ہمارے دور کا اسکول - محمدوجاہت

آج اسکولوں میں جتنی جدید سہولیات متعارف کروائی جا رھی ھیں یا جتنی جدیدیت سکھائی جا رھی ھے وہ نئی نسل کے لیے یقیناً اک اچھی کاوش ھے۔ لیکن اسکولوں میں جو مزا سن دو ہزار تک کی دہائی تک کا تھا وہ یقیناً آج ہر سیاستدان، انجینئیر، ڈاکٹر، بزنس مین اور پروفیشنل انسان کی زندگی کے سنہرے دور میں سے ہوگا

سویرے سویرے اسکول پہنچ کر اسکول بینچوں کی تلاشی لینا کہیں کوئی پینسل ، ڈبیہ یا کچھ اور ضروری اشیاء برآمد ہو جائے۔ اسکول کی آیا/اماں یا بابا اسکول کی گھنٹی بجائیں تو فوراً سے اسمبلی ہال میں جا کر قطار لگانا آج تقریباً اسکولز میں اسمبلی اپنی اپنی کلاسز میں ہوتی ھیں۔ قوی امکانات ھیں کہ آنے والے وقت میں یہ بھی غیر ضروری سمجھ کر ختم کر دیا جائے گا۔ بہر حال جب بچے اسمبلی حال کی طرف دوڑ لگاتے تو اکثر طلبہ و طالبات میں آگے کھڑے ہونے کی چاہ ہوتی کہ آج نعت میں پڑھوں گا، قرآت میں کروں گا یا آج ملی نغمہ میں سناؤں گا وغیرہ وغیرہ
آج کے دور میں ہر کلاس میں CR یا Prefect یا Head of Class متعارف کروایا جاتا ہے جن کی ذمہ داریاں ہوتی ہیں بچوں اور کلاس کے مسائل ٹیچر تک لانا یا پھر کلاس میں استعمال ہونے والی اسکول ملکیت کا خیال رکھنا اپنی کلاس کے باقی ساتھیوں کو ڈیسیپلین سکھانا تھا۔ جبکہ پرانے وقتوں میں ایک Monitor نامی بلا ہوا کرتا تھا/تھی، جس کی فقط ایک دھمکی پوری کلاس کو خاموش کرنے کیلئے کافی ہوتی تھی جو کچھ یوں ہوتی . "اگر اب کسی نے شور کیا تو اس کا نام بلیک بورڈ پر لکھ دوں گا/گی" اب تو خیر وائٹ بورڈ اور مارکر آگئے جبکہ اصلی مزاح تو بلیک بورڈ کا ہوتا جب ٹیچر لکھوا لیتا تو اکثر بچے اپنے کندھوں پر اسٹار لگوانے کیلئے فوراً اُٹھ کر ڈیسٹر پر لپکتے تاکہ بلیک بورڈ صاف کریں

یا کبھی "Chalk" ختم ہوجائے تو بروقت ایسے کاروائی کرتے گو کہ سڑک پر لڑکی کو چھیڑتے ہوئے اکثر آس پاس کے بھائی کاروائی کرتے ہیں . اس سنہرے وقت میں اتنی خوشی چھٹی کی نہیں ہوتی تھی جتنی خوشی "فری پیریڈ" سے ملتی تھی جیسے ہی پتہ لگتا آج فری پیریڈ ہے کلاس کا مانیٹر فوراً "انسپیکٹر چُلبل پانڈے" بن کر سامنے آ کھڑا ہوتا پوری کلاس "Head Down" ہو جائے جس کا سر اوپر نظر آیا اُس کا نام پیپر پر لکھ کر کل ٹیچر کو دوں گا اور اسی دوران کوئی میری طرح نالائق سہما ہوئا نالائق بچہ کھڑا ہوتا یار میں اپنے فلاں سبجیکٹ کا کام مکمل کر رہا ہوں۔ زیادہ تر ہر کلاس میں ایک اویس قادری ضرور ہوتا تھا جو فری پیریڈ میں اکثر مانیٹر کے کہنے پر سامنے آ کر "نعت" پڑھنا شروع کر دیتا تھا۔ جونہی گھڑی 10:30 بجاتی تو "ٹن ٹن ٹن ٹن ٹن" کرکے بیل بجتی یعنی کے "Half Time" اگر ایک بار "ٹن" ہو تو مطلب پہلا پیریڈ شروع ہوگیا اگر دو بار "ٹن ٹن" ہو تو مطلب دوسرا پیریڈ شروع گیا اور اگر "ٹن ٹن ٹن ٹن ٹن" ہو جائے تو مطلب اب Half time یا Lunch Time ہے. جس میں گھر سے لائے انڈہ پراٹھا ، جیم ڈبل روٹی کھاتے یا Canteen جا کر "چیاؤں میاؤں یا OK" پاپڑ لیتے مشہورِ زمانہ چوئینگ گم (ببل) DingDong لینا یا سموسے یا پھر آلو چاٹ سے لطف انداز ہونا ہوتا تھا۔ آج کے اساتذہ کا اگرچہ اُس دور کے اساتذہ سے موازنہ کریں تو زمین آسمان کا فرق محسوس ہوگا .

پہلے کے اساتذہ جب کلاس میں ہوتے تو مجال ہے منہ سے کچھ نکلے کیونکہ سامنے پہلے ڈیسک پر رکھی سوٹی Stick جس پر Red یا Black رنگ کا Tape چڑھا ہوتا اور وائٹو سے باقاعدہ اُس پر سر یا مس کا نام لکھا ہوتا تھا جس سے سوٹی کی ملکیت اسکول میں واضح ہوتی تھی۔ کام نامکمل ھو یا ٹیسٹ یاد نا ھو یا بدتمیزی کی ھو تو وھی لال و سیاہ رنگ نامی مولا بخش سے آپ کی تشریف پر ایسے حملے کیے جاتے گو کہ افغانستان میں امریکی ڈرون گرائے جا رھے ھوں۔ آج کے اساتذہ بچوں کو جدیدیت کے ساتھ ساتھ دوستانہ تعلیم مہیا کرتے ہیں مارنے کے واقعات سو میں ایک بار ھو جاتے ھیں۔ ھمارے دور میں سوشل میڈیا تو تھا نہیں کہ کوئی ھمارے وقت میں آواز اٹھاتا لیکن آج کی جنریشن کو یہ بنسبت ہمارے وقت کے بہت آسانیاں دی جا چکی ھیں۔ پنجاب، سرحد، گلگت، بلوچستان یا اندرونِ سندھ کا تو معلوم نھیں البتہ کراچی والوں کو ہر سال اسکول والے ایک مرتبہ ساحل سمندر کی سیر کروانے لے جاتے جن میں ترجیح گڈانی، ہاکس بے اور کلفٹن اور سومیانی ساحل کو دی جاتی تھی۔ اس کے بعد جب سے واٹر پارکس بنے اسکول والے اب ساحل کے بجائے واٹر پارکس لے جاتے ھیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ نا صرف طلبہ کی نصابی سرگرمیاں بدلی گئیں بلکہ معمولاتِ اسکول بھی مکمل طور پر تبدیل کر دئیے گئے ھیں اگر آج تک کچھ نا بدل سکا تو صرف ایک ہی چیز ھے "دی لیجنڈ مطالعہ پاکستان" جو مطالعہ ھمیں کروایا گیا وہی مطالعہ ھمارے بچوں کو کروایا جا رہا ھے یہ کم بخت ریٹارئڈ فوجیوں اور سیاستدانوں کی کتابوں نے بعد میں ھمارے دماغ خراب کیے ورنہ ھم بہادروں والی زندگی گزارا کرتے تھے .خیر لکھنے کو تو لکھتا رہوں اسکول لائف پر مگر شاید پڑھنے والوں کا بھی خیال کرنا چاہیے

ٹیگز