بس تھوڑی سی برداشت - رومانہ گوندل

اس کائنات میں کوئی بھی چیز بے مقصد پیدا نہیں کی گئی ۔ یہ بات الگ ہے کہ انسان ہر چیز کی پیدائش کا مقصد نہیں سمجھ پاتا ۔ انسان کچھ چیزوں کو دیکھ کے خوشی محسوس کرتا ہے اور کچھ کو دیکھ کے ڈر اور خوف ۔ سانپ بھی ایسی مخلوق ہی ہے جس کو دیکھ کے لوگ ڈر محسوس کرتے ہیں ۔

ہر سانپ کو دیکھ کے ڈر محسوس ہوتا ہے لیکن کچھ اقسام ایسی ہیں جن کو دیکھ کے انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ جیسے کہ کوبرا سانپ ۔ سانپوں کی اس قسم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے ایک قطرہ زہر سے بیس سے پچیس لوگ مر سکتے ہیں لیکن اتنے زہریلے سانپ کے پاس قوت سماعت نہیں ہوتی ۔ یہ بات بظاہر قابل یقین نہیں لگتی کیونکہ سانپ کے تماشے میں دکھا یا جاتا ہے کہ وہ بین کی آواز پہ نا چتا ہے لیکن در حقیقت وہ آواز پہ نہیں ناچتا بلکہ وہ بین کے ہلنے پہ رد عمل کا اظہار کرتا ہے ۔ اس کے سامنے بین کے علاوہ بھی کسی چپز کو حرکت دی جائے تو وہ اس پہ بھی ویسے ہی ریکٹ کر رہے گا۔ اور دوسری اہم قوت بصارت یہ بھی اس کی ذیادہ تیز نہیں ہوتی ۔ کوبرا سانپ کو دس فٹ سے آگے اس کو صحیح سے دکھائی نہیں دیتا، دھندلا دھندلا دکھائی دیتا ہے ۔ یہ سانپ اپنے اندر انتہائی خطر ناک زہر رکھتا ہے لیکن سننے اور دیکھنے کی صلاحیت انتہائی کمزور ہوتی ہے ۔ کان اور آنکھیں اللہ کی بہت بڑی نعمتیں ہیں اور اللہ نے انسان کو یہ نعمتیں عطا کی۔تا کہ وہ ان کا استعمال کر کے اس کائنات میں موجود نشانیوں کو سمجھے اور اپنی پیدائش کا مقصد پا لے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ انسان یہ صلاحیتیں ہوتے ہوئے بھی استعمال نہیں کر تا۔ اس لیے ہمارے ہاں لوگ بھی کچھ کو برا سانپ جیسے ہو جاتے ہیں ۔

جو قوت سماعت ہوتے ہوئے سننے سے محروم ہوتے ہیں کیونکہ سننا صرف آوازیں سننا نہیں ہوتا ۔ ان کو سن کے سمجھنا شامل ہوتا ہے ۔ وہ بظاہر دیکھتے تو ہیں لیکن اتنا دھندلا دیکھتے ہیں کہ ہر منظر میں اپنی مرضی کی تصویر بنا لیتے ہیں، شکوک و شبہات سے بھری ہوئی منفی تصو یر ۔ اور پھر باقی ایک ہیں چیز بچتی ہے زہر ۔ جو وہ دوسروں کو بغیر سنے اور سمجھے اگلتے رہتے ہیں ۔ ان کے اس عمل سے دوسروں کے دلوں سے ان کے لیے عزت نکل جاتی ہے لوگ ان سے دور بھاگنے لگتے ہیں لیکن انہیں یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے اس زہر کو نکال کے کیا کچھ گنوا رہے ہیں ۔ اگر آنکھوں اور کانوں کا صحیح استعمال کیا جائے تو ہم دوسروں کی بات سننے اور ان کے عمل کو سمجھنے کے قابل ہو جائیں گئے تو بہت سی غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی۔ بہت سی نفرتیں ختم ہو جائیں گی۔ ہر وقت ، ہر جگہ تنقید کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہمیں یہ قبول کرنا پڑے گا کہ کہیں ہم بھی غلط ہو سکتے ہیں اور دوسرے ٹھیک۔ اور بعض اوقات اپنی اپنی جگہ سب ٹھیک ہوتے ہیں لیکن یہ سب ہم تب سمجھیں گے جب ہم اپنے ساتھ دوسروں کی انفرادی شخصیت کو قبول کریں گئے۔ ذبان بند رکھ کے آنکھیں اور کان کھولے رکھ کے صحیح بات سننے اور دیکھنے کی عادت ڈالیں گے۔ دوسروں کی رائے کا احترام کریں گے اس کے لیے بس تھوڑی سی برداشت کی ضرورت ہوتی ہے اور پھر سکون ہی سکون ہوگا۔