صبح شام ہائے جانو! ہائے جانو! کرتی ہماری نئ نسل کیا جانے ارطغرل کون تھا - محمد فہیم

بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کے پُر فریب ، خوش نما الفاظ میں مگن اور صبح شام ہائے جانو! ہائے جانو! کرتی ہماری نئی نوجوان نسل کو کیا معلوم تھا کہ خلافتِ عثمانیہ کیا ہے ؟؟ سلیمان شاہ ، ارطغرل اور عثمان کون لوگ تھے ؟؟ کس لیے جیتے تھے ؟؟ اُن کی زندگی کا مقصد کیا تھا ؟؟

انہوں نے اپنی قوم ، قبیلے اور پوری مسلم اُمت کے لیے کیا کارنامے انجام دئیے ؟؟ کس طرح اپنی قوم کو ظلم و ستم سے نجات دلوائی ؟؟ انہیں کیا معلوم تھا کہ چنگیز خان ، ہلاکو خان اور منگول کون تھے ؟؟ وہ کس طرح کے ظالم و جابر حکمران تھے ؟؟ کس طرح مسلمانوں پر تشدد کرتے تھے ؟؟ کیسے بستیوں کی بستیاں اُجاڑ دیتے تھے ؟؟ کس طرح بغداد کی گلیاں خون سے رنگین کر دیں تھیں ؟؟ کیسے خون کی ندیاں بہائیں کہ دریائے دجلہ کا پانی سرخ ہو گیا تھا ؟؟ اور کیسے انہوں نے مسلمانوں کی عظیم علمی کتابیں دریائے دجلہ میں بہا دیں جس سے کئی دن دریائے دجلہ کا پانی سیاہ رہا ۔ اللہ بھلا کرے تُرکی کا کہ ڈیریلیش ارطغرل کے ذریعے اُس نے انٹرنیٹ اور عشق و معشوقی میں پڑی قوم کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ، ایک نئے انداز سے جینے کی اُمنگ پیدا کی اور اُنہیں ایک نئے رُخ پر ڈال دیا ۔ وہ جراءت و بہادری جو انہیں اپنے اسلاف سے ورثے میں ملی تھی اُنہوں نے اُس کی لاج رکھی ، اپنے اسلاف کی تاریخ کو پسِ پُشت نہیں ڈالا ، اپنے شاندار ماضی کو فقط تاریخ کی کتابوں تک محدود نہیں رکھا ، اپنے شہداء اور غازیوں کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا ۔

ڈیریلیش ارطغرل کا فائدہ یہ ہوا کہ آج ہمارے نوجوان ارطغرل اور عثمان جیسے نامور مسلم لیڈروں سے واقف ہوگئے . دنیا کے کونے کونے میں ترکی اور خلافتِ عثمانیہ کے ڈنکے بجنے لگے آج اپنی موجوں میں مست نوجوانوں کو بھی معلوم ہو رہا ہے کہ اسلامی تاریخ کی چوتھی بڑی خلافت "خلافتِ عثمانیہ" کیا تھی ؟؟ اس کے بانی کون تھے ؟؟ کن کن مشکلات و مصائب سے لڑ کر خلافت کا قیام عمل میں لایا گیا تھا ؟؟ خلافت کے اس سفر میں ارطغرل اور عثمان کو اپنوں اور غیروں کی کن کن سازشوں سے نمٹنا پڑا ؟؟ حائمہ خاتون کو کس طرح ہمت و حوصلہ ، جانفشانی اور صبر و استقامت سے کام لینا پڑا ؟؟ اِس عظیم قوم نے تاریخ کے اوراق میں کیسے کیسے اٙن مِٹ نقوش چھوڑے ؟؟ سبحان اللہ!!!! یقیناً یہی لوگ تھے جو علامہ اقبال کے اِن اشعار کے مصداق ہیں :
تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میں - خشکیوں میں کبھی لڑتے، کبھی دریاؤں میں
دِیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں - کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں
شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہاں داروں کی - کلِمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں کی

آج پھر سے خلافت کے احیاء کے لیے کوششیں عروج پر ہیں۔ کیونکہ خلافت ختم کرنے کا 100 سالہ معائدہ 2023ء میں ختم ہو رہا ہے, ایک طرف تُرک صدر عملی طور پر جمہوریت کے راستے سے خلافت کی طرف گامزن ہیں تو دوسری طرف ترکی نظریاتی طور پر ڈیریلیش ارطغرل کے ذریعے خلافت و اسلامی مملکت کے لیے رائے عامہ ہموار کرنے میں کامیاب ہو رہا ہے ۔--- نقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نے - زیرِ خنجر بھی یہ پیغام سُنایا ہم نے
یقیناً وہی قومیں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں جو اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلتی ہیں ، اور ترکی کا یہ دور بھی تاریخ کے درخشاں ابواب میں سنہرے حروف سے لکھا جائے گا۔ ہم ترکی کے اس عظیم کارنامے پر خراج عقیدت پیش کرتے ہیں اور دعاؤں کے ڈھیروں تحفے ہدیہ میں پیش کرتے ہیں ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */