“آؤ کامیابی کی طرف۔ آؤ فلاح کی طرف” - عابدہ بانو

روبی! تمہیں کیا ہوا؟؟؟ اسقدر گرمی میں پھر وہی اتنی موٹی جیمز اور اتنا گرم گدا اور اوپر سے کافی کا مگ؟؟؟ خود کو کیوں تکلیف دے رہی ہو؟ایسا کب تک چلے گا؟”
افشاں نے حیرت سے اپنی بیٹی کو دیکھا جو پسینے سے شرابور بیٹھی تھی۔ اور ہانپ رہی تھی۔ اور ساتھ ساتھ ایک کاغذ پر لکھے جملے رٹا لگا رہی تھی اور یہ گزشتہ چھ روز سے چل رہا تھا۔

“ماما! مجھے کچھ نہ کہیں مجھے پریکٹس کرنی ہے”” روبی نے پسینہ پونچھتے ہوئے جواب دیا۔ “ اور آپ سے کتنی بار کہا ہے کہ اب اس گھر میں چائے کی بجائے کافی بنایا کریں” روبی نے ضد کرکے کسی ایکٹنگ کمپنی میں جانا شروع کیا تھا۔ جو مختلف رول پلے یا ٹی وی میں کام کرنے کے خواہش مند افراد کو ٹریننگ دیتی تھی۔ روبی کو بہت جنون تھا ڈراموں میں کام کرنے کا۔ اور یہ سب اسکی ٹریننگ کا حصہ تھا۔ “روبی! مجھے تمہاری ٹریننگ کی کچھ سمجھ نہیں آرہی۔ یہ سب کیا ہے کچھ تو وضاحت کرو؟” افشاں اسکے پاس ہی بیٹھ گئی ...“ماما! میں آپکو سمجھاتی ہوں۔ دراصل کسی بھی پاکستانی ڈرامے میں کام کرنے کے لیے کچھ شرائط ہیں جو ہر ایکٹ کا حصہ ہیں اور ہر ایک کو لازما انکا پتہ ہونا چاہیے۔ مثلاً ..اگر غریب کا رول کرنا ئے تو چائے کی اجازت ہے ورنہ ہر جگہ آپکو کافی پینا ہوگی خواہ کتنی ہی گرمی ہو۔ بائیں ہاتھ سے کھانا کھانا ہوگا۔ سلام صرف کسی بڑے کو کرسکتے ہیں ورنہ ہیلو یا ہائے کہنے کی اجازت ہوگی۔ ہمیشہ ماڈرن گھر اور بڑے بیڈ روم اور صوبوں پر بیٹھنا یا لیٹنا ہوگا خواہ باہر بلا کی گرمی ہو۔ آپکو بال باندھنے یا دوپٹہ لینے کی اجازت نہیں ہے بشرطیکہ آپکا رول کسی بزرگ عورت یا غریب عورت کا ہو۔
چونکہ مجھے جوان لڑکی کا رول کرنا ہے تو گلے میں بھی دوپٹہ نہیں لینا اور جینز کے اوپر کوئی کرتہ پہنا ہے اور ہر طرح سے ویسٹرن نظر آنا چاہیے۔ “

“اف خدایا کسی پاکستانی ڈرامے میں کام کرنا ہے یا انگلش والے میں؟؟؟ یہ کیسی شرطیں ہیں؟؟؟” افشاں کا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا۔ “ نہیں ماما ڈرامہ تو پاکستانی ہی ہے لیکن پاکستانی کلچر دکھانے کی اجازت نہیں ہے۔ مجھے بھی شروع میں کچھ عجیب لگا تھا لیکن اب اچھا لگ رہا ہے۔ اور مزے کی بات بتاؤں کہ آجکل مردوں کو داڑھیاں رکھنی پڑ رہی ہیں ایکٹنگ کرتے ہوئے کیونکہ ویسٹ میں یہ رواج چل رہا ہے۔ اسی بہانے صحیح لیکن پتہ ہے عامر نے بھی داڑھی رکھ لی۔ وہ میرے ساتھ ہے اس سین میں” روبی نے پرجوش ہوکر سمجھایا۔ “عامر کیا کرے گا”
“عامر اور میں ایک ہوٹل کے منظر میں ہیں جہاں ڈرامہ کے اصل دو کرداروں کو ملنا ہے لیکن ان کے ارد گرد میز اور کرسیوں پر جوان لڑکے اور لڑکیوں کو بیٹھے ہوئے اور گپ لگاتے دکھایا جائے گا۔ بس فی الحال مجھے یہی کرنا ہے۔ لیکن وہ رانا صاحب کہہ رہے تھے کہ اگر میں اسی جذبے سے کام کرتی رہی تو ایک دن بڑی ایکٹر بنونگی۔ بس ایک مسئلہ ہے ماما”
“وہ کیا؟؟ ساری حدیں تو پھلانگ لیں تم نے” “ماما رانا صاحب نے کہا ہے مجھے عادت ڈالنی ہوگی کہ ہر ڈرامہ میں جوان مرد اور عورت کو اکیلے ملتا دکھانا لازمی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شروع میں برا لگتا ہے لیکن پھر تمہیں عادت ہوجائے گی۔ بس اس پر تھوڑی کشمکش میں ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:   میڈیا ریٹنگس کا چکر اور بے حسی ۔ انجینیئر راحیل لطیف میمن

“ روبی سوچ میں پڑگئی۔ “بس بیٹی۔ میں نے تمہیں اجازت دی تھی تمہارا شوق دیکھ کر۔ لیکن تمہاری باتیں سن کر لگ کر لگ رہا ہے کہ یہ فیصلہ غلط تھا۔ یہ ڈرامے والے پاکستانی کلچر اور اسکے مسائل پر کیوں کوئی ڈرامہ نہیں بناتے۔ ؟”” افشاں کو اب غصہ آنے لگا۔ “ماما! آپ خواہ مخواہ ناراض ہورہی ہیں۔ مجھے لباس تو پورا ہی پہننا ہے بس شلوار قمیض نہیں پہن سکتی ہوں اگر غریب کا رول ملا تو وہ بھی پہن لونگی۔ اور پھر تو اپنی گفتگو میں لفظ “اللہ” بھی بول سکتی ہوں۔ لیکن وہ بہت کم جگہ اجازت ہوتی ہے ماما۔ اس ہر بہت سختی کی جاتی ہے۔ پتہ ہے ایک منظر میں انیلا تھی اور اس نے اپنی دوست کو کہنا تھا کہ تندرست ہو جائیگی تو اس کے منہ سے نکل گیا کہ اللہ تمہیں تندرست کردے گا۔ اسے بہت ڈانٹ پڑی اور اسکا جملہ یہ تھا کہ میں وش wish کرتی ہوں کہ تم جلدی ٹھیک ہو جاو۔ بس رانا صاحب ایک بات پر افسردہ تھے۔ کہتے ہیں پاکستانی عوام سب برداشت کررہی ہے جو ہم انکو دکھا رہے ہیں۔ بس ایک بات سے ڈر لگتا ہے کہ اگرچہ ہم ہر چیز میں مغرب کے مطابق ہیں اور جہاں تک بس چلے وہی حلیے اور وہی کا کلچر دکھاتے ہیں۔ لیکن جس دن ہم نے کسی ڈرامہ میں کھل کر اسلام یا اللہ رسول کے خلاف کچھ بول دیا تو عوام ہمیں کچا کھا جائے گی۔ بس اس بات سے ڈر لگتا ہے تو ہم احتیاط کرتے ہیں اور عورت کو بھی اتنا ہی ننگا کر پار ہے ہیں جتنا وہ برداشت کرسکیں۔

لیکن ہم کوشش کرہے ہیں کہ آہستہ آہستہ پیٹ اور سینہ بھی کچھ مناظر میں دکھا سکیں گردن کا پچھلا حصہ اور ٹانگیں تو کافی حد تک ہم دکھا چکے ہیں۔ “ روبی نے بات جاری رکھی لیکن افشاں کی برداشت جواب دے گئی تھی۔ “روبی! تمہاری باتیں میرا دل دہلا رہی ہیں واقعی یہ سب ہورہا ہے لیکن میں تو کبھی غور ہی نہیں کیا کہ ہمارا دین ایمان ہمارا کلچر سب کچھ خطرے میں ہے۔ ہمیں اس کے خلاف آواز اٹھانا ہوگی۔ تم ہر گز اس کا برائی کا حصہ مت بنو۔ تم ان وسائل کواچھی چیزوں کی اشاعت کے لیے استعمال کرلو۔ “ “نہیں ماما دینی طبقہ مجھے فتووں کی زد میں لےآئے گا مجھے کسی اچھی چیز کے لیے ایکٹنگ نہیں کرنا۔ کیونکہ انکی نظر میں یہ سب حرام ہے۔ انکے پاس اس برائی کے سدباب کرنے کے کیے فتاوی تو موجود ہیں لیکن کوئی متبادل پلان نہیں ہے جیسا متبادل ترکی نے “درلیس” ڈرامہ بنا کر دکھایا اور لاکھوں لوگ اس کے ذریعہ اسلام سے آشنا ہوئے اور اگلی نسلیں جان سکیں کہ انکی تاریخ کیا ہے۔ ایسا فی الحال پاکستان میں ممکن نہیں لگ رہا تو مجھے مت روکیں۔ “ “روبی! کیا تم اس لیے برائی کا انتخاب کروگی کہ یہ آسان راستہ ہے؟ یاد رکھو تمہار غلط انتخاب اللہ کو ناراض کرے گا،وقتی فائدہ کے لیے اتنا بڑا نقصان کر لینا کہاں کی عقلمندی ہے؟” “ماما! اب مجھے منع مت کریں میرے ایک سال کی محنت ضائع جائے گی” روبی نے تقریباً چلاتے ہوئے کہا۔

یہ بھی پڑھیں:   ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے -اسماء طارق

“تمہیں یاد ہے میری دوست رضیہ؟ اسکی کہانی سناتی ہوں تمہیں۔ یہ اس نے مجھے خود بتایا تھا اس نے کہا تھا .. “کہ شروع میں یہ رنگ برنگی چمکتی دنیا اچھی لگتی ہے شوبز کی۔ لیکن اندر سے بہت بھیانک ہے۔ میں اس کا حصہ رہ چکی ہوں۔ بشری انصاری اور میں اچھے دوست تھے۔ وہ مجھ سے بہت آگے نکل گئی لیکن اسکو اکثر نیند کی گولیاں کھا کر سونا پڑتا تھا اور ڈپریشن کے دورے پڑتے تھے۔ اور صبا قمر جسکی تمہاری بیٹی دیوانی ہے وہ اندر سے اسقدر زخمی ہے کہ خودکشی کا سوچتی ہے۔ اور پتہ ہے کہ جب میں نے توبہ کی اور پلٹ آئی تو مجھے تب بھی بہت مشکل ہوئی لیکن دل کا سکون بہرحال مل گیا جو اللہ کی یاد میں ہے۔ اور دنیا اسے کہیں اور تلاش کرتی ہے۔ میں نے ایک بار چاہا کہ اس پر خود کوئی ڈرامہ بناؤں جس میں ازدواجی زندگی کے تعلقات پر اور لوگوں کے اصل مسائل پر بات ہو کیونکہ ہر فلم اور ڈرامہ ادھر ختم ہوتا ہے جہاں اصل زندگی شروع ہوتی ہے شادی کے بعد کی۔ کوئی ڈرامہ آج تک لڑکیوں کو یہ نہیں سکھا سکا کہ جب سسرال جاؤگی اور تکلیف دہ رویوں سے سابقہ پڑا تو کیسے خود کو متاثر کئے بغیر زندگی گزارنا ہے۔ کیسے اس غلط فہمی سے بچنا ہے کہ اگر سب حالات یا سب لوگ اچھے ہونگے تو ہی میں خوش اور پرسکون زندگی گزارسکتی ہوں۔

ورنہ مجھے اسی طرح کڑھنے رہنا ہے۔ وغیرہ وغیرہ لیکن مجھے ایک عالم کا فون آیا اور انہوں نے بہت سخت الفاظ کہے۔ اور کہا کہ ابھی اسلام پر وہ وقت نہیں آیا کہ تم جیسے لوگوں سے اللہ اپنے دین کا کام لے۔ ہم ابھی زندہ ہیں۔ “جب میں بے حیائی کا حصہ تھی تو کسی نے اعتراض نہیں کیا لیکن جب پلٹنا چاہا تو بہت ساروں نے مجھ پر جملے کسے میری نیت پر شک کیا اور گزشتہ زندگی کے طعنے دیے یہاں تک کہ میں آج نام اور جگہ بدل کر گمنامی کی زندگی گزار رہی ہوں” یہ سب رضیہ نے مجھے خود بتایا۔ میں نے تمہیں اجازت تو دی تھی لیکن میرا دل تمہیں اس دلدل میں بھیجنے کو اب نہیں کرتا۔ وہ کمزور لمحہ تھا جب میں تمہاری ضد کے سامنے ہار مان گئی تھی۔ لیکن میری بچی! یہ راستہ آگ کا راستہ ہے۔ اس پر چلو گی تو تمہاری روح اندر تک جل جائے گی۔ “ روبی یہ سب سن کر سوچ میں پڑگئی۔ اسی دوران اذان کے الفاظ گونجنے لگے ... “آؤ کامیابی کی طرف۔ آؤ فلاح کی طرف”