مکافاتِ عمل- ہارون الرشید

الطاف حسین اور بھٹو کی طرح کپتان کے فدائین بھی بے شمار مگر کیا وہ اس کی تقدیر کا فیصلہ کریں گے ‘ یا وہ حی القیوم، جسے نیند آتی ہے اور نہ اونگھ ۔ رحمتہ اللعالمینؐ کا فرمان یہ ہے کہ خدا کی مخلوق خدا کا کنبہ ہے ۔ بھٹو کا اقتدار بعد میں چھنا مگر شاید آسمانوں میں ان کی معزولی کا فیصلہ 23مارچ 1973ء کو ہو گیا تھا ۔لیاقت باغ میں اپوزیشن کے جلسہ عام پر گولیوں کی بارش ہوئی اور دس لاشیں اٹھاکے ولی خان جب دریائے کابل کے پار پہنچے۔ الیکشن 1970ء میں سندھ اور پنجاب کے میدانوں میں بھٹوفاتح بن کے ابھرے اور ان کی فتح بے داغ تھی ۔ بعد میں آنے والے لیڈروں کے برعکس فوجی قیادت کے احسان مند نہ تھے ۔ 1958ء میں بھٹوبیشک سکندر مرزا کے دربار سے ابھرے اور آٹھ برس تک فیلڈ مارشل ایوب خان کے سایۂ عاطفت میں جیئے، جنہیں وہ ڈیڈی کہا کرتے ۔ ایشیاکا ڈیگال اور سلطان صلاح الدین ایوبی ۔ سرگوشیوں میں اور کبھی بلند آواز میں جنہیں یک جماعتی نظام کا مشورہ دیا کرتے ۔اور یہ کہ ضلعی سطح پر حکمران پارٹی کے اختیارات ڈپٹی کمشنر اور سپرنٹنڈنٹ پولیس کے پاس ہونے چاہئیں۔

1965ء میں وہ فیلڈ مارشل کے متبادل امیدوار تھے اور حکمراں کنونشن لیگ کے سیکرٹری جنرل۔اس صدرِ ذی وقار کے جس نے قائدِ اعظم کی بہن کو غدّار کہا تھا۔ صدر کو شکایات ان کے بارے میں ہمیشہ سے تھیں۔ گاہے ان کی بے ریااور بے باک اہلیہ نصرت بھٹو ایوانِ صدر جا پہنچتیں کہ وہ خود غرض اور خود پسند ہیں اور مہم جو بھی۔ ایوب خان کے اعتماد سے غالباً وہ جنگِ ستمبر کے ہنگام محروم ہوئے ۔ جیسا کہ کمانڈر انچیف جنرل موسیٰ خاں اور بہت سے دوسرے لوگوں نے بعد میں واضح کیا ، انہی نے مقبوضہ کشمیر میں مہم جوئی کا مشورہ دیا تھا ۔ ۔۔مکمل طور پر صدر کو یقین دلادیا تھا کہ بھارت بین الاقوامی سرحد پہ حملہ نہ کرے گا ۔وہ مہم ، جس کے نتیجے میں تیزی سے ترقی کرتا پاکستان معاشی طور پر تباہی کے دھانے پر آکھڑا ہوا ۔ ایوب خاں منتظم اچھے تھے مگر بھٹو اتنے ہی بڑے شاطر، شکر پارہ فروش‘ ہمیشہ اور ہر حال میں۔انسانی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کے خوگر ‘شکر پارہ فروش۔ رسولِ اکرمؐ کے فرامین میں سے ایک یہ ہے کہ لالچی جھوٹے آدمی کے ہاتھوں لٹتا ہے ۔ صاحبِ اقتدار کی مٹی لالچ میں گندھی ہوتی ہے ۔

پاکستان میں پہلی بار جدیدصنعت کی بنیادیںفیلڈ مارشل ایوب خان کے عہد میں رکھی گئیں ، جدید زراعت کی بھی ۔ ایک اعتبار سے اسی عہد کا پھل ہم کھا رہے ہیں کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری اسی وقت ابھری اور پھلتی پھولتی رہی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے پانچ سالہ اقتدار میں ایٹمی پروگرام کی اساس اٹھائی گئی ۔ زیادہ گہرے تعلقات مسلم دنیا سے استوار ہوئے ۔ آئین تشکیل دیا گیا، بھارت کو ٹھکانے پر رکھا گیا ۔ امریکی ڈکٹیشن قبول کرنے سے انکار کر دیا گیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عام پاکستانیوں پر پاسپورٹ آفس کے دروازے کھول دیے گئے ۔ اسی کا ثمر آج تک ہم سمیٹ رہے ہیں ۔ با ایں ہمہ قائدِ عوام کے زریں دور میں شرحِ نمو اڑھائی فیصد سے زیادہ کبھی نہ بڑھ سکی ۔ زرعی اصلاحات کا ڈول ڈالا مگر زیادہ تر پنجاب میں ۔ سندھی جاگیردار مامون رہے۔بے شک بھٹو قوم پرست تھے مگر ایک اعتبار سے سندھی قوم پرست بھی۔ صنعت کاروں کی تذلیل کی ۔کچھ صنعتیں تباہ کر دیں اور کچھ سرکاری تحویل میں لے لیں ۔ آج جن پر ایک ہزار ارب روپے سالانہ برباد ہوتے ہیں ۔ بھٹو کا ناقابل معافی جرم یہ ہے کہ سرمایہ کار کو اس نے پاکستان کے مستقبل سے مایوس کر دیا جو قائد اعظم کی محبت اور ان کی ترغیب پر آئے تھے۔ ڈٹ کر ان کی تذلیل کی۔ ایک چیز کپتان اور بھٹو میں مشترک ہے ، خوئے انتقام۔ بدلے ہوئے حالات میں ، مخالفین پر وہ گولیاں نہیں برسا سکتا ۔

سینکڑوں اور ہزاروں کو جیلوں میں ٹھونس نہیں سکتا مگر تذلیل کے درپے ضرور رہتاہے ۔ چینیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستانی معاشرہ بدعنوان ہے اوربدعنوان بھی ایسا کہ احتساب کا کوئی نظام نہیں رکھتا ۔فرمایا! جس طرح چا ر سو وزیروں اور افسروں کو آپ نے پھانسی دی ہے ، جی چاہتاہے کہ میں بھی پانچ سو آدمیوں کو دیواروں کے پیچھے دھکیل سکوں ۔ارے بھائی وہاں وزیروں کو پھانسی دی گئی یہاں خسرو بختیار کا کوئی بال بیکا نہ کر سکا۔ الفاظ کے چنائو میں ہمیشہ سے موصوف غیر محتاط ہیں ۔وسطی یورپ کے جرمنی اور مشرقِ بعید کے جاپان کو ہمسایہ بنا دیتے ہیں ۔ انکشاف فرماتے ہیں کہ القاعدہ کے دہشت گردوں کو تربیت آئی ایس آئی نے دی تھی ۔ جذبات سے مغلوب لیڈر کو ادراک ہی نہ تھا کہ سرمایہ کاروں کو مدعو کرتے ہوئے اپنی قوم اور ملک کے عیب نہیں بیان کیے جاتے کہ ہمہ وقت مغربی میڈیا کیڑے ڈالتا رہتاہے ۔ خو مگر بدلتی نہیں ۔ سرکارؐ کے ایک فرمان کا مفہوم یہ ہے : کوئی اگر یہ کہے کہ احد پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل سکتاہے تو یہ مانا جا سکتاہے لیکن عادت نہیں بدلتی ۔ عادت، جب وہ فطرتِ ثانیہ ہو جائے ۔ سب جانتے ہیں ، خیر خواہی کرنے والے سب جتلا چکے کہ سرمایہ حساس ہوتاہے ۔ نیب کی فیصلہ سازی کے انداز اور وزیرِ اعظم کی دھمکیوں سے خوف جنم لیتا اور دولت بھاگ کھڑی ہوتی ہے ۔ موصوف مگر ایک کان سے سنتے اور دوسرے سے نکال دیتے ہیں ۔

خود کو انہیں آسودہ رکھنا ہے ، معیشت جائے بھاڑ میں ۔ بھٹو سے کپتان مختلف بھی ہے ۔ انہی کی طرح بلکہ ان سے بڑھ کر کرشماتی ۔ بھٹو پڑھے لکھے زیادہ تھے ۔ اپنے عصر سے آشنا ۔ اپنے زمانے سے واقف ۔ اپنے دور کی سیاسی تحریکوں کے شناور ۔ محفلیں بھٹو بھی برپا کیا کرتے مگر کام کی بات زیادہ ، تھوڑی سی تفریح بھی ۔ کپتان قصیدہ سننے کا عادی ہے یا حریفوں کی غیبت ۔ خاص طور پہ شریف خاندان کی، جنہیں وہ ’’ڈینگی برادرز‘‘ کہا کرتا ۔ یہ الگ بات کہ امسال ڈینگی نے اس قدر یلغار کی کہ شریف دور سے اس کاموازنہ کے ٹو سے شملہ پہاڑی کا مقابلہ کرنے کے مترادف ہوگا۔ زرداری اور شریف تو لوٹ مار ہی کرتے رہے ، بھٹو کی بیٹی بھی ۔ بھٹو کی طرح خان کے کچھ کارنامے بھی ہیں ۔ اقتدار میں آنے سے پہلے اپنے بل بوتے پرعالمی کپ اور نمل کالج بھی مگر شوکت خانم تو عزم و ہمت کا ایک استعارہ ہے ۔ ایثار اور الفت و انس کا بھی ۔

ہاں! مگر خوئے انتقام! فیڈرل سکیورٹی فورس کے نام سے بھٹو نے ایک ذاتی فوج بنائی تھی ۔ اسی فوج نے احمد رضا قصوری کے والد اور کچھ دوسرو ں کو قتل کیا تھا ، جس کی جزا میں ایک دن وہ پھانسی کے پھندے پر جھول گئے ۔ خان صاحب نے کردار کشی کرنے والوں کا ایک لشکر پالا ہے اور اس پر انہیں فخر بھی ہے ۔ ابھی تجربہ کر لیجیے ۔ دس ٹویٹ خان کی حمایت میں کیجیے ، پھر ایک میں تنقید ۔ آپ کے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے ۔ مدّاح بھٹو اور الطاف حسین کے بھی بہت تھے، بے شمار جاں نثار ۔الطاف حسین اور بھٹو کی طرح کپتان کے فدائین بھی لا تعداد مگر کیا وہ اس کی تقدیر کا فیصلہ کریں گے ؟ یا وہ حی القیوم، جسے نیند آتی ہے اور نہ اونگھ۔ رحمتہ اللعالمینؐ کا فرمان یہ ہے کہ خدا کی مخلوق خدا کا کنبہ ہے ۔