خاکوانی صاحب کے آج کے کالم " کتابوں کی صحبت میں " پر تبصرہ - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

بہت عمدہ کالم ۔ اور متنوع موضوعات/شخصیات کو " کتاب " کی ڈور سے پرو دیا۔ ایک محاورے کا ذکر کیا ۔ والدہ مرحومہ عموما اسے اس طرح کہا کرتی تھیں کہ اس کی زبان کے آگے تو خندق ہے یعنی سب کچھ بےلاگ کہہ دیتا / دیتی ہے ۔ "خندق نہیں ہے" اسی لیے نامانوس یا متضاد مفہوم کا حامل محسوس ہوا۔

ایک ساتھ دو یا زیادہ کتب ایک ساتھ پڑھنے کی عادت شاید متنوع ڈائجسٹس کے مستقل قارئین کی عادت ثانیہ بن جاتی ہے۔ ہر ماہ سسپنس ،جاسوسی، عالمی، سرگزشت، اردو ،خواتین، شعاع ،پاکیزہ کے ساتھ ساتھ لائیبریری کی چاٹ،اشتیاق احمد کے ماہانہ چار ناولز غرضیکہ جو مل جائے اسے گھول کے پی لینے کی عادت بھی ایک نشے کی سی کیفیت ہوا کرتی تھی ۔ آج کے ڈیجیٹل دور کے بچے اس لطف سے بہت حد تک بیگانہ ہیں۔ کتاب پڑھنے والا ایک ہی نشست پر بیٹھے بیٹھے تمام دنیا بلکہ کائنات کا سفر کر آتا ہے ۔کتاب کا موضوع ماضی ہو یا مستقبل، سیاحت ہو یا روحانیت ، عسکری یا سیاسی، ایک زرخیز تخیل قاری کے لیے، دوران مطالعہ وہ موضوع ، اس کا حال بن جاتا ہے ۔ ایک بہترین قاری دوران مطالعہ ، کتاب اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے لیکن خود کتاب کے اندر کی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے ۔ اس تخیل کی وضاحت ایک انگریزی فلم "جمانجی" سے بخوبی ہو جاتی ہے جس میں گیم کے کھلاڑی خود گیم میں داخل ہو کر کبھی جنگل میں پہنچ جاتے ہیں تو کبھی ماضی کا سفر طے کرتے ہیں . تحریر سے لطف و انبساط کشید کرنے کی بھی کیا کہیے کہ زبان و بیان کا چٹخارہ دنیا کے ہر ذائقے سے بڑھ کر ہے اور اس کی یاد تا دیر باقی رہتی ہے ۔

ذہن کے گوشوں کو متاثر کرنے والے جملے رہ رہ کر ذہنی جگالی کا باعث بنتے اور اسی انبساط سے دوچار کرتے ہیں جو دوران مطالعہ پہلی بار محسوس ہوتا ہے ۔خوشونت سنگھ کو پڑھنے کا اشتیاق تو بہت ہے لیکن تاحال اس دیار کی سیاحت سے محروم ہوں۔ آج کی یاددہانی سے یہ خفتہ عزم پھر بیدار ہوا ہے دیکھیے کیا بنتا ہے ۔شکیل عادل زادہ صاحب کی بازی گر بلاشبہ ایک ورک آف آرٹ ہے ۔ سب رنگ ایک تبرک کی طرح ملتا تھا اور تبرک ہی کی مانند سنبھال کر رکھا جاتا تھا ۔ اس ڈائجسٹ کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ شاندار کہانیوں کا چناو اس رسالے کی ہر ایک جلد کو قیمتی خزانے کی شکل دے دیتی تھی ۔ ادب و زبان کے کبھی پرانے نہ ہونے والے سلسلے اس کا حصہ تھے ۔ کاش یہ حسین پھول ہر ماہ باقاعدگی سے کھلتا رہتا ۔ تاکہ اس گلدستے کی رونق تاقیامت بڑھتی رہتی۔ طاہر جاوید مغل صاحب سے بھی انہی رسالوں کے توسط تعارف ہوا ۔ تاوان اور دیوی کا ذائقہ تو اب تک آنکھوں میں ٹھہرا ہوا ہے ۔ چونکہ رسالے پڑھنے کا سلسلہ موقوف ہو چکا اس لیے انگارے سے محروم رہ گئی ۔ کف افسوس ملنے کے سوا کیا کیا جا سکتا ہے ۔ قارئین سے گزارش ہی کی جا سکتی ہے کہ جب بھی کسی عمدہ سلسلہ آغاز ہو ہمیں آگاہ کر دیا جائے تاکہ اس کمی سے بچنے کی سعی کی جا سکے ۔

علیم الحق حقی صاحب کے متعدد سلسلے خصوصا عشق کا شین و ق اور احمد اقبال صاحب کی شکاری میرے لیے ایک استاد کی سی حیثیت رکھتے ہیں۔ لوگ باتھ روم سنگر ہوتے ہیں ۔ ہماری نسل باتھ روم و ڈائننگ ٹیبل ریڈرز تھے۔ رات کی نیند بھی کتاب کی دشمن محسوس ہوتی تھی۔ای بکس پڑھنے کی کوشش کی لیکن اس میں وہ مولوی مدن کی سی بات کہاں ۔ دل ہی نہیں لگتا سو یہ سلسلہ زیادہ نہیں چل پایا ۔ کہے فقیر کے اقتباسات گاہے پڑھنے کو ملتے رہتے ۔ tit bits میں ہی سہی کچھ نہ کچھ رہنمائی میسر آ جاتی ہے ۔ شاہ صاحب سے ملاقات کا اشتیاق ہے لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہ خواب ،تعبیر سے محروم ہی رہے گا ۔ کاش کہ ان سے ٹیلیفون رابطے کی کوئی سبیل میسر آ جائے ۔ لیکن پھر سوچتی ہوں کہ کبھی کنویں نے بھی پیاسے کے گھر تک پائپ لائن بچھائی ہے ۔ انہی کی مانند پروفیسر احمد رفیق اختر صاحب اور بابا یحیی سے ملاقات کا اشتیاق بھی دل میں انگڑائیاں لیتا رہتا ہے۔ دیکھیں نصیب میں کس چشمے سے سیرابی مقدر ہے ۔
منیزہ ہاشمی صاحبہ اور ان کے صاحبزادوں نے یہ ثابت کیا ہے گھنے برگد کے سائے تلے پنپنے والے ننھے بوٹے بھی بھرپور درخت بننے کی صلاحیت سے مالا مال ہوتے ہیں ۔

محترمہ کے نامدار کا ایک انٹرویو دیکھنے کا موقع ملا جس میں ان کا میٹھا سا گلہ یہ تھا کہ لوگ مجھے منیزہ کے شوہر کی عرفیت سے پہچانتے ہیں ۔ میرے کام پر ایک حد تک بیگم کے قد بت کا پردہ سا پڑ گیا ہے ۔ یہ گلہ مردانہ ایگو کا شاخسانہ ہے ۔ خواتین اپنے والد شوہر یا اولاد کے تعارف سے پہچانے جانے میں تفاخر کا ایک پہلو ہمیشہ رکھتی ہیں لیکن مرد کے لیے خاتون کے تعارف سے پہچان پانا کچھ زیادہ دلچسپ بات نہیں ہوتی۔ خاکوانی صاحب کے کالم میں کتب سے محبت عیاں ہے ۔کتابی تخیل سے جنم لینے والی دنیا کی تازگی ہر پڑھنے والے کو یقینا محسوس ہوتی ہے۔ اتنی بسیار نویسی(کالمز، سوشل میڈیا اسٹیٹس اور کمنٹس) کے باوجود قلم کی روانی متاثر کن ہے ۔ رب کریم اپ کے نافع حلم ،عمل، علم اورقلم کو قائم دائم رکھے ۔
خاکوانی صاحب کے کالم کا لنک
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=2902066846487445&id=100000524739362

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.