اقبال، جناح اور مذہبی کارڈ II- ڈاکٹر صفدر محمود

ہماری صدیوں پر محیط تاریخ کے اس اہم مسئلے پر ذرا گہرائی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ سطحی نظر غلط نتائج اخذ کرسکتی ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ جب مغل سلطنت کی کمزوری، انتشار اور بےبسی نے مسلمان دشمن قوتوں کو انتقام پر ابھارا تو مرہٹوں، جاٹوں، سکھوں اور ہندو سورمائوں نے اپنے آپ کو ایک تحریک کی صورت میں منظم کرکے مسلمان نوجوانوں کے قتل عام کا سلسلہ شروع کردیا۔

تب شاہ ولی اللہؒ نے مسلمان سرداروں اور علاقائی حکمرانوں کو خطوط لکھے جن کا متن یہ تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں اور اسلام کی بقا کے لئے مسلمانوں کا کسی نہ کسی حصے میں حکمران رہنا ناگزیر ہے۔

سرسید، اقبال اور قائداعظم تینوں رہنمائوں نے عملی زندگی کا آغاز مسلمان ہندو اتحاد سے کیا لیکن ہندو لیڈروں کو قریب سے دیکھنے اور ان کے باطنی عزائم کو بھانپنے کے بعد اس خواب کو ترک کردیا اور اپنی صلاحیتیں قومی وجود کی بقا کے لئے وقف کر دیں۔

1944میں علی گڑھ یونیورسٹی میں طلباء سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے مسلمانوں کے لاشعور میں موجزن اسی آرزو کو بےنقاب کیا جب کہا کہ اس (مطالبۂ پاکستان) میں میرا کوئی کمال نہیں۔ میں نے فقط وہ بات کہہ دی جو مسلمانوں کے دلوں میں پوشیدہ تھی۔

علی گڑھ میں ہی پاکستان کے خواب پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان اُسی روز بن گیا تھا جس روز ہندوستان کی سرزمین پر پہلا شخص مسلمان ہوا۔ کیوں؟ اس لئے کہ مسلمان اپنے تہذیبی، سماجی، شخصی، فکری اور مذہبی حوالے سے اپنا الگ تشخص رکھتا ہے جو ہندوئوں سے بالکل مختلف ہے۔

غور کرنے کی بات صرف اتنی سی ہے کہ مسلمان کو اسلام سے علیحدہ نہیں کیا جا سکتا، اس لئے جب مسلمانوں کے قومی وجود اور بقا کا سوال ہوگا تو سب سے پہلے ذکر مذہب کا ہوگا لیکن یہاں مذہب کسی قسم کا مذہبی کارڈ نہیں بلکہ قومی تشخص، پہچان اور انفرادیت کی علامت ہے، اگر آپ مرشدی اقبال کا خطبہ الٰہ آباد اور خاص طور پر ان کے جناح کے نام خطوط پڑھیں تو احساس ہوگا کہ وہ علیحدہ وطن کا مطالبہ مسلمانوں کے معاشی مفادات، تہذیبی، علمی، سماجی اور مذہبی عوامل کے پیش نظر کررہے تھے۔

ان کے نزدیک ہندو مسلم فسادات کا عمل تھا۔ قائداعظم کے تصور پاکستان کا بغور مطالعہ کریں تو وہ مسلمانوں کو ہندو غلبے اور اکثریتی جبر سے نکال کر ایک ایسے خطہ زمین کا حصول چاہتے تھے جہاں مسلمان اسلامی اصولوں کے تحت آزادی سے زندگی گزار سکیں۔

اسی لئے انہوں نے سینکڑوں بار کہا کہ پاکستان کے آئین اور قانونی ڈھانچے کی بنیاد اسلامی اصولوں پر رکھی جائے گی۔

کیا متحدہ ہندوستان میں ایسا ممکن تھا؟ اقبال اور قائداعظم دونوں کا تصورِ پاکستان ایک اسلامی جمہوری مارڈن ریاست کا تھا، جس گاندھی کی آر ایس ایس کے ہاتھوں موت کو ہمارے لبرل دانشور مسلمانوں کی ہمدردی کا شاخسانہ کہتے ہیں انہیں یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ گاندھی نے اپنے مقبول عام رسالے ’’ینگ انڈیا‘‘ میں اس طرح کے مضامین چھاپے جن میں آر ایس ایس اور ہندو توا کی بو آتی تھی اور جن میں کہا گیا تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں سے نپٹنے کے تین طریقے ہیں۔ اول چونکہ وہ ہندوئوں سے مسلمان ہوئے ہیں اس لئے انہیں زبردستی ہندو دھرم میں شامل کرلیا جائے۔

دوم اس کے لئے کئی تحریکیں بھی چلیں اگر وہ یہ نہ مانیں تو انہیں ہندوستان سے نکال دیا جائے، سوم اگر یہ نسخہ بھی کارگر نہ ہو تو انہیں سمندر برد کردیا جائے (بحوالہ محمد امین زبیری، سیاستِ ملّیہ، صفحہ175-6)۔

کیا ہندو توا کی فلاسفی یہی نہیں ہے۔ آج آر ایس ایس یہی نہیں کررہی؟ مودی نے اپنی وزارت اعلیٰ میں گجرات کے مسلمانوں کا قتل عام کروا کر یہی ٹریلر پیش نہیں کیا تھا؟ اسے انہی مسلمان کش پالیسیوں کی وجہ سے ہندو اکثریت کی حمایت حاصل ہوئی اور اسی ایجنڈے کے تحت آج کشمیر ظلم و ستم کی نگری بنا ہوا ہے۔

جب پاکستان کی بنیاد ہی دو قومی نظریے پر ہے اور اسی نظریے کو ہندوستانی مسلمانوں کی 75فیصد نے 1945-46میں ووٹ دئیے تھے تو پھر اس نظریے کو حب الوطنی کا معیار کیوں نہ بنایا جائے؟ چند ماہ قبل ایک بھارتی ٹی وی چینل پر دیکھا کہ ایک ہندو دانشور خاتون عیدالاضحی کے حوالے سے حقارت کے لہجے میں کہہ رہی تھی کہ ہندوستان سرکار کو قربانی پہ پابندی لگا دینا چاہئے۔ مسلمان جانوروں کا خون بہاتے اور گندگی پھیلاتے ہیں۔ انہیں چاہئے کہ وہ بکرے کی شکل کا کیک بنوا کر گھر لائیں اور اسے کاٹ لیں۔

ایک اور مغالطے کی وضاحت اور تردید بھی ضروری ہے۔ اقبال و جناح کے حوالے سے کہنا کہ انہوں نے ’’پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ‘‘ کا نعرہ لگایا، تاریخ نہیں بلکہ بہت بڑا مغالطہ ہے۔ علامہ اقبال تو اپریل 1938میں وفات پا گئے تھے۔ اس وقت ابھی یہ نعرہ وجود ہی میں نہیں آیا تھا۔

قائداعظم نے نہ کبھی یہ نعرہ لگایا نہ اس سے وابستگی ظاہر کی۔ دراصل یہ مسلم لیگ کے جذباتی کارکنوں کا نعرہ تھا جو گلیوں محلوں میں جلوس نکالتے تھے۔ اصغر سودائی اسلامیہ کالج سیالکوٹ میں پروفیسر رہے بحیثیت طالبعلم 1944میں لکھی گئی ان کی نظم کا ایک مصرع تھا جو لیگی کارکنوں کے دلوں کو چھو گیا اور تاریخ کا حصہ بن کر اصغر سودائی کو ’’امر‘‘ کر گیا۔

ملک غلام نبی مرحوم تحریک پاکستان کے معتبر کارکن اور مسلم لیگ کے عہدیدار تھے۔ وہ اپنی یادداشتوں پر مشتمل کتاب ’’داغوں کی بہار‘‘ میں لکھتے ہیں کہ دسمبر 1947میں کراچی میں مسلم لیگ کا تاریخی اجلاس ہوا جس کی صدارت قائداعظم کررہے تھے۔

ایک لیگی کونسلر اٹھا اور کہا ’’قائداعظم ہم لوگوں سے کہتے آئے ہیں کہ پاکستان کا مطلب کیا لا الٰہ الا اللہ...‘‘ قائداعظم نے فرمایا، آپ تشریف رکھیے یہ نعرہ نہ میں نے لگایا نہ ہی میری ورکنگ کمیٹی نہ ہی مسلم لیگ کونسل نے ایسی قرار داد پاس کی تھی‘‘ (ص430) ہمارے دانشور بہت سے مغالطوں کو ہوا دیتے رہتے ہیں۔

بہرحال اب یہ مغالطہ رفع ہوجانا چاہئے مسلم لیگ کی اعلیٰ قیادت نے کبھی ایسا نعرہ نہیں لگایا، ان کی ساری جدوجہد ایک اسلامی جمہوری مارڈن پاکستان کے لئے تھی اور سیاسی مقاصد کے لئے مذہب کا استعمال ناپسند کرتے تھے البتہ پاکستان کا حصول سیاسی نہیں قومی مقصد تھا۔