’’ہانڈی‘‘ پک جانے کے بعد کی حقیقت- نصرت جاوید

محض چند فقروں کے استعمال سے ایک تفصیلی منظر دکھادینے کا جو ہنر ارنسٹ ہمگنیوے (Ernest Hemingway)کو نصیب ہوا تھا اس پر غور کرتے ہوئے مجھ جیسے بے ہنر کو بہت رشک آتا ہے۔ہمگنیوے کی ایک شہرئہ آفاق کہانی The Snows Kilimanjaroبھی ہے۔اس کا آغاز بہت حیران اور مسحور کن ہے۔

اس کہانی کا مرکزی کردار اپنی بیوی سمیت افریقہ کے سب سے بلند پہاڑ کی وادی میں خیمہ لگائے وقت گزاررہا ہے۔اس کی ٹانگ پر لگازخم بظاہر ناقابلِ علاج ہوچکا ہے۔زندہ بچنے کی امید باقی نہیں رہی۔ مذکورہ کہانی کے آغاز میں وہ کھلے آسمان تلے بستر پر لیٹا ہوا ہے۔اپنی بیوی کو قطعیت سے بتارہا ہے کہ وہ مررہا ہے۔اسے تسلی دینے کو بیوی اس کے ’’اعتماد‘‘ کو ’’وہم‘‘ قرار دینے کی کوشش کررہی ہے۔شوہر اس کی طفل تسلی سے اُکتا کر ایک موٹی سی گالی دیتے ہوئے آسمان کی طرف توجہ دلاتا ہے جہاں گدھ منڈلا رہے ہوتے ہیں۔’’Ask Them(ان سے پوچھ)‘‘ کہتے ہوئے وہ خاموش ہوجاتا ہے۔ 1988سے وطنِ عزیز میں حکومتوں کی آنیاں جانیاں دیکھ رہا ہوں۔بارہا ایسا ہوا کہ کوئی وزیر اعظم بہت ہی طاقت ور دکھائی دے رہا تھا۔’’اچانک‘‘ مگر اسلام آباد کے طاقت ور ڈرائنگ روموں میں دعوتیں شروع ہوگئیں۔ وہاں موجود افراد حکومت وقت کے جانے کی پیش گوئیوں میں مصروف ہوگئے۔ بطور رپورٹر میں انہیں منطقی سوالات اٹھاکر جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کرتا رہا۔چند ہی ماہ بعد مگر وہ درست ثابت ہوئے۔میری ’’عقل‘‘ دھری کی دھری رہ گئی۔ ایسے بے تحاشہ واقعات کو بھگتنے کے بعد بالآخر اس نتیجے پر پہنچا کہ اقتدار کے بے رحم کھیل میں جو بھی نظر آرہا ہوتا ہے اپنے تئیں کافی نہیں ہوتا۔بسااوقات نظر آنے والا منظر محض دکھاوا ہوتا ہے۔Smoke Screen۔

ہماری نگاہوں سے کہیں دور کوئی کھچڑی پک رہی ہوتی ہے۔ہم عامیوں کو اس کی خبر نہیں ہوتی۔ ’’ہانڈی‘‘ پک جانے کے بعد ہی حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے۔ میڈیا پر چھائے منظر کے پیچھے واقعتا ’’کچھ‘‘ ہورہا ہو تو میری دانست میں چند افراد ہمگنیوے کی کہانی میں بیان کردہ گدھوں کی طرح اسلام آباد کی فضائوں میں منڈلانا شروع ہوجاتے ہیں۔ان کی موجودگی اور سرگرمیاں ہم دو ٹکے کے رپورٹروں کو خبردار کرنے کے لئے کافی ہونا چاہیے۔ گزشتہ دو مہینوں سے اسلام آبا د کی فضاایک بار پھر بہت پراسرار ہوچکی ہے۔مولانا فضل الرحمن اسلام آباد کی جانب مارچ یا دھرنے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔اس ضمن میں ان کے اعتماد اور یکسوئی کی وجوہات کے تعین کے بعد انہیں مناسب یا غیر مناسب قرار دینے کی کم از کم مجھ میں ہمت نہیں۔اپنی ’’عقل‘‘ کو ٹھنڈے دل سے استعمال کرتا ہوں تو عمران حکومت کے لئے ہر صورت ’’’ستے خیراں‘‘ ہی کا احساس ہوتا ہے۔مولانا کا اعتماد اور یکسوئی اس حوالے سے مزید پریشان کردیتی ہے۔ مولانا کے علاوہ میں تمام تر کاوشوں کے باوجود ابھی تک یہ بھی سمجھ نہیں پایا کہ پاکستان مسلم لیگ کے ’’سنجیدہ اور تجربہ کار‘‘ رہ نمائوں کا ایک گروپ انہیں نومبر2019گزرجانے کے مشورہ کیوں دے رہا تھا۔ پیپلز پارٹی بھی اس ضمن میں آئندہ برس کے آغاز کا انتظار کیوں کررہی ہے۔سیاست دان کسی صحافی کے دوست ہونہیں سکتے۔

اپنے پتے اقتدار کے بے رحم کھیل میں سگے بھائیوں کوبھی دکھائے نہیں جاتے۔ مجھے آج بھی خوب یاد ہے کہ اکتوبر نومبر1996 میں اس وقت کے صدر فاروق لغاری مرحوم کے کئی ’’قریبی‘‘ دوست ان سے مسلسل رابطے کے باوجود یہ ماننے کو تیار نہیں ہوتے تھے کہ وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت کو آٹھویں ترمیم کے تحت ملے اختیارات استعمال کرتے ہوئے گھر بھیج دیں گے۔میں اس ضمن میں شبے کا اظہار کرتا تو میرا تمسخر اُڑایا جاتا۔عملی رپورٹنگ سے گزشتہ کئی مہینوں سے ریٹائر ہوچکا ہوں۔ اپنے گھر تک محدود رہتا ہوں۔رپورٹر والی وہ تڑپ باقی نہیں رہی جس کی بدولت مولانا فضل الرحمن کے اعتماد اور یکسوئی کی وجوہات ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے۔ پاکستان مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی کی اس ضمن میں ہچکچاہٹ کے اسباب کا تعین کرنے کو بھی تردد نہیں کیا۔ اسلام آباد میں لیکن وہ لوگ بہت متحرک ہوچکے ہیں جن کی رونمائی ہمیشہ مجھے ہمگنیوے کی کہانی کا آغاز یاد دلاتی رہی ہے۔ان کی اس شہر میں آمد نے مجھے چونکا دیا۔ ان سے تقریباََ روزانہ ملاقات کرنے والے چند مہربان دوستوں کے دماغ لہذا کریدنا شروع ہوگیا ہوں۔ واضح جوابات کہیں سے مل نہیں رہے۔گزشتہ دو ہفتوں سے مگر ایک ’’امکان‘‘ کا مسلسل ذکر ہونا شروع ہوگیاہے۔ جس ’’امکان‘‘ کا میں تواتر سے ذکر سن رہا ہوں وہ دعویٰ کرتا ہے کہ اگر مولانا فضل الرحمن ایک متاثر کن ہجوم کے ہمراہ اسلام آبادآنے میں کامیاب ہوگئے تو نواز شریف کے نام سے منسوب ہوئی پاکستان مسلم لیگ کے ’’سنجیدہ اور تجربہ کار‘ ‘ رہ نما قومی اسمبلی میں وزیر اعظم عمران خان صاحب کے خلاف تحریک عدم اعتماد داخل کردیں گے۔

میرے ساتھ جب بھی مذکورہ ’’امکان‘‘ کا ذکر ہوتا ہے تو میں فوراََ اس تحریک عدم اعتماد کا ذکر چھیڑدیتاہوں جو سینٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کے خلاف پیش ہوئی تھی۔ عمران مخالف جماعتوں کو پارلیمان کے ایوانِ بالا میں 64اراکین پر مشتمل بھاری بھر کم اکثریت میسر ہے۔ اس کے باوجود جب تحریک عدم اعتماد پر خفیہ رائے شماری ہوئی تو اس کے 15اراکین کے ’’ضمیر جاگ گئے‘‘۔ آج تک ان باضمیر افراد کی نشان دہی نہیں ہوپائی ہے۔صادق سنجرانی اپنی جگہ قائم ہیں۔ قومی اسمبلی میں عمران حکومت کی مخالف جماعتوں کے پاس تو ویسے بھی اکثریت حاصل نہیں ہے۔اس حکومت کا پیش کردہ پہلا بجٹ بغیرکسی دشواری کے منظور ہوگیا۔یہ بجٹ منظور کروانے کے بعد حکومت کو یہ اعتماد نصیب ہواجس کی بدولت آصف زرداری اور نواز شریف جیسے قدآور رہ نمائوں کو ’’عام مجرموں‘‘ کی طرح قید میں رکھا جارہا ہے۔رانا ثناء اللہ کے خلاف منشیات کی فروخت کا سنگین الزام ہے۔شاہد خاقان عباسی اس کوٹھڑی میں محصور ہیں جو پھانسی کے لائق قرار دئے مجرموں کے لئے مختص ہوتی ہے۔ ان ٹھوس حقائق کے ہوتے ہوئے قومی اسمبلی میں عمران خان صاحب کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش کرنا نظر بظاہر ایک رائیگاں کی مشق شمار ہوگا۔

سینٹ میں واضح اکثریت اگر صادق سنجرانی کو ہٹانے میں ناکام رہی تو قومی اسمبلی کی اقلیت تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عمران خان صاحب کو بھی ان کے منصب سے ہٹا نہیں پائے گی۔
ان ٹھوس حقائق کی موجودگی میں بھی لیکن اسلام آباد کے ڈرائنگ روموں میں گزشتہ ایک ہفتے سے اصرار ہورہا ہے کہ اگر مولانا ایک متاثر کن ہجوم کے ہمراہ اسلام آباد آنے میں کامیاب ہوگئے تو نومبر کے پہلے دس دنوں میں سے کسی ایک دن عمران خان صاحب کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کردی جائے گی۔ ایک صاحب نے میرے روبرو بہت اعتماد سے بلکہ یہ دعویٰ بھی کردیا ہے کہ ممکنہ تحریک عدم اعتماد پر ’’18نومبر‘‘ کے روز قومی اسمبلی کے ایوان میں رائے شماری ہوگی۔ میں ان صاحب کی دی گئی ’’تاریخ‘‘ کا یہ کہتے ہوئے مذاق اڑاتا رہا کہ وہ برائے مہربانی اپنا ’’ستارہ شناس‘‘ بدل لیں۔ کسی اور نجومی سے رجوع کریں۔ وہ صاحب مگر اپنی بات پر ڈٹے رہے۔میں خاموش ہوگیا۔ارنسٹ ہمگینوے کی کہانی کا آغاز یاد آگیا۔ سیاست کے بجائے ادب کے اس شاہکار کو کتابوں کی الماری سے آج صبح ڈھونڈنکالا ہے۔یہ کالم لکھنے کے بعد اسے ایک بار پھر غور سے پڑھتے ہوئے ہمگنیوے کے کمالِ فن کو سراہنے کی کوشش کروں گا۔