بلبلِ حرم اب خطیبِ حرم بن گئے! ضیاء چترالی

آج دوپہر کو جاری ہونے والے شاہی فرمان میں میری محبوب ترین شخصیت فضیلة الشیخ ڈاکٹر بندر بن عبد العزیز بلیلہ کو مسجد حرام کا خطیب مقرر کیا گیا۔
حضرت شیخ اگرچہ مسجد حرام کے سب سے جونیئر امام ہیں، مگر اپنی کانوں میں رس گھول دینے والی شہد جیسی میٹھی آواز، بہترین ادائیگی، عمدہ اسلوب تلاوت اور ظاہری حسن و جمال کی وجہ سے وہ سینئر ائمہ حرم سے بھی زیادہ پسند کئے جانے لگے ہیں۔

ابھی انہیں امامت حرم کا عہدہ سنبھالے 4 برس ہی ہوئے ہیں کہ عرب و عجم میں ان کا لہجہ بے حد مقبول ہوگیا ہے۔ بلاشبہ ان جیسی شیریں آواز اور ترتیل کے ساتھ تلاوت کرنے والے قاری ائمہ حرمین میں سے کوئی نہیں۔ باقی ائمہ ترتیل کے بجائے حدر میں تلاوت کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب مکہ مکرمہ سمیت اکثر سعودی عرب میں ائمہ مساجد ان کی تقلید کی کوشش کرتے ہیں۔ شیخ بلیلہ کی رقت طاری کر دینے والی حلاوت سے پر شیریں آواز کی وجہ سے انہیں ”بلبل ِ حرم“ کے لقب سے نوازا جانے لگا ہے۔ عرب ذرائع ابلاغ کے مطابق مسجد حرام میں نمازیں ادا کرنے والے دنیا بھر کے حجاج و عمرہ زائرین نے ایک سروے میں ائمہ حرم میں سے شیخ بلیلہ کی تلاوت کو سب سے زیادہ پسند کیا ہے۔ خاص کر کے جب وہ طرز لگا کر ترتیل کے ساتھ قرآن کریم پڑھتے ہیں تو سامعین پر وجد طاری ہو جاتا ہے اور وہ اپنے جذبات پر قابو کھو جاتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ جن ائمہ و قراء کی تلاوت سنی جاتی ہے، ان میں شیخ بلیلہ بھی شامل ہیں۔ یوٹیوب میں ان کا ایک ایک کلپ لاکھوں بار سنا اور دیکھا جا چکا ہے۔ دوران تلاوت خاص مقامات پر شیخ بلیلہ پر اکثر رقت طاری ہو جاتی ہے اور سامعین کو بھی وہ رونے پر مجبور کر دیتے ہیں۔

الشیخ بندر بلیلہ کا تعلق بھی مکہ مکرمہ سے ہے۔ انہوں نے حفظ قرآن کی سعادت کائنات کی افضل ترین مسجد (حرم شریف) کے حلقہ درس سے حاصل کی اور ابتدا سے ماسٹر تک کے تمام تعلیمی مدارج بھی مکہ مکرمہ میں پورے کئے ہیں۔ وہ بچپن سے مسجد حرام میں نمازیں پڑھتے رہے۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایک دن انہیں اسی عظیم ترین مسجد میں امامت کا اعزاز حاصل ہو گا۔ شیخ بلیلہ 1395ھ میں مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے۔ مسجد حرام میں حفظ قرآن کے بعد مدرسہ سیدنا عثمان بن عفانؓ میں داخل ہوئے۔ پھر مدرسہ (اسکول) سیدنا طلحہؓ سے انٹر کرنے کے بعد 1413ھ میں عالم اسلام کی عظیم درسگاہ جامعہ ام القریٰ میں داخل ہوئے۔ جہاں سے 1417ھ میں وہ گریجویشن کرکے فارغ ہوئے۔ پھر اسی جامعہ میں فقہ اسلامی پر ماسٹر کیا۔ ان کا موضوع وہ مسائل تھے، جن پر علامہ ابن قدامہؒ نے اجماع نقل کیا ہے۔ 1422ھ میں انہوں نے اعلیٰ نمبروں کے ساتھ ماسٹر کا امتحان پاس کیا۔ پھر وہ پی ایچ ڈی کے لیے مدینہ منورہ چلے گئے اور وہاں کی مشہور یونیورسٹی، جامعہ اسلامیہ میں داخل ہوئے۔ شیخ بلیلہ نے وہاں فقہ شافعیؒ کی غیر مطبوعہ کتاب (مخطوطہ) ”الشامل فی فروغ الشافعیة“ پر پی ایچ ڈی مکمل کر کے اعلیٰ نمبر حاصل کئے۔

واضح رہے کہ حرمین شریفین کے تمام ائمہ کرام پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہیں اور اس منصب جلیلہ پر فائز ہونے والے کیلئے پی ایچ ڈی شرط ہے۔1429ھ میں PHD مکمل کر کے وہ واپس مکہ مکرمہ آئے اور حرم شریف میں تدریس کے فرائض سر انجام دینے لگے۔ بعد ازاں وہ مکہ کی اصلاحی کمیٹی کے رکن منتخب ہوئے۔ پھر شیخ بلیلہ کو جامعہ طائف میں اسسٹنٹ پروفیسر مقرر کیا گیا۔ اس عہدے پر اب بھی وہ کام کر رہے ہیں۔ امامت کا عہدہ سنبھالنے سے قبل متعدد بیرونی ممالک سے انہیں تراویح پڑھانے کے لیے مدعو کیا گیا۔ ان میں کویت، بحرین، قطر اور زیورخ وغیرہ شامل ہیں۔ شیخ بلیلہ سب سے پہلے مکہ مکرمہ کی مسجد شیخ السبیل میں امام مقرر ہوئے، یہیں سے ان کی شیریں آواز کا ملک بھر میں چرچا ہو گیا۔ جس کے بعد انہیں شاہ عبد العزیز مسجد بلایا گیا، بعد ازاں وہ مسجد منشاوی میں امام مقرر ہوئے۔ اس کے بعد وہ امام حرم شیخ فیصل کے ساتھ مسجد الہدی میں تراویح پڑھاتے رہے۔ شیخ بلیلہ کچھ اور مساجد میں بھی امامت و خطابت کرتے رہے۔ پھر 2012ء میں مسجد شیخ ابن باز کے امام شیخ ناصر زہرانی نے استعفیٰ دے دیا اور مذہبی امور کی وزارت نے شیخ بلیلہ کو وہاں کا امام و خطیب مقرر کیا۔ اگلے ہی سال شیخ بلیلہ کی قسمت کا ستارہ چمکا اور شاہی فرمان جاری ہوا کہ شیخ بلیلہ اس سال رمضان میں مسجد حرام میں پوری دنیا کے مسلمانوں کی امامت کرائیں گے۔

شیخ بلیلہ نے 2013ء کے رمضان میں تراویح پڑھا کر اس عظیم عہدے کو سنبھالا۔ ویسے مسجد حرام میں مستقل ائمہ کے ساتھ صرف تراویح کے لیے وقتی ائمہ کا تقرر ہوتا ہے، جو صرف ختم قرآن میں امامت کرتے ہیں۔ مگر شیخ بلیلہ کی آواز نے سامعین سمیت حکام کو اپنا اسیر بنا لیا اور انہیں رمضان کے بعد دنیا کی سب سے بڑی اور عظیم ترین مسجد کا امام مقرر کیا گیا۔ شیخ بلیلہ حرم شریف میں عموماً فجر کی نماز پڑھاتے ہیں۔ 2015ء میں مجھے فریضہ حج کی ادائی کے دوران ائمہ حرم میں سے شیخ بلیلہ کی تلاوت سب سے زیادہ پسند آئی اور میں ان کا دلدادہ ہو گیا۔ اس کے بعد روزانہ کئی کئی گھنٹہ بھی انہیں سنوں تو دل نہیں بھرتا۔ شیخ بلیلہ موقع کی مناسبت سے آیات کا انتخاب کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ مکہ میں شدید بارش ہوئی، گرج چمک کے ساتھ کڑاکے کی آوازیں بھی آرہی تھیں۔ اس دوران عشاء کی نماز شروع ہوئی تو شیخ بلیلہ نے سورة الرعد کی تلاوت شروع کر دی اور وہی آیات پڑھنے لگے، جن میں بارش، بادل اور بجلی چمکنے کا ذکر ہے۔ جب حج کی ادائی کے بعد حجاج مکہ سے وطن لوٹنے لگے تو سورة الحج کی وہی آیات پڑھ کر انہیں الوداع کیا، جن میں حج سے واپسی کا ذکر ہے۔