مولانا فضل الرحمن اور تشدد کی سیاست- خورشید ندیم

مولانا فضل الرحمن پر لگے ہر الزام کی مضبوط یا کمزور دلیل ہو سکتی ہے‘ مگران کی طرف تشدد کی نسبت کسی طرح ثابت نہیں۔مولانا پاکستان کے واحد مذہبی سیاست دان ہیں‘ جو تشددپر یقین نہیں رکھتے‘ لیکن کیااس کی ضمانت دی جا سکتی ہے کہ وہ مستقبل میں بھی غیر متشدد رہیں گے؟
ہمیںمعلوم ہے کہ یہ مسلکی انتہا پسندی ہو یا جہادی بیانیہ‘دونوں کی قیادت فرزندان ِدیوبند کے پاس تھی۔مولانا‘ اگررکاوٹ نہ بنتے تو یہ رجحانات اہلِ دیوبند کو بہا لے جا تے۔وہ جان ہتھیلی پر رکھ کران کے سامنے کھڑے ہوگئے ۔ان پر تین خود کش حملے ہوئے ۔موت انہیںچھوکرگزرگئی۔اگر زندگی اور موت اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں نہ رکھی ہوتی تو آج وہ ماضی کی ایک داستان ہوتے۔
خطابت میری دلچسپی کا ایک میدان ہے۔میں نے طرح طرح کے خطیبوں کو سناہے۔مولاناحق نوازجھنگوی کی تقاریربارہاسنی ہیں۔ان کی خطابت سے میں نے پہلی بار جانا کہ شعلہ بیانی کیا ہوتی ہے۔وہ ایک سیلاب کی طرح بڑھ رہے تھے اور دیوبند کا حلقہ اس کی طوفانی لہروں کے ساتھ بہے جا رہا تھا۔

میں نے ان کے سامنے بہت سے خطیبوں کے چراغ بجھتے دیکھے۔یہ مولانا فضل الرحمن تھے ‘جنہوںنے حکمت کے ساتھ اس سیلاب کے سامنے بند باندھا۔اپنے لوگوں کی گالیاں کھائیں مگر اس شعلہ نوائی کواپنے خطبوں کی آبشار سے ٹھنڈا کیا۔متحدہ مجلس عمل کے سیاسی کردار پر مجھے بھی بہت سے اعتراضات ہیں ‘مگر اس کا یہ سماجی کردار بہت اہم ہے کہ اس نے مسلکی فاصلوں کو کم کیا۔
اسی طرح جہادی بیانیہ ہے۔مولانا نے اس کے مقابلے میں جمہوری جد وجہد کابیانیہ پیش کیا اور مسلح جد وجہد کو یکسر مسترد کر دیا۔ان کو معلوم تھا کہ اس کی ایک قیمت ہے جو جان بھی ہو سکتی ہے۔وہ یہ قیمت ادا کرنے پر بھی تیار ہوگئے۔انہوں نے بار ہا واضح کیا کہ پاکستان جیسے ملک میں مسلح جدوجہد کا کوئی جواز نہیں۔انہوں نے ہمیشہ جمہوری انداز اپنایااوراپنے موقف کو آئین سے ہم آہنگ رکھا۔حکومت ‘آج جس طرح جمعیت علمائے اسلام سے ایک ملیشیا اور مسلح گروہ برآمد کرنے کی کوشش کر رہی ہے‘وہ بہت مضحکہ خیز ہے۔پاکستان کی ہرجماعت جب کسی بڑی سیاسی سرگرمی کا اہتمام کر تی ہے تو اس کو منظم رکھنے کے لیے نوجوان کارکنوں کے گروہ ترتیب دیتی ہے ۔ بڑے اجتماعات کواسی طرح پُرامن اورمنظم رکھا جا تا ہے۔ہر بڑا سیاسی جلوس ان کے جلو میں چلتا ہے۔اب اگر آزادی مارچ کے لیے جمعیت علمائے اسلام نے نوجوانوں کا کوئی ایسا گروہ ترتیب دیا ہے تو اس میں انہونی بات کیا ہے؟وہ بطورِ دلیل پندرہ ایسے اجتماعات کا حوالہ دے رہے ہیں‘ جن میں لاکھوںافراد شریک ہوئے اور بدامنی کا کوئی ایک واقعہ نہیں ہوا۔ایسے گروہ سرکاری ا نتظامیہ کی معاونت کرتے ہیں۔

مجھے حیرت اس بات پر ہے کہ آج چھاج بھی چھلنی کو طعنے دے رہا ہے۔اس پر وہ سیاسی رہنما بھی معترض ہیں ‘جو بنفس نفیس تھانوں پر حملہ آور ہوئے اور اپنے کارکنوںکو بزور چھڑا لائے۔جنہوں نے اپنے احتجاج میں ہر لاقانونیت کو روارکھا‘تاہم مولانا کا سلامی لینا مجھے ایک بچگانہ حرکت لگی۔ان جیسے سنجیدہ آدمی سے میں ایسی مضحکہ خیزباتوں کی توقع نہیں رکھتا‘ جو ان کے لیے جگ ہنسائی کا باعث بنیں۔انہیں اپنے طرزِ عمل سے بتانا چاہیے کہ وہ اپنے مخالفین سے کیسے مختلف ہیں۔ایک مذہبی آدمی کا دوسروں کے مقابلے میںاپنی سنجیدگی اوراخلاقی برتری کے معاملے میں زیادہ حساس ہو نا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمن خود کوجمعیت علمائے ہند کا وارث کہتے ہیں۔ ان دنوں مولانا کی مخالفت میں جمعیت کے مسلم لیگ مخالف بیانیے کابھی احیا کیا جا رہا ہے اوربعض لوگ یہ ثابت کرنے کی کوشش میں ہیں کہ جمعیت علمائے ہند کی وراثت کا مطلب پاکستان دشمنی ہے اور مولانااسی ایجنڈے پر ہیں۔یہ بات بھی اتنی بے بنیاد ہے کہ اسے سنتے ہی مسترد کر دینا چاہیے۔پہلی بات یہ ہے کہ تاریخی حوالے سے کوئی چاہے تو جمعیت علمائے ہند کے موقف کو غلط کہے‘ لیکن ایک سیاسی موقف کی غلطی کو گناہ ثواب یاحب الوطنی کامسئلہ کیسے بنایاجا سکتا ہے؟

جس طرح مسلم لیگ کو یہ حق تھا کہ وہ برصغیر کے مسلمانوں کو درپیش مسائل کا ایک حل پیش کرے‘اسی طرح جمعیت علمائے ہند کو بھی یہ حق حاصل تھا۔اس میں برائی کیا ہے؟دوسرا یہ کہ اس کا تعلق ایک تاریخی واقعے سے ہے جو گزر چکا۔ایک تاریخی قضیے کا آج کے حالات سے کیا تعلق؟مولانا فضل الرحمن کا تعلق ایک ایسی نسل سے ہے‘ جو پاکستان میں پیدا ہوئی اور تقسیمِ ہند اس کا شخصی تجربہ نہیں۔ان کا پاکستان سے وہی رشتہ ہے‘ جو کسی بھی پیدائشی پاکستانی کا ہو سکتا ہے۔تاریخی تسلسل میں اگر کوئی اپنا رشتہ جمعیت علمائے ہند سے جوڑتا ہے تو اس سے اس کی پاکستانیت متاثر نہیں ہوتی۔یہ بات بھی سامنے رہنی چاہیے کہ جمعیت علمائے ہند سیاسی جدو جہد پر یقین رکھتی تھی‘تشددپر نہیں۔
مولانا سیاسی حرکیات سے اچھی تک باخبر ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ اقتدار کی سیاست زمینی حقائق کی بنیاد پر کی جا تی ہے۔اس میںمثالیت پسندی کاگزر نہیں ہوتا۔وہ اوّل وآخر ایک سیاست دان ہیں۔میرا خیال ہے کہ وہ ممکن حد تک تشددسے گریز کریں گے‘تاہم ا س کا بڑا انحصار حکومت کے رویے پر ہے۔حکومت اور بالخصوص عمران خان صاحب نے ان کے معاملے میں جس غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے‘اس کے بعدکچھ بھی ممکن ہے۔

عمران خان ابھی تک یہ نہیں سمجھ پائے کہ انہیں صرف تحریکِ انصاف کے لیے نہیں‘پورے پاکستان کے لیے وزیراعظم بنایا گیا ہے۔وہ اس وقت صرف ایک سیاسی جماعت کے نمائندہ نہیں ہیں۔وہ ان کی نمائندگی بھی کر رہے ہیں‘ جنہوں نے انہیں ووٹ نہیں دیا۔انہوں نے مولانا کے حامیوں کوقرض دینے کا اس طرح ذکر کیا‘ جیسے وہ ان پر احسان کریں گے۔یہ خبر بھی آچکی کہ جب بعض خیرخواہوں کی طرف سے انہیں مولانا فضل الرحمن کے بارے میں نازیبا الفاظ کے استعمال سے اجتناب کا مشورہ دیا گیا تو انہوں نے اسے حقارت سے ٹھکرادیا۔میرے لیے یہ تشویش کی بات ہے۔ایک وزیراعظم کبھی ایک سیاسی حریف کے بارے میں اس طرح کا لب و لہجہ اختیار نہیں کرتا۔کسی وزیراعظم کا خودکو ایک عام سیاست دان پر قیاس کرنا سیاسی حرکیات سے عدم واقفیت کی دلیل ہے۔
میرا احساس ہے کہ ہماری سیاست تیزی سے تشدد کی طرف بڑھ رہی ہے۔میں اس کا ذمہ داراُن سیاسی و غیرسیاسی قوتوں کو سمجھتا ہوں‘ جن کے ہاتھ میں حکومت وریاست کی باگ ڈور ہے۔مولانا فضل الرحمن ایک سال سے متحرک ہیں۔ حکومت نے اُن کے ساتھ بات کرنے کی بجائے‘انہیں تضحیک کا نشانہ بنائے رکھا۔یہی نہیں دوسری بڑی سیاسی جماعتوں کوبھی دیوار سے لگادیا۔ان کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں کہ وہ آزادی مارچ کا حصہ بن جائیں۔جب پانی سر سے گزرنے لگا تو اب مذاکرات کی داغ بیل ڈالی جا رہی ہے۔

میرا احساس ہے کہ اب بہت تاخیر ہو چکی۔میں ان کی کامیابی کے لیے دعاگو ہوں ‘مگر پُرامید نہیں؟سوال یہ ہے کہ حکومت مولانافضل الرحمن کو کیا ایسی پیشکش کر سکتی ہے‘ جو ان کے لیے باعث ِ اطمینان ہو؟
توکیا اب صورتِ حال تصادم کی جانب بڑھے گی؟کاش‘ میں اس کا جواب نفی میں دے سکتا۔مجھے مولانا فضل الرحمن کی بہت سے باتوں سے اتفاق نہیں۔ان میں سب سے اہم مذہب کا سیاسی استعمال ہے۔اس وقت ملک میں اسلام کو کوئی خطرہ نہیں۔نہ حکومت سے نہ کسی اور سے۔انہوں نے اگرمارچ کے دوران میں اپنے حامیوں کے مذہبی جذبات کو برانگیختہ کیا تو یہ ایک المیہ ہو گا‘ جس کا سب سے زیادہ نقصان خود مذہب کو ہوگا۔ اگر ایسا ہوا توتشدد کا راستہ روکنا ممکن نہیں ہو گا۔
2014ء میں جس سیاست کا آغاز ہوا تھا‘ہم اس کے فطری نتائج کی گرفت میں ہیں۔آج کیا ریاست اور کیا عام آدمی‘سب ایک بند گلی میں کھڑے ہیں۔افسوس کہ عمران خان اپوزیشن میں ذمہ دارانہ کردار ادا کر سکے اور نہ حکومت میں۔