تاریکی کو کم کرتے ہیں۔ نیکی کا صلہ دیر سے ہی صحیح لیکن ملتا ضرور ہے اور بد چاہے کتنا ہی طاقتور ہو غروب ہوتا ہے ۔ ڈرامہ میں فیروزہ اور نگینہ کی زندگی کو اجاگر کیا گیا ہے، نانی دلدار اور ان کے گھرانے کی بے اعتنائی دکھائی گئی ہے۔ اسلام صاحب کا علامہ اقبال سے لگاؤ جیسا کہ ناول میں ہے، مفقود نظر آتا ہے۔ جہاں معروف کا اتنا پرچار ہے وہاں منکر پر بھی بند باندھنا دکھایا جاتا تو ڈرامہ مزید جاندار ہوتا۔

ڈرامائی تشکیل سے ناول کے کافی نکات خود بخود ہی تحلیل ہوجاتے ہیں، اسلئے مصنف اپنے لکھے ہوئے افسانے/ ناول پر فلم/ ڈرامہ بنانے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ ناظرین کیا اخذ کرتے ہیں اس کا فیصلہ ان پر چھوڑتے ہیں ، ناول کا تجزیہ آپ پڑھ چکے ہیں۔