بگرام جیل، میری یہی کوشش تھی کہ زندہ چھوڑ دیں

افغانستان میں بگرام کی جیل سے سنہ 2014 میں رہائی پانے والے چند لوگوں کی کہانیاں ایک نجی تنظیم منظرِ عام پر لے کر آئی ہے۔ ان قیدیوں کی رہائی کے لیے تگ و دو کرنے والی تنظیم جسٹس پراجیکٹ پاکستان نے ان قیدیوں کی زندگی پر ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں قیدیوں نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی ہے۔

’فیسس فرام دی فرنٹئیر، سٹوریز آف بگرام ڈیٹینیز‘ (سرحد کے چہرے: بگرام جیل کے قیدیوں کی کہانیاں) میں پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے 43 افراد کی کہانیاں ہیں جن کو افغانستان کے مختلف شہروں سے کسی نہ کسی شک کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا۔

سالہا سال بگرام جیل میں رہنے کے باوجود بھی ان کے خلاف لگائے گئے الزامات ثابت نہ ہوسکے۔ جس کے بعد ان قیدیوں کو بگرام جیل سے سنہ 2014 میں رہا کیا گیا۔ لیکن اس عرصے میں ان تمام لوگوں کی زندگیاں نہ صرف بری طرح متاثر ہوئیں بلکہ رہا ہونے کے پانچ سال بعد بھی یہ افراد معمول کی زندگی میں واپس نہیں آ پا رہے ہیں۔

’میری یہی کوشش تھی کہ مجھے زندہ چھوڑ دیں‘
شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے برکت خان سنہ 2006 میں نوکری کی تلاش میں پہلے پشاور گئے اور وہیں ان کے ساتھ کام کرنے والے ایک کاریگر نے انھیں جلال آباد، افغانستان میں ایک عمارت میں مزدوری کرنے کے بارے میں بتایا۔


دیہاڑی پر کام کرنے والے برکت اپنا تھوڑا بہت سامان لے کر جلال آباد پہنچے جہاں ان کو ایک زیرِ تعمیر عمارت میں کام کرنے کا کہا گیا۔ وہ کہتے ہیں ’کام کافی زیادہ تھا تو بغیر کوئی سوال پوچھے میں نے ان کے ساتھ کام کرنا شروع کردیا۔‘ اسی عمارت کے کام سے فارغ ہونے کے بعد برکت کو اس کے احاطے میں سونے کے لیے جگہ بنانی پڑی لیکن کچھ روز بعد اس عمارت میں افغان فوج نے محاصرہ کر کے تمام افراد کو گرفتار کرلیا۔

’مجھے چھوٹے سے تنگ کمرے میں رکھا گیا۔ اور روز مارا جاتا تھا۔ سخت سردیوں میں اسی تنگ کمرے میں ایئر کنڈیشنر اور شدید گرمی میں ہیٹر چلا دیتے تھے۔ اس کے بعد پھر سے مارنا شروع کرتے تھے۔ میں پوچھتا تھا، بہت سوال کرتا تھا کہ مجھے کیوں مار رہے ہو، میرا قصور کیا ہے؟ لیکن بعد میں سوال پوچھنے کی ہمت بھی ختم ہوگئی۔ پھر میری کوشش یہی ہوتی تھی کہ مجھے زندہ چھوڑ دیں۔‘ برکت نے آٹھ سال قید میں گزارے اور اُن کی رہائی سنہ 2014 میں ہوئی۔ ان گرفتاریوں کی وجوہات آج تک سامنے نہیں آسکیں۔ حالانکہ برکت کے خلاف کوئی بھی الزام ثابت نہیں ہوسکا۔

’ہر داڑھی رکھنے والا طالبان نہیں ہوتا ہے‘
وزیرستان سے تعلق رکھنے والے عثمان یوسف کی گرفتاری کابل سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر سنہ 2007 میں ہوئی تھی۔ عثمان کا تعلق تبلیغی جماعت سے ہے جس کی وجہ سے ان کا افغانستان آنا جانا رہتا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ لوگ کابل سے کچھ فاصلے پر تھے جب ان کی گاڑی کو امریکی افواج نے روکا اور سب کو گاڑی سے باہر آنے کو کہا۔

یہ بھی پڑھیں:   علامہ اقبال ؒ اور آج کا پاکستان-میر افسر امان

’میرے ساتھ موجود دس افراد میں سے مجھے میری لمبی داڑھی کی وجہ سے الگ کیا گیا۔ میں نے امریکی افسر کو کہا کہ ہر داڑھی والا مجاہد نہیں ہوتا۔ جس پر مجھے وہیں مارنا پیٹنا شروع کردیا گیا۔‘

عثمان نے کہا کہ ان پر کابل سے پاکستانی مجاہدوں کو اسلحہ سپلائی کرنے کا الزام لگایا گیا۔ ’اسی دوران کہیں سے اسلحہ بھی برآمد کروایا گیا اور مجھے جھوٹ بولنے پر مزید مارا گیا۔ مجھے آج بھی امریکی سپاہی کے بُوٹ یاد ہیں جن سے وہ مجھے ہر سوال پوچھنے کے بعد مارتا تھا۔‘ عثمان کو سات سال قید میں رکھا گیا۔

ایران سے عراق اور پھر بگرام تک کا سفر
پنجاب سے تعلق رکھنے والے ہارون پاکستان میں چاولوں کا کاروبار کرتے تھے۔ اسی خاطر سنہ 2004 میں وہ ایران کے تاریخی شہر قُم گئے۔ جہاں انھوں نے اپنا کاروبار مزید مضبوط کرنے کے لیے تگ و دو شروع کی۔ ہارون نے بتایا کہ کیونکہ اس وقت محرم کا مہینہ تھا تو انھوں نے وہاں سے ہی عراق جانے کا سوچا۔

لیکن اسی دوران عراق کے ایک ہوٹل میں جہاں وہ رہ رہے تھے برطانوی فوج نے کارروائی کر کے کئی لوگوں کو گرفتار کیا جن میں ہارون بھی شامل تھے۔ اسی دوران فوج نے فائرنگ شروع کی جس کے نتیجے میں بھگدڑ مچ گئی اور اس سب کے دوران ہارون بے ہوش ہو گئے۔


’مجھے ہوش آنے پر پتہ چلا کہ میرے ہاتھ زنجیر سے بندھے ہوئے ہیں، میرے کئی دانت ٹوٹ چکے تھے اور میں صحیح سے سانس نہیں لے پارہا تھا۔ مجھے کئی دن تک قید میں زنجیروں میں باندھے رکھا گیا۔ اس کے بعد مجھے امریکی فوج کے حوالے کردیا گیا۔‘ ہارون کو اس واقعے کے دس سال بعد رہائی ملی۔

بگرام سے رہائی پانے والے پاکستانی قیدیوں کی بات اب کیوں؟
پاکستان سے بگرام کی قید میں پہنچنے والے زیادہ تر پاکستانیوں کا تعلق مزدور طبقے یا تجارت سے تھا۔ ان سب پر القاعدہ اور ان کے اتحادیوں کی مدد کرنے کا الزام لگایا گیا جو ثابت نہیں ہو سکا۔

بگرام جیل کو افغانستان کا گوانتانامو بے جیل کہا جاتا ہے جو ایک دور میں بگرام ایئر بیس کے اندر ہوتا تھا۔ یہ جیل افغانستان کے قدیم شہر بگرام سے تھوڑے ہی فاصلے پر ہے۔ اس جیل میں قید قیدیوں کی کہانیاں سنہ 2012 میں سامنے آئیں جب افغان حکام نے امریکی افواج پر قیدیوں پر ظلم کرنے کا الزام لگایا۔

افغان حکام کے مطابق قیدیوں نے تشدد کے بارے میں اور جانچ پڑتال کے دوران غیر تسلی بخش بیانات دیے جس کے نتیجے میں بگرام جیل کو افغان حکومت کے ذمے کرنے کی بات شروع ہوئی۔ اور سنہ 2013 میں اس جیل کو ایک تقریب کے دوران افغانستان کے حوالے کر دیا گیا۔ اس جیل میں قید 3000 قیدیوں میں سے اب تک ایک ہزار سے زیادہ کو رہا کیا جاچکا ہے جن میں پاکستانی قیدی بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اسلامی تعلیمات تو یہی ہیں مگر - حبیب الرحمن


بی بی سی سے بات کرتے ہوئے جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی سربراہ سارہ بلال نے بتایا ’یہ قیدی بگرام سے بے شک رہا ہوچکے ہیں لیکن ان کے ذہنوں میں قید کے دن اب بھی اتنے ہی نمایاں ہیں جتنے پہلے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ اب اپنی پرانی زندگی میں واپس نہیں جاسکتے اور شدید ذہنی مشکلات کا شکار ہیں۔‘ انھوں نے کہا ’ان میں سے تین افراد ایسے بھی تھے جو قید کے دوران ذہنی اذیت کی وجہ سے انتقال کر گئے۔‘

’ہم ان کی کہانیاں اس لیے سامنے لارہے ہیں تاکہ یہ پوچھ سکیں کہ ان کے ساتھ ہونے والے ظلم کا ذمہ دار کون ہے؟ اور کیا ان کے ساتھ ظلم ہونے کے واقعات جاننے کے بعد حکومت ان کے لیے کچھ کرے گی؟ ان میں سے وہ لوگ جن پر کوئی الزام ثابت نہیں ہوا ان کی بحالی کے لیے کیا، کیا گیا ہے اور کیا ہوسکتا ہے؟‘

بینظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں ملٹری سیکرٹری کے فرائض سر انجام دینے والے رکن سینیٹ لیفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’اگر ان قیدیوں کی رہائی کے بعد کسی نے ان کی کہانیوں کو ریکارڈ کیا ہے تو ان کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ان کہانیوں میں کتنی صداقت ہے۔ لیکن یہ لوگ پھر بھی خوش نصیب ہیں کہ جیل سے نکلے اور اب اپنی کہانیاں بتاسکتے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا ’11 ستمبر 2001 کے بعد جب امریکہ نے افعانستان پر حملہ کرنے کا فیصلہ کرلیا، حالانکہ اس وقت سفارتی حل نکالنے کی بات کی جارہی تھی اور پاکستان بارہا کہہ رہا تھا کہ آپ اگر چاہیں تو ہم اسامہ بن لادن کو آپ کے حوالے کردیتے ہیں اور اسی دوران جارج بش کی حکومت تھی اور انھوں نے کہا کہ یا تو آپ ہمارے ساتھ یا خلاف ہیں۔ اب کیونکہ اس وقت جمہوری حکومت نہیں تھی۔ جب ایک آمر حکومت کرتا ہے تو وہ اپنے اقتدار کی مضبوطی اور طوالت کے لیے ووٹوں سے زیادہ بیرونی طاقتوں پر انحصار کرتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا ’اس کے نتیجے میں جو کچھ بھی ہوا وہ آپ کے سامنے ہے۔ ملا ضعیف جو کہ ایک سفیر تھے، ان کو ہینڈ اوور کیا گیا۔ ان کی تذلیل کی گئی اور انھیں گوانتانامو جیل بھیج دیا گیا لیکن تین سال بعد کہا کہ یہ معصوم ہیں اور پھر رہا کر دیا گیا۔‘

’بگرام جیل میں بھی کچھ اسی طرح کیا گیا۔ پرویز مشرف صاحب نے خود بتایا تھا کہ میں نے اتنے بندے پکڑ کر ان کو دیے ہیں۔ جو امریکہ چاہتا رہا یہ کرتے رہے۔ اب تفتیش دیانتداری پر ہونی چاہیے۔ اگر یہ لوگ کسی بھی طرح سے ملوث تھے تو وہ (ثبوت) سامنے آنے چاہیے تھے اور ان کو سزا ملنی چاہیے تھی۔ لیکن اتنی طویل سزا بغیر جرم ثابت ہوئے گزارنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔‘