اس درد کا علاج نہیں تیرے پاس بھی- اوریا مقبول جان

اخلاقیات اور شرم و حیا سے تہی‘ انفرادی ترقی اور مفادات کے تحفظ کا علمبردار اور کاروباری برتری کے پہیوں تلے شرم و حیائ، اخلاق و مروت‘ تہذیب و شائستگی اور بنیادی انسانی ہمدردی تک کو کچلنے والے سیکولر لبرل معاشرے میں کسی شریف اور باحیاء مرد یاعورت کا زندہ رہنا مشکل سے مشکل ترین ہوتا جا رہا ہے۔ کارپوریٹ سرمائے سے تخلیق کردہ اس سیکولر لبرل معاشرے کا سب سے بڑا ہتھیار میڈیا ہے جو اس کا ’’بھونپو‘‘ ہے۔ یہ میڈیا کسی کی عزت و تکریم میں اضافہ کرنے میں شاید کامیاب نہ ہو سکے لیکن کسی کو ذلیل و رسوا کرنے میں سوفیصد کامیاب ہے اور اس معاملے میں اس کا کوئی ثانی بھی نہیں۔ اگر یہ میڈیا کسی کو ذلت و رسوائی کے گڑھے میں پھینک دے تو پھر لاکھ کوشش کے باوجود بھی وہ یہ غلاظت اس کے چہرے سے صاف نہیں کر سکتا۔ ’’اس درد کا علاج نہیں تیرے پاس بھی‘‘ جس دن سے کارپوریٹ سیکولر لبرل معاشرے نے زندگی کے شعبوں میں عورت اور مرد کے اختلاط کو معاشی ترقی کا زینہ بنایا‘ اس وقت سے نئے نئے مسائل نے جنم لینا شروع کیا۔ ہر پیشے سے وابستہ معاشی‘ معاشرتی اور جسمانی مسائل ہوتے ہیں جنہیں انگریزی زبان میں Professional Hazardsپیشہ وارانہ خطرات کہا جاتا ہے۔ مثلاً کوئلے کی کان میں کام کرنے والے نظام تنفس کی خرابیوں کا شکار ہوں گے اور ٹیکسٹائل ملکوں کے کارکنان میں ٹی بی کی شکایات عام ہوں گی۔

اسی طرح جو خواتین جسم فروشی کے دھندے سے وابستہ ہوتی ہیں ان میں خوفناک جنسی امراض کثرت سے پائی جاتی ہیں۔ سیکولر لبرل معاشرے کا کمال یہ ہے کہ اس کے نزدیک کمائی اہم ہے‘ کمائی کے ذرائع سے اسے کوئی دلچسپی نہیں۔ اسی لئے جدید دنیا میں طوائف کو ’’Sex Worker‘‘ جنسی کارکن کہا جاتا ہے اور اس ’’عزت یافتہ‘‘ طبقے کی خیر خواہی اور اس کے مسائل کے حل کے لئے انجمنیں بنتی ہیں اور ان کے نفسیاتی‘ جسمانی اور معاشرتی مسائل کے حل کے لئے سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ پیشہ وارانہ خطرات کے تصور کو اگر وسعت دی جائے تو کچھ خطرات اور مسائل ایسے ہیں جو عورتوں کے مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے‘ علم حاصل کرنے یا معاشرتی اختلاط سے پہلے نہ ہونے کے برابر تھے۔ یہ تمام پیشہ وارانہ خطرات جدید معاشرت کی پیداوار نہیں۔ جن میں جنسی تشدد‘ سیریل کلرز کا لاتعداد عورتوں کو قتل کرنا‘ اغوا اور خصوصاً کام کاج کے مقامات پر جنسی ایذا دہی ’’Sexual Harassment‘‘ شامل ہے۔ یہ تصور اور جرم اسی وقت وجود میں آتا ہے جب عورت اور مرد کسی ایک ادارے میں اکٹھے ہوتے ہیں۔ خصوصاً جب مرد باس ہو اور عورت ماتحت یا پھر مرد استاد ہو اور عورت شاگرد۔ جنسی ایذا دہی کا یہ جرم اس قدر عام ہے اور اس کی جڑیں اس قدر گہری ہیں کہ دنیا کے ہر ملک میں اس کے بارے میں قانون بنائے گئے ہیں۔ لیکن کارپوریٹ ‘ سیکولر ‘ لبرل معاشرے کی شمع محفل اور مرکز نگاہ صرف اور صرف عورت کی ذات ہے۔ اس لئے اس قانون کا تعصب عورت کے حق میں واضح ہے۔

اس جنسی ایذا دہی یا ’’ہراس‘‘ کے قانون کے ساتھ دنیا بھر کے میڈیا اور جدید تحفظ حقوق نسواں کی تحریک نے ایک اور تصور پیش کیا ہے۔ جسے می ٹو(M2)یعنی ’’میں بھی‘‘ اس ایذا دہی کا شکار رہی ہوں۔ یہ شکار ہونا خواہ ستر سالہ بوڑھی کا چھ سال کی عمر میں ہی ہونا کیوں نہ ہو۔ اس اعلان بغاوت اور مردوں کے معاشرے کی تذلیل کا آغاز سب سے پہلے ہالی ووڈ کی اداکارائوں اور گلو کارائوں نے شروع کیا۔ ان کے لئے کوئی یہ نیا اور حیران کن عمل بھی نہیں تھا۔ مشہور گلو کارہ میڈونا نے تیس سال قبل اپنی شہرت کی انتہا پر کہا تھا ’’I lost my Virginity as a Career moveمیں نے اپنا کنوارا پن اپنے کیریئر کی سربلندی کے لئے قربان کیا۔ اسی دور میں ہیرالڈ رومینزHerald Robinsکا مشہور ناول ’’lonely lady‘‘آیا جو ایسی ایک کامیاب اداکارہ کی کہانی تھی جس نے کامیابی کی سیڑھیاں چڑھنے کے لئے جسم کو استعمال کیا۔ اس ناول پر فلم بنی جس نے مقبولیت کے پرچم گاڑے۔ کارپوریٹ سیکولر لبرل معاشرے کی اخلاقیات جب شرم و حیاء اور تہذیب و شرافت کے پرانے چھڑوں میں ملبوس معاشرے میں پہنچیں تو اس نے اسے ہلا کر رکھ دیا۔ لیکن اس سے متاثر صرف اور صرف وہی مرد اور خواتین ہوئیں جن کے نزدیک شرم و حیا اور تہذیب شرافت کوئی اہمیت رکھتے تھے۔ قحبہ خانوں اور جنسی اڈوں پر چھاپے پڑتے۔ اخبارات میں نام اور تصویریں بھی چھپتیں لیکن ان کی صحت پر کوئی اثر نہ ہوتا۔

لیکن ایسی خبر اگر کسی شریف ‘ با حیااور گھریلو لڑکی کے بارے میں منظر عام پر آتی تو مصیبتوں کے پہاڑ کھڑے ہو جاتے۔ کبھی وہ لڑکی خود کشی کر لیتی یا کبھی اس کا باپ یا بھائی اسے قتل کر دیتے بعض اوقات وہ اسے قتل کر کے خودکشی کر لیتے شہر چھوڑ دیتے۔ نام و پتہ تبدیل کر لیتے۔ پاکستان سے جب لوگ اپنے خاندانوں کے ساتھ ہجرت کر کے یورپ گئے تو وہاں جب انہوں نے اپنی جوان بیٹیوں کے بوائے فرینڈز دیکھے اور خودکشی بھی نہ کر سکے تو ذہنی مریض ہو گئے۔ بریڈ فورڈ میں 60ء کی دہائی میں نفسیاتی امراض کا ادارہ قائم ہوا جس کا نام تھا۔’’trans cultured unit of Psychiatry‘‘جس میں انہی پاکستانی مریضوں کی اکثریت تھی۔ جنسی ایذا دہی یا ہراس پر پہلے شریف عورتیں خودکشی کیا کرتی تھیں اور اب شریف مردوں کی خودکشی کا آغاز ہے اس لئے کہ آپ نے عورت کے ہاتھ میں ایک ایسا ہتھیار دے دیا ہے جس سے وہ صرف شریف مرد کو ذلیل و رسوا کر سکتی ہے۔ بدمعاش‘ جنسی مجرم‘ بے شرم اور بے حیاء لوگوں پر ان کا نہ پہلے کوئی اثر تھا نہ اب ہو گا۔ لاہور کے ایم اے او کالج کے پروفیسر افضل محمود نے ایک لڑکی کی حاضری کم ہونے پر نمبر کاٹے تو اس نے یہ درخواست دی کہ وہ لڑکیوں کو گھورتے ہیں۔

اخبار میں خبر لگی۔ لڑکی نے انکوائری کے سامنے بتایا کہ یہ اس نے غلط الزام لگایا تھا۔ لیکن اب تیر ہاتھ سے نکل چکا تھا۔ میڈیا اس پروفیسر پر ذلت کا کیچڑ پھینک چکا تھا، جسے دھونا اب اس کے لئے بھی ممکن نہ تھا۔ پروفیسر افضل نے انکوائری کرنے والی ڈاکٹر عالیہ کو خط لکھا کہ اسے انکوائری نے بے گناہ قرار دیا ہے اسے اس کا سرٹیفکیٹ دیا جائے۔ لیکن کسی کی عزت ڈاکٹر عالیہ کو عزیز تھی اور نہ پرنسپل فرحت عبادت کو۔ اور اس شخص نے یہ کہتے ہوئے خودکشی کر لی’’میری بیوی بھی بدکردار قرار دے چکی ہے۔ میرے پاس زندگی میں کچھ نہیں بچا۔ میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کر رہا ہوں‘‘ یہ معاملے اللہ ہی کے سپرد ہیں۔ اس لئے کہ سیکولر لبرل اخلاقیات میں پہلے شریف اور باحیا عورتیں خودکشی کرتی تھیں اب شریف اور باحیاء مرد خود کشی کرتے ہیں۔ جس نے شرم و حیا کھو دی وہ زیادتی کرنے کا اعتراف کرے یا زیادتی ہونے کا اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔