رضاعی بھائی بہن محرم ہونے کی میڈیکلی کیا وجوہات ہیں؟ - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

السلام علیکم : رضاعی بھائی بہن محرم ہونے کی میڈیکلی کیا وجوہات ہیں؟ ایک کنفیوز مسلمان کو مطمئن کرنا ہے۔ وہ جاننا چاہتا ہے کہ جس طرح سگے بھائ بہن ایک نطفے سے پیدا ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے پر حرام ہیں تو دودھ پینے کی وجہ سے حرمت کیوں ثابت ہے؟ (آپریشن ارتقائے فہم گروپ مین پوچھا گیا)

جواب : ہم میں سے بہت سے لوگ "بولی" ( Colostrum ) سے واقف ہیں ۔ یہ ہلکی پیلاہٹ لیے شفافیت کی طرف مائل ابتدائی دودھ ہوتا ہے جو گائے بھینس کے ہاں بچھڑے کی پیدائش کے فورا بعد جاری ہوتا ہے ۔ اس کا رنگ عام دودھ سے مختلف ہونے کی وجہ اس کی consistency کا فرق ہے ۔ اس ابتدائی دودھ میں بہت سے بیماریوں سے بچاو کے لیے اینٹی باڈیز موجود ہوتے ہیں ۔ یہ ابتدائی دودھ خوراک بھی ہے ویکسین بھی ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دودھ میں غذائی اجزا کی مقدار بڑھ جاتی ہے یعنی لحمیات نشاستہ اور چکنائی کی مقدار بڑھنے کی وجہ سے رنگ تبدیل ہو جاتا ہے لیکن ماں سے ملنے والی اینٹی باڈیز جاری رہتی ہیں ۔ نیز اگر والدہ کو کوئی ایسی بیماری ہے جس کے جراثیم دودھ میں خارج ہوتے ہیں تو وہ جراثیم بھی دودھ پینے والے بچے تک پہنچ جائینگے ۔ مثلا ایڈز ۔ ہیپاٹائٹس کے جراثیم اس صورت میں ٹرانسفر ہوں گے اگر نپل پر کوئی زخم ہو جہاں سے خون یا مواد رستا ہو ۔ جو بھی خوراک ہم لیتے ہیں وہ ہمارے جینیٹک میک اپ پر بھی اثر انداز ہوتی ہے اور دفاعی نظام ہر بھی ۔ ایک ہی ماں کے دودھ شریک بہن بھائی دراصل اس کی بیماریوں اور اینٹی باڈیز کے شریک بھی ہو جاتے ہیں ۔ اور جینیٹک میک اپ میں بھی مماثلت در آنا عین ممکن ہے(اسے ابھی ثابت کیا جانا باقی ہے ) ۔ عموما یہ اثرات مغلوب جینز میں اسٹور کیے جاتے ہیں اور غالب جینز جو اپنے حقیقی والدین سے ملی ہوتی ہے اس کی خصوصیات ظاہر ہوتی ہیں اس لیے بظاہر رضاعی بہن بھائی ایک سے نظر نہیں آتے ۔

فطرت کا اصول ہے کہ بہترین کا چناو کرتی ہے اور کمزور پیچھے رہ جاتا ہے یا نابود ہو جاتا ہے ۔ ایک ہی خاندان میں نسل درد نسل شادی کرتے چلے جانے والوں میں وہی جینز اور کوموسومز چلتے رہتے ہیں کیونکہ انہیں خاندان کے باہر سے ورائٹی نہیں ملتی ۔ اب ہوتا یہ ہے کہ ماں باپ دونوں کی طرف سے ملنے والی مغلوب خصوصیات ایک ساتھ مل کر غالب یا بہتر خاصیت پر قابو پا لیتی ہیں اور مغلوب خاصیت ظاہر ہو جاتی ہے ۔ جو عموما فطرت کے چناو میں کمزور ثابت ہوتی ہے ۔ مثلا شوگر یا تھیلیسیمیا کا مرض بعینہ اگر رضاعی بہن بھائی کا بیاہ کر دیا جائے تو ایک جس نے اپنی والدہ کا دودھ پیا ہے اس کی غالب خاصیت رضاعی شریک کی مغلوب خاصیت سے ملکر اولاد میں ظاہر ہو گی ۔ یہ نہ صرف موروثی بیماریوں میں اضافہ کا باعث بنے گی بلکہ انفیکشنز کے پھیلاو کا سبب بھی ہو گی دودھ بمثل خون زندہ ہوتا ہے ۔ اسے ہدیہ کرتے ہوئے سوچ سمجھ کر فیصلہ کیجیے محض جذباتیت میں بچوں کی مشکلات مت بڑھائیں ۔ نیز اگرایسا کرنا کسی بچے کی زندگی بچانے کے لیے ضروری ہو تو اسے سمجھدار ہوتے ہی واضح طور پر رشتے کی حرمت سمجھا دی جائے ۔ ایک مومن مسلم کی حیثیت سے ہمارے لیے یہی کافی ہے کہ رضاعی بہن بھائی کی شادی رب العالمین نے منع فرمائی ہے

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.