عالمی یومِ امن اور کشمیر و فلسطین - ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی

ہم پاکستانیوں کو بھی رب نے عجیب مٹی سے بنایا ہے۔ انسان کسی جگہ بھی درد و الم سے کراہ رہا ہو، ٹیس ہمارے دل میں اُٹھتی ہے۔ کوئی ہمارا ساتھ دے یا نہ دے مگر ہم نے سب کے درد کا درماں بننا ہوتا ہے۔ پھر اُس میں بھی سید مودودی ؒ کی جماعتِ اسلامی کا رنگ نرالا ہے، آئے دن کے طعنوں کے باوجود بہت جی کڑا کر جواب دیتے ہیں کہ ہاں ’’سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے‘‘ یہ 89ء کے وہ عذاب سے دن تھے جب ایک طرف افغانستان میں آگ اور بارود کا میدان گرم تھا اور دوسرے طرف کشمیر میں آزادی کی تحریک سرگرم تھی۔ انھی دنوں جماعت کے کارکنان نے 5جنوری 1990ء کو ملتان ائیر پورٹ پر اپنے امیر قاضی حسین احمد کی قیادت میں پریس کانفرنس میں الٹی میٹم دیا کہ حکومت ٹھیک ایک ماہ بعد 5 فروری 1990ء کو یومِ کشمیر کا اعلان کرے۔ ہم ایک ماہ تک پوری قوم کو بیدار کریں گے اور 5 فروری کو پورے جوش و ولولہ سے دنیا کو بتا دیں گے ’’ہم کشمیری ہیں، کشمیر ہمارا ہے‘‘۔ جس طرح وہ اپنے بوڑھے شیر علی گیلانی بابا کے زیر سایہ بلند آہنگ سے پکارتے ہیں کہ ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے۔ پنجاب میں اس وقت آئی جے آئی کی حکومت تھی۔ محترم نواز شریف صاحب نے قاضی صاحب کی اس اپیل پر لبیک کہا اور پنجاب میں 5فروری 1990ء کو یومِ کشمیر کا اعلان کر دیا۔ پنجاب کا رُخ دیکھتے ہی مرکز میں محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ نے بھی قاضی صاحب کی اس تجویز کا خیر مقدم کیا اور یوں پوری قوم نے متفقہ طور پر یومِ کشمیر کا آغاز کر دیا۔ سلیم ناز بریلوی کے ترانوں نے آزادی کی شمع کو مزید بھڑکا دیا تھا۔ آزادی کشمیر کی تحریک کو جماعتِ اسلامی نے ابتدا سے ہی زندہ رکھا۔

حال ہی میں برہان مظفر وانی کی شہادت نے آزادی کے متوالوں کے شوق کو مزید جلا بخشی ہے اور جلتی پر تیل کا کام مودی کے ظالمانہ اقدامات نے کر دیا ہے کہ اُس نے کشمیر سے متعلق دو خصوصی آرٹیکلز 35اے اور 370کو منسوخ کرکے اپنے آئین کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ اپنی جمہوریت کا چہار عالم میں مذاق بنوا دیا اور بھارت میں جاری علیحدگی کی تحریکوں میں نئی جان ڈال دی ہے۔ اس ظالمانہ اقدام سے کشمیریوں کی پانچویں نسل میں بغاوت کے بیج بو کر آزادی کے پھریرے بلند کرنے کا عزم بھی مضبوط ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   میرے گھر میں آگ لگی ہے - موسیٰ مجاہد

1949ء میں بھارتی آئین میں آرٹیکل 370صرف کشمیر کے بارے میں شامل کیا گیا جو پورے بھارت میں کسی اور ریاست پر لاگو نہیں ہوتا تھا۔ اس کے تحت بھارتی پارلیمنٹ جموں و کشمیر کے سلسلہ میں بہت محدود دائرے میں قانون بنا سکتی تھی اور بھارت کا کوئی بھی عام شہری جموں وکشمیر میں جائیداد نہیں خرید سکتا۔ یہ امر صرف بھارت کے عام شہریوں تک ہی محدود نہیں بلکہ بھارتی کارپوریشنز اور دیگر نجی سرکاری کمپنیاں بھی ریاست کے اندر بلا قانونی جواز جائیداد حاصل نہیں کر سکتی تھیں۔ ان آرٹیکلز کے ہٹا دینے سے کشمیریوں کی خصوصی حیثیت ختم کر دی گئی اور جس طرح فلسطین میں اصل باشندوں کو بے دخل کرکے یہودیوں کو لا کر بسایا گیا اور اسرائیل کی بنیاد ڈالی گئی، اسی طرح یہاں بھی آبادی کے تناسب کو بدلنے کی خطرناک سازش کے بیج بوئے گئے ہیں۔

میں اپنے والد سے پوچھا کرتی تھی کہ جب اسرائیل بن رہا تھا تو مسلمان کہاںمر گئے تھے۔ مجھے اب اس کا جواب مل رہا ہے کہ وہ بھی اسی طرح مودی کے گلے میں ہار پہنا رہے ہوں گے۔اسی لئے ثریانے آسمان سے زمین پر ہم کو دے مارا۔ اتنے دن ہوگئے ہیں،لاکھوں انسانوں کو زندہ دفن کرنے کی تیاریاں ہیں، نہ کھانے کو کچھ، نہ کسی سے بات کرنے کا، نہ دوائیوں کا انتظام۔ اب کشمیر کے بارے میں آگہی پھیلانے کے لئے سوشل میڈیا پر متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔ ہمیں کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے کے ساتھ مختلف ممالک سے کشمیریوں اور پاکستانیوں کے ساتھ 5 سیکنڈ کے کلپ اکٹھے کر کے 21 ستمبر کو ’’انٹرنیشنل ڈے آف پِیس ‘‘ کے موقع پر چلانے کی ضرورت ہے۔ عالمی ٹرینڈز بنانے میں پاکستانی نوجوان کا بڑا کردار رہتا ہے، ففتھ جنریشن وار کے اصولوں کو سمجھنے کے لئے سوشل میڈیا پر ہوشیار رہنا ہوگا اور بھارتی تسلط کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیری بہنیں پاک فوج کی منتظر - صائمہ عبدالواحد

گزشتہ سال ترکی کے شہر استنبول میں القدس کی خواتین جنہیں مریمات اور مرابطات کہا جاتا ہے، سے اظہار یکجہتی کے طور پر اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس کے اختتام پر ایک بین الاقوامی پلیٹ فارم کی بنیاد رکھی گئی۔ جس کا نام ’’ کلنا مریم‘‘ (ہم سب مریم ہیں) رکھا گیا۔ حضرت مریمؑ بیت المقدس کی مبارک جگہ سے منسوب ہیں اور دنیا بھر کی عورتوں کے لیے انقلاب اور جدوجہد کا ایک استعارہ ہیں۔ حضرت مریمؑ کو اپنا آئیڈیل بناتے ہوئے ہم نے بھی یہ اعلان کیا کہ دنیا کی ہر مظلوم عورت کے لیے ہم حضرت مریمؑ کو عزم و ہمت کا استعار بناتے ہوئے اپنی تنظیم کا نام بھی ’’ کلنا مریم‘‘ رکھیں گے۔ اس تنظیم کی میزبانی ترکی کی ایک این جی اوکر رہی ہے،اس میںصرف القدس کی مرابطات اور مریمات کو فوکس کیا گیاہے مگر میری تجویز پرکشمیر اور روہنگیا بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ 21ستمبر2019ء کو عالمی یومِ امن کے موقع پر فلسطین کی عورتوںسے اظہارِ یکجہتی کے طور پر ایک مہم لانچ کی گئی ہے جس میںپوری دنیا کے لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے ملکوں کے پر چم تھام کر، علاقائی ملبوسات زیب تن کرکے اور درج ذیل نعروں کو بلند آہنگ سے پڑھ کر اور دائیں ہاتھ کو اٹھا کر سلام کے ساتھ یہ پڑھیں۔ Say Yes to Peace اور Salam Maryam۔ اس کو بلند آہنگ سے پڑھ کر 5سیکنڈ کی وڈیو سوشل میڈیا پر اَپ لوڈ کریں، اسے عالمی ٹرینڈ بنانے میں اپنا اپنا حصہ ہم سب کو ڈالنا ہے۔