بیگم کی خفگی - ام محمد سلمان

90"یہ برتن اتنا پٹخ پٹخ کے کیوں دھو رہی ہیں آپ !!! آرام سے دھو لیں ناں بیگم....!!" "ہم کہتے ہیں چپ رہیے آپ!! پہلے ہی غصہ سوا نیزے پر ہے ہمارا۔ دعوت کریں، بلائیں، کھلائیں، پلائیں اور پھر باتیں بھی سنیں... حد ہوتی ہے بے حسی کی۔" " ارے ہوا کیا ہے یہ تو بتائیں؟"

"ہونا کیا ہے..؟ باتیں سنا کریں ذرا اپنی بھابی بیگم کی۔ اور وہ آپ کے بھائی صاحب...!! جب دیکھو بیوی کی خوبیاں بیان کرنے میں زمین آسمان کے قلابے ملا رہے ہوتے ہیں۔ میری بیگم ایسی خوش قسمت... میری بیگم یہ... میری بیگم وہ.. میری بیگم کے آنے سے پیسوں کی ریل پیل ہو گئی چاروں طرف!!! اور آپ کیا چپ کر کے سنتے رہتے ہیں جی!! منہ توڑ جواب کیوں نہیں دیتے انھیں؟"
"ارے بھئی بیگم! ہم کیا بولیں.. ان کی بیگم واقعی ان کے لیے لکی ثابت ہوئی ہیں۔ ہم تو شروع دن سے دیکھتے چلے آرہے ہیں جب سے بڑے بھائی کی شادی ہوئی تب سے ہی خوش قسمتی نے ان کے قدم چوم لیے... دیکھو ذرا اپنا کیسا شاندار ذاتی گھر بنا لیا.. بچے بھی سب اچھے گھروں میں بیاہ دیے ۔ جب سے ان کی شادی ہوئی، ان کا کاروبار ترقی ہی کرتا گیا اور ایک ہم ہیں..!!" ادریس میاں نے ٹھنڈی آہ بھری ۔ "کیا مطلب؟؟ "ہم ہیں" سے مراد کیا ہے آپ کی؟ آپ کی بیوی بد قسمت ہے؟ بد بخت ہے؟ کہنا کیا چاہ رہے ہیں آپ؟" "ارے ارے بیگم!! خدا کو مانو!! آپ کو بد قسمت اور بد بخت کہنے کی ہماری مجال کہاں...؟" "تو پھر بھائی کے سامنے زبان کیوں نہیں کھلتی آپ کی..؟ وہ جو بار بار کہتے ہیں کہ آپ کی بیگم کی قسمت اچھی نہیں ہے ۔" راحت افزا نے دیگچی مانجھتے ہوئے جیٹھ جیٹھانی کا سارا غصہ اسی پر نکال دیا۔ دیگچی بھی آج اپنی قسمت کے چمکنے پر سرشار سب برتنوں میں الگ ہی لشکارے مار رہی تھی۔

ادریس میاں ہنستے ہوئے بولے.."بس کر دو بیگم!! اب دیگچی کی کھال ادھیڑو گی کیا؟" مگر راحت افزا کہاں سننے والی تھیں اب دیگچی کے بعد توے کی باری تھی۔ اسٹیل کے جُونے سے توے کا بھی کام تمام ہوا ۔ لشکارے مارتا ہوا خوشی خوشی چولہے کے نیچے اپنی جگہ پہ جا سویا ۔ بیگم!! ایک کپ چائے بھی بنا دیں ساتھ ساتھ.. ادریس میاں بولے ۔ " صرف ایک کپ کیوں؟ ہم نہ پئیں..؟ بس آپ ہی پیتے رہیں۔ آپ ہی کو بنا بنا کر دیتے رہیں؟ دیکھ نہیں رہے، صبح سے لگے لگے تھک گئے ہیں ہم ۔" ارے بابا!! ہم نے کب منع کیا ۔ اپنے لیے بھی بنا لیجیے، آج تو جلال ہی ختم ہونے میں نہیں آرہا.. کون سی مرچیں چبائی ہیں؟ "ہونہہ.. ذرا کچھ کہہ دیں تو صاحب کو لگتا ہے ہم نے مرچیں چبا لی ہیں۔" راحت افزا نے دانت پیستے ہوئے چائے کا پانی چولہے پر رکھا۔ جتنے میں چائے تیار ہوئی باقی ماندہ کچن سمیٹا اور چائے کی ٹرے لے کر میاں کے پاس آ بیٹھیں ۔ ادریس میاں ایک گھونٹ بھرتے ہی بولے.. "چائے بنانے میں تو جواب نہیں آپ کا" گھر بسانے میں بھی جواب نہیں ہمارا.... جو اٹھارہ سال سے بسائے بیٹھے ہیں آپ کے ساتھ!! راحت افزا ترکی بہ ترکی بولیں۔ ادریس میاں زور سے ہنس دیے ۔ موڈ میں ہوتے تو بیگم کی ساری لن ترانیاں ہنستے کھیلتے برداشت کر لیتے تھے ۔
بس آپ ان سے کہہ دیجیے ہمارے لیے ایسی باتیں نہ کیا کریں..

یہ بھی پڑھیں:   میاں بیوی کے "مثالی" تعلقات اور عالمی سفارت کاری ( ذرا سی بات ) - محمد عاصم حفیظ

پہلے اپنی بیگم کے گن گاتے تھے اب اپنی بچیوں کے نصیب کے بھی ٹھیکے دار بن بیٹھے ہیں۔ جب دیکھو تب وہی قصے... کہ بیٹیوں نے سسرال میں چار چاند لگا دیے۔ حالانکہ اندر کی ساری باتوں کی کسے خبر نہیں بھلا....!! "بھئی آپ کچھ بھی کہیں بیگم!! حقیقت تو یہی ہے کہ روپیہ پیسہ عورت کے نصیب سے آتا ہے۔ بڑوں سے ہمیشہ یہی سنتے آئے ہیں کہ اولاد مرد کے نصیب سے اور پیسہ عورت کے نصیب سے ۔ اب خود ہی دیکھ لو میں تو قسمت کا دھنی ہوں۔ اللہ نے بیٹے سے بھی نوازا اور بیٹی سے بھی، دونوں بچے میری خوش قسمتی کی علامت ہیں ۔ اور گھر کے اخراجات دیکھ لیں کس طرح سے پورے ہوتے ہیں، یہ آپ کی بد قسمتی کی علامت نہیں تو اور کیا ہیں!!؟ اب آپ کے نصیب ہی ایسے ہیں ہم کیا کریں۔ شادی کے وقت اچھا بھلا چلتا کاروبار تھا، چند سالوں میں ہی ختم ہو گیا۔ لے دے کہ ایک سرکاری تنخواہ پہ گزارا کرنا پڑ گیا۔" ادریس میاں نے ہنستے ہنستے پھر ان کے تن بدن میں آگ لگا دی تھی۔ راحت افزا کے کان پک چکے تھے یہ سب سن سن کے... آج تو پھٹ ہی پڑیں.. "ایک بات بتائیے صاحب!!! گھر کے کون سے خرچے ہیں جو میری بد قسمتی کی وجہ سے پورے نہیں ہو رہے؟ گیس بجلی کے بل نہیں بھرے جاتے؟ بچوں کی فیسیں نہیں بھری جاتیں، دواؤں کا خرچ پورا نہیں ہوتا؟ آئے روز کے مہمانوں اور تقریبات کے خرچے پورے نہیں ہوتے؟ گھر کی دال روٹی نہیں چل رہی....؟ آخر کون سے کام ہیں جو رکے ہوئے ہیں، آج تو بتا ہی دیجیے ہمیں؟"

"ارے یہ سب خرچے تو سب کے پورے ہو جاتے ہیں بھئی!! ہم تو اس سے کچھ آگے بڑھنے کی بات کرتے ہیں.. آج تک اپنا ذاتی گھر تو بنا نہیں سکے۔ بھائی صاحب کو ہی دیکھ لیں تین تین گھر بنا لیے انھوں نے اور ایک ہم ہیں...." "اللہ کا شکر ادا کیجیے صاحب !! عزت سے ایک چھت کے نیچے رہ تو رہے ہیں، گھر ساجھے کا ہے تو کیا ہوا؟ کرائے کا تو نہیں ہے. شکر ادا کیجیے رب تعالیٰ کا ۔ اور ہاں ایک بات آج ہماری بھی سن لیجیے.. یہ جو خوش قسمتی کا بخار آپ کو چڑھا رہتا ہے ناں ہر وقت.. لائیے آج اسے بھی اتار دیتے ہیں۔ ذرا بتائیے تو کون سا قسمت کے دھنی ہیں آپ!!! ہمیشہ اسی پر خوش رہتے ہیں کہ بیٹا بیٹی دونوں مل گئے ۔ دو بچوں پر اٹھلاتے پھرتے ہیں اور اپنی خوش قسمتی کے راگ الاپتے نہیں تھکتے۔ ذرا ہماری بھی تو سنیے... کتنی تمنا تھی دل کی.. کم از کم آٹھ دس بچے تو گھر میں کھیلتے کودتے نظر اتے۔ کوئی گود میں چڑھتا، کوئی کندھے پر سوار ہوتا... بڑی بچیاں گھر کے کاموں میں مدد کرتیں، بیٹے آپ کا سہارا بنتے.. کسی کو حافظ عالم بناتے، کسی کو کاروبار کرواتے... لیکن یہ شاید آپ کے نصیبوں کی خرابی تھی جو آٹھ دس بچوں کی بجائے دو پر ہی گزارا کرنا پڑ رہا ہے ۔ دونوں سکول مدرسے چلے جاتے ہیں تو راحت افزا اکیلی دیواروں کو تکتی رہ جاتی ہیں ۔ میرے دو بچے دنیا میں آنے سے پہلے ہی چلے گئے، اگر ہوتے تو کتنا اچھا ہوتا، کتنی رونق ہوتی میرے گھر میں...

یہ بھی پڑھیں:   کلچر یا اسلام ‎- ایمن طارق

کبھی آج تک آپ سے گلہ کیا کہ وہ دونوں بچے آپ کی بدبختی کی وجہ سے ایکسپائر ہو گئے۔ بتائیے ناں.. کہاں گئی آپ کی خوش قسمتی؟ قسمت تو آپ کی بھی ایسی ہی ہے. آپ کو بھی صرف دو بچے ہی ملے ہیں، کوئی فوج نہیں بنا لی آپ نے بچوں کی ۔ عجیب دستور ہے معاشرے کا.. اولاد ایک بھی ہو تو مرد قسمت کا دھنی اور ذرا جو گزر بسر میں تنگی پیش آئے تو وہ عورت کی قسمت کی خرابی ۔ راحت افزا تو اور بھی بہت کچھ کہہ رہی تھیں مگر ادریس میاں کو لگا انھوں نے آئینہ آج ہی دیکھا ہے ۔ یہ تو کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ ان کی کون سی آٹھ دس اولادیں ہیں جس پر اتراتے پھریں... لے دے کے دو بچے...!! اور وہ "دو" جو اس دنیا سے چلے گئے تو کیا میری قسمت کا کھوٹ تھا...؟؟؟ "نہیں نہیں یہ سب تو اللہ کے ہاتھ میں ہے". کہیں اندر سے فوراً ہی آواز آئی... (واہ ادریس میاں! اپنی باری پہ فوراً اللہ کی طرف رجوع... کمال ہے ۔) میں ہمیشہ بھائی بھابیوں اور دنیا والوں کی باتوں میں آ کر بیوی کو کم نصیبی کے طعنے دیتا رہا اور کبھی اپنے نصیبوں پر تو غور ہی نہیں کیا....!! راحت افزا کی بھی تو خواہش تھی بہت سارے بچے ہوتے.. شروع کے چند سالوں میں جب دونوں بچے مدرسے چلے جاتے تو کتنا رویا کرتی تھیں "اللہ مزید اولاد سے نوازے۔" اور میں ہمیشہ اپنے ہی غرور میں مبتلا رہا ۔ ہمیشہ لوگوں کے کہنے پہ بیگم کو ہی ستاتا رہا، طعنے دیتا رہا.

بیگم کی دی ہوئی قرآن حدیث کی دلیلوں پہ کبھی کان ہی نہیں دھرے، آج کیسا طمانچہ مار گئی ہیں منہ پہ ۔ بے شک اولاد بھی اللہ ہی دیتا ہے، جسے چاہے جتنی چاہے اور رزق بھی اللہ ہی دیتا ہے. جسے چاہے کھول کر دے، جسے چاہے تنگ کر دے. عورت کے نصیب سے مال اور مرد کے نصیب سے اولاد کا ہونا سنی سنائی بات کے علاوہ کچھ نہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ نیکی، شرافت، اعتبار، خلوص اور وفاداری اس رشتے میں سب سے بڑی دولت ہیں۔ دولت اور اولاد نصیبوں کے کھرے کھوٹے ہونے کا معیار نہیں۔ دولت مند ہونا اللہ کی نظر میں پسندیدہ ہونے کی علامت نہیں اور غریب ہونا مبغوض ہونے کی علامت نہیں ۔ دولت تو اللہ نے فرعون کو بھی دی تو کیا وہ اللہ کا پسندیدہ بن گیا تھا..؟ نہیں ناں!! قیامت تک کے لیے مبغوض قرار پایا ۔ اور دو جہانوں کے سردار محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیسی زندگی گزار کے گئے اس دنیا سے اور کیا پسند کیا اپنے لیے...؟ "اے اللہ! مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ ، اور اسی حالت میں موت دے اور قیامت کے روز مسکینوں کے ساتھ حشر فرما"۔ غربت و تنگ دستی کوئی شرم کی بات نہیں ہے۔ یہ بھی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے اور اللہ کو پسند ہے۔ بس رزق کی کمی کے بہانے نہ ستایا کریں اللہ کی بندیوں کو!! یہی تو ہیں جو ہر تنگی ترشی میں آپ کا بھرم رکھتی ہیں ۔