اور اب رجب طيب اردوان - توقیر ریاض

اُردوان کی زبان درازی ہی ايک آنکھ نہ بھاتی تھی کسی کو اور اب تو اُس نے باقاعدہ دست درازی بھی کر دی ھے ۔ محمد مرسی کا کيا جرم تھا ابھی بمشکل ايک سال ھوا تھا ، ليکن ديکھنے والی آنکھ نے ديکھ ليا تھا کے وہ مسلمان بھی ھے غيرت مند بھی اور اب مصری حکمران بھی اب اتنی ساری خوبياں ايک انسان ميں ھوں .

وہ بھی اسرئيل سے اونچی آواز کی دوری پر ، ايک سال ميں پہلے معيشت کی منڈی مروڑ کر گھٹنوں کے بل گرائيا اور پھر جرنل سيسی جيسے کھلونے کو چابی دے کر چھوڑ ديا آگے کيا ھوا اپ سب جانتے ہيں ۔ ۱۵ جولائ ۲۰۱۶ کو رجب طيب اردوان کے خلاف بھی ايسی ہی سازش رچی گئ ، اس کو فتح اللہ گلين نے ترتيب ديا يا فوج نے يہ الگ بحث ھے ليکن اسکے تانے بانے سفيد گھر کے مالکوں سے ہی جوڑے تھے ۔ باغيرت ترک سڑکوں پے نکل اۓ ، ٹينکوں کے آگے ليٹ گے اور صبح ھونے سے پہلے سازش کا اندھيرا بھی غارت ھو چکا تھا ۔طيب اردوان اب پہلے سے زيادہ طاقت ور زبان دراز ھو چکا تھا ۔ ۲۰۱۸ ميں دوسرا حربہ آزمايا گيا ،پہلے ٹيرف ھائ کر کے برآمدات ميں بريک لگائی گی اور پھر فانيشل کرائسسز سے ترک ليرا کو تباہ و برباد کرنے کی کوشش کی گئ ظاہر ھے اس سے طيب اردوان کی مقبوليت ميں کمی آتی ، پھر غيرت مند ترکوں نے مل کر اس کراسئز کا مقابلہ کيا اور ليرا پھر سے مستحکم ھوا ، يہ وار بھی خالی گيا۔ زيادہ پرانی تاريخ نہيں شاہ فيصل ، ياسر عرفات (کم از کم شروعاتی) ، قذافی اور صدام حسين ، انکی کی اپنی کمياں کوتائياں اپنی جگہ سفيد ھاتھی کو کس نے حق ديا دنيا ميں چابک اُٹھاۓ نام نہاد انصاف قائم کرنے کا جمہوريت قائم کرنے کا ، اور اگر واقعی مقصد انصاف اور جمہوريت ہی تھا .

تو کل کے عراق اور لبيا کا آج سے موازنہ کر ليجئے آپکو ايسے انصاف اور جمہوريت سے تعفن اور بد بو ہی آئے گی ۔ اپنے ملک کے دفاع اور سالميت کی حفاظت کا زمہ طيب اردوان کا ھے ، گرد بڑی تعداد ميں ترکی ، شام اور عراق ميں آباد ہيں اور سلطنت عثمانيہ کے خلاف سازش ميں بھی شريک تھے ، تب سے آج تک ترک اور کرد ايک دوسرے کا دلی طور پر تسليم نہيں کرتے ، ايسے ميں جب عالمی استعماری قوتيں بھی ترکی کے خلاف ہيں کردوں کا طاقت پکڑنا وہ بھی ترکی کی ناک کے نيچے خطرناک ھو سکتا تھا ، اور ھو سکتا ھے يہ کاروائ کسی بڑی اينٹيلی جنس کی بنياد پر ھو ليکن جس طرح پہلے امريکہ نے حمائيت کی ، اپنی فوجوں کو نکالا اور اب اچانک سے نہ صرف اقتصادی پابندياں بلکہ شامی فوج کے در پردہ حمائيت بھی ، کھيل پھر سے شروع ھے جو صدام کے خلاف کھيلا گيا ، جو لبيا ميں باغيوں کے زريع کھيلا گيا ، شامی فوج اور کرد منظم ھو رہے ہيں سفيد گھر کا مالک پھر سے پيچھے کھڑا ھو رہا ھے ، جمہوريت ، انصاف کا راگ پھر سے چالو ھے ، آسمان پر مردار خور گدھ منڈلا رہے ہيں ، مسلمان ، غيرت مند اور حکمران برداشت نہيں وہ بھی اسرائيل سے اونچی آواز کی دوری پر ۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com