حکیم محمد سعید شھید پاکستان - صائمہ وحید

پاکستان کا وجود دشمنان اسلام کو ابتداء ہی سے کھٹکتا رہا ہے ۔ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لئے ہمیشہ پاکستان سے مخلص،امین و صادق قیادت کو چن کر قتل کیا گیا۔حکیم محمد سعید کی شھادت بھی پاکستان اور سندھ کی عوام کے لئے خصوصا عظیم نقصان ہے۔

حکیم صاحب نے اپنے سادے اثاثے پاکستان کی ترقی، عوام کی فلاح وبہبود کے لئے وقف کردئے۔ مدینتہ الحکمت ، ہمدرد یونیورسٹی ، اسکول ، لائبریری ، دیگر ادارے ، بچوں کے لئے خصوصی تربیت،ہمددد نونہال جاری کیا۔اپ نے اپنی سیرت،کرداد،صلاحیت،۔ قابلیت،ذہانت کے سارے ہیرے ، موتی، جواہر پاکستان کی ترقی، علم کی روشنی، عوام کی خدمت پر لٹائے۔ ان کی بامقصد زندگی،جدوجہد،حق گوئ،امانت ہمارے لئے ذندہ مثال ہے۔وہ سندھ کے گورنر بھی رہے۔انکے دور میں سندھ صوفیاء کرام رح کی پرامن دھرتی، اور کراچی عروس البلاد ہوتا تھا . حکیم صاحب کے دور حکومت میں سندھ اور کراچی میں بھی تیز بارشیں ہوتی تھیں۔مگر کرنٹ سے عوام نہی مرے۔۔وہ طبیب ، استاد ، بہترین منتظم عوام دوست شخصیت ، ہر دلعزیز شخصیت تھے۔انکی شھادت کے بعد ایسے گورنر بھی سندھ کی عوام پر مسلط ہوئے۔جو ہر تقریب میں گٹار پر دھن بجا کر شریک محفل کو گانا سنانا۔اپنا فرض عین ، ذمہ داری ، فخر سمجھتے تھے۔ پھر جب وہ اپنے عہدہ فارغ ہوئے تو ۔بمعہ اہل و عیال۔۔بمعہ مال و اسباب دبئ کو پیارے ہوگیے۔جب وہ گاتے تھے تو ہمارا دل روتا تھا۔

صوفیاء ،اولیاء کرام رح کی دھرتی سندھ۔۔اس کے ذمدار۔۔۔ہمیں حکیم صاحب کی شخصیت، ایمان افروز تقریں یاد آتیں۔۔حکیم صاحب کے بعد جو خلا پیدا ہوا وہ آج تک پر نہی ہوا۔سندھ کے عوام کی حالت بدتر، دگرگوں ہے، سگ گزیدگی، ڈینگی سے لوگ مر رہے ہیں۔کراچی عروس البلاد سے کچرے،بدبو ،کھنڈر میں تبدیل ہوگیا۔کوئ پرسان حال نہی۔اقتدار کے ایوانوں میں مفاد پرست،بے رحم ،،بدعنون قابض و براجمان ۔غریب عوام بے یار و مددگار ہیں۔ایسے میں نظر ڈھونڈتی ہے دل بے اختیار فریاد کناں ہے۔اے رب کریم۔اب بس ۔۔رحم عوام پر۔حکیم محمد سعید جیسی ہستی ہمارے اقتدار واختیار کے ایوانوں میں برسر اقتدار کردے۔جو کراچی کو پھر کے عروس البلاد،صاف،پر فضاء بنادے۔جو سندھ کو صوفیاء کی امن دھرتی بنادے ۔جو عوام کو جہالت غربت کے اندھیروں سے نکالے۔اپنا تن، من، دھن سب پاکستان اور پاکستان کی عوام پر قربان کرے۔جو اپنے اسلاف کی قربانیوں کا حق ادا کرے۔اے شھید پاکستان آپ کی یاد میں ہمارے دل افسردہ ہیں۔ خدا آپ کے درجات بلند کرے۔۔۔"آسمان تیری لحد پر شبنم افشانی کرے"۔