میکسی، ساجد چوہدری اور 11 ستمبر - بشارت حمید

یہ سن 2000 کی بات ہے جس دور میں‌ایم ایس این اور یاہو چیٹ رومز کا رواج ہوا کرتا تھا اور میں‌نے ان دنوں‌نیا نیا پینٹئم 2 کمپیوٹربمعہ سکینر اور پرنٹر لگ بھگ پینتالیس ہزار میں‌ خریدا تھا ۔ کمپیوٹر سیکھتے سیکھتے انٹرنیٹ‌کی دنیا سے واقفیت ہوئی تو لامحالہ ان چیٹ رومز سے بھی آشنائی ہو گئی۔

ایک روز ایم ایس این چیٹ‌روم میں‌ایک امریکن لڑکی شاید اس وقت اسکی عمر 22، 23 سال ہو گی نام اس کا میکسی تھا اس سے تعارف ہوا۔ اس نے بتایا کہ وہ پاکستان کا وزٹ بھی کر چکی ہے اور پاکستانی لوگ اسے بہت اچھے لگتے ہیں۔ وہ امریکہ میں‌اپنے ماں‌باپ سے جدا اپنی کسی رشتہ دار کے ہاں‌رہتی تھی کوئی اس کا بہن بھائی بھی نہیں‌تھا۔ میں‌نے اسے کہا کہ تم مجھے اپنا بڑا بھائی سمجھ لو۔ وہ اس پر بہت خوش ہوئی۔ اس سے بات چیت کا سلسلہ چلتا رہا ۔ ان دنوں‌مجھ پر بیرون ملک جانے کا بھوت سوار تھا اس سے میں‌نے امریکہ چکرلگانے کے حوالے سے بات کی تو اس نے کہا کہ یہاں کی زندگی اتنی آسان نہیں‌ہے جتنی دور سے نظر آتی ہے بہت رف اور ٹف لائف ہے امریکہ میں‌۔ ایک مشین کی طرح‌کام کرنا پڑتا ہے ۔ خیر اس سے پاکستان وزٹ کے حوالے سے بات ہوئی تو اس نے لاہور کے ایک ینگ مین کا ذکر بہت اچھے الفاظ‌میں کیا۔ اس کا نام ساجد چوہدری تھا اور وہ اس وقت پنجاب بنک لکشمی چوک کی برانچ کے مینیجر تھے۔ میکسی نے اپنے پاکستان وزٹ کے دوران لاہور میں‌کچھ کرنسی تبدیل کروانی تھی تو بنک گئی وہاں‌ساجد چوہدری نے اسے بہت اچھا ٹریٹ کیا وہ اس بندے سے بہت متاثر ہوئی۔

ساجد چوہدری کے کچھ عزیز امریکہ میں‌بھی رہتے تھے تو واپس جا کر میکسی نے ان سے بھی ملاقات کی اور ان سے رابطے میں‌رہی۔ ساجد چوہدری اسے اتنا پسند آیا کہ وہ اس کے شادی شدہ ہونے اور ایک بیٹے کے باپ ہونے کے باوجود اس سے شادی کی خواہشمند تھی۔ اس بات کا تذکرہ اس نے چیٹنگ کے دوران مجھ سے بھی کیا اور یہ کہا کہ ساجد کو اس بات کا علم نہیں‌ کہ میں‌اسے پسند کرتی ہوں۔ اس نے مجھے کہا کہ جب بھی لاہور کا چکر لگے تو ساجد چوہدری سے ضرور ملنا وہ بہت اچھا انسان ہے۔ میں‌نے اسے کہا کہ مجھے ساجد کا رابطہ نمبر دو تو میں‌اس سے ملاقات کر لیتا ہوں‌۔ اس نے ساجد سے رابطہ کروا دیا۔ میرا لاہور کا چکر لگا تو ساجد سے برانچ میں‌ملاقات کرنے گیا۔ اس نے بہت خوش دلی سے ویلکم کہا۔ کچھ دیر گپ شپ ہوئی اور پھر اجازت لی۔ اس کے بعد ساجد سے بھی رابطہ رہا اور میکسی سے بھی کبھی کبھار ہیلو ہائے ہو تی رہی۔ پھر 2001 میں‌یہ 9/11 کا واقعہ پیش آ گیا۔ میکسی کیونکہ نیویارک میں‌ہی ہوتی تھی تو مجھے اس کے بارے تشویش ہوئی۔ اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن رابطہ نہ ہو سکا۔ چند روز بعد ساجد چوہدری نے یہ بری خبر سنائی کہ میکسی بھی اس روز ٹوئن ٹاورز کے قریب ہی تھی اور وہ اس حادثے کا شکار ہو کر اس دنیا سے جا چکی ہے۔

اس خبر کو سن کر بہت افسوس ہوا کہ ایک ورچوئل تعلق سے ملنے والی منہ بولی بہن اب دنیا میں نہ رہی۔ ساجد چوہدری سے بھی اس کے بعد رابطہ منقطع ہو گیا اور اس کے بعد ان کے بارے بھی کوئی خبر نہیں کہ کہاں‌ہیں اور کس حال میں ہیں۔ ساجد چوہدری سے ہونے والی واحد ملاقات میں، میں‌نے اپنے بیرون ملک جانے کے حوالے ذکر کیا تو ساجد نے مجھے مشورہ دیا کہ اوریکل کی گلف وغیرہ میں‌بہت ڈیمانڈ‌ہے تو اس کی سرٹیفیکیشن کر لو ۔ میں‌نے پھر ساجد کے مشورے پر ہی اوریکل کی سرٹیفیکیشن دن رات ایک کرکے ساڑھے تین ماہ میں‌مکمل کی لیکن اللہ کو میرا یہیں‌رہنا منظور تھا تو بیرون ملک نہ جا سکا۔ لیکن اوریکل سیکھنے کی وجہ سے مجھے کمپیوٹر پروگرامنگ کے بارے کافی آئیڈیا ہو گیا جس نے آگے چل کر موبی لنک میں‌میری جاب پر مجھے بہت مدد دی۔ آج ایسے ہی پرانی یاد ذہن میں‌آئی تو سوچا کہ فیس بک پر شئر کر دیا جائے کیا خبر ساجد چوہدری جیسا اچھا انسان اس کو پڑھے تو دوبارہ سے رابطہ قائم ہو جائے۔ وہ بندہ جہاں‌بھی ہے اللہ اسے اور اس کی فیملی کو اپنی حفظ و امان میں‌رکھے ۔ اس کے دیئے ہوئے مشورے نے مجھے بہت فائدہ دیا تھا۔ ہم کسی کے لئے عملی طور پر کچھ نہ کرسکیں‌تو اسے مشورہ نیک نیتی کے ساتھ اپنے بہترین علم و فہم کے مطابق دینا چاہیئے یہ بھی صدقہ ہے۔ کیا عجب کسی کا دیا ہوا مشورہ ہی اس کے لئے صدقہ جاریہ بن جائے

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.