بوجھ - حنا نرجس

نماز ظہر اور دوپہر کے کھانے کے بعد میں قیلولہ کرنے کی غرض سے بستر پر لیٹا ہی تھا کہ سامنے والی دیوار پر خون کے ننھے ننھے چھینٹوں سے بننے والے دھبوں پر نظر پڑی اور ایک دم سے وہ واقعہ، وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے یوں تروتازہ ہو گیا جیسے ابھی ابھی وقوع پذیر ہوا ہو۔

غالبًا دو سال قبل ماہ فروری کے اختتام کے دن تھے، موسم میں ابھی کافی حد تک ٹھنڈک کا احساس تھا۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی ایک چڑیا اور چڑے نے میرے کمرے کے باہر صحن میں دیوار کے ایک خلا میں ایک مخصوص جگہ پر اپنا گھونسلا بنانے کے لئے تنکے، دھاگے اور گھاس پھونس جمع کرنا شروع کر دیا تھا۔ وہ دونوں بہت تن دہی اور جانفشانی سے پوری ذمہ داری کے ساتھ اس کام میں لگے ہوئے تھے۔ سارا سارا دن ان کا آنا جانا لگا رہتا اور میں کمرے کی دہلیز اور فرش پر گرنے والے گھاس پھونس کو دن میں کئی بار اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر کوڑے دان میں ڈالتا۔
کچھ ہی دنوں کے بعد ان کی سرگرمیوں میں جیسے ٹھہراؤ سا آ گیا جس کی وجہ مجھے ایک دن گھونسلے سے گرنے والے انڈے کو دیکھ کر معلوم ہوئی۔ یعنی اب وہ دونوں گھونسلہ بنا کر انڈوں سے بچے نکلنے کا انتظار کر رہے تھے۔ تین چار دن ہی گزرے ہوں گے، میں سکول سے واپس آیا تو کمرے کے دروازے کے قریب ایک نیم جاں سا چڑیا کا بچہ نظر آیا۔ ادھر سے ادھر مسلسل اڑتی ہوئی چڑیا بہت پریشان لگ رہی تھی۔ چڑا بھی تار پر اداس بیٹھا تھا۔ غالبًا اب اس بچے کو اٹھا کر گھونسلے میں لے جانا ان دونوں کے لیے ناممکن تھا اور یہی ان کی اداسی کی اصل وجہ تھی۔
میں چاہنے کے باوجود بھی کچھ نہ کر سکا کیونکہ وہ گھونسلا بہت بلندی پر تھا اور اس کا داخلی راستہ بھی انتہائی تنگ سوراخ پر مبنی تھا۔

پتہ نہیں وہ دونوں کیسے اندر آتے جاتے تھے۔ بیچارہ بچہ نیم مردہ سا تھا اور چیونٹیاں اسے پریشان کر رہی تھیں۔ میں نے اس کی چونچ میں پانی ڈالنے کی کوشش کی مگر وہ بیچارہ شاید ابھی خود سے پینے کے قابل نہیں ہوا تھا۔ شام تک وہ مر گیا اور پھر اگلے دس پندرہ دن میں کئی انڈے اور ایک مزید بچہ اسی طرح ضائع ہو گئے۔ پھر آخر کار وہ دن بھی آیا جب تین خوبصورت بچے چوں چوں کرتے گھونسلے سے باہر آتے جاتے نظر آنے لگے۔ چڑیا اور چڑا خوشی خوشی ان کو کھانا کھلاتے، چھوٹی چھوٹی چھلانگیں لگانا اور اڑان بھرنا سکھاتے۔ بچوں کی مخصوص چوں چوں ہمارے گھر کے اندر ایک اور گھر کے بسے ہونے کا احساس دلاتی۔ میں اس مکمل خاندان کو دیکھ کر بہت خوش ہوتا اور صحن کے ایک کونے میں ان کے دانے پانی کا انتظام کرتا رہتا۔ مگر افسوس ایک دن ایک انتہائی ناخوشگوار واقعہ رونما ہو گیا۔ ملازمہ فرش پر گیلا کپڑا لگا کر کمرے سے نکلی تو میں نے فرش جلد خشک کرنے کی غرض سے پنکھا پوری رفتار سے چلا دیا۔ ایک عجیب سی آواز نے مجھے متوجہ کیا. ایک اذیت ناک منظر میرے سامنے تھا۔ پتہ نہیں چڑیا کب اور کیوں اندر آئی تھی اور اب پنکھے سے ٹکرا کر مر چکی تھی۔

وہ لہولہان حالت میں فرش پر پڑی تھی اور خون کے ننھے ننھے چھینٹے دیوار اور فرش پر نظر آ رہے تھے۔ میرے دل کو زبردست دھچکا لگا، مجھ سے انجانے میں ایک گھر اجڑ گیا تھا۔ جس گھر میں ماں نہ ہو وہ گھر قبرستان کی مانند ہی تو ہوتا ہے اور میں اس گھرانے کی ماں کو انجانے میں مار بیٹھا تھا۔ کافی دیر تک صدمے کی حالت میں بیٹھا رہا۔ سب گھر والوں نے مجھے تسلی دی اور سمجھایا کہ تم نے جان بوجھ کر تو ایسا نہیں کیا، پھر کیوں پریشان ہو؟ مگر دل پر عجیب سا بوجھ آ پڑا تھا جو مجھے ملول کیے دے رہا تھا۔ چھوٹے بھائی نے صحن میں گڑھا کھود کر چڑیا کو دفنا دیا۔ چڑا پریشانی سے چکر کاٹتا رہا. پھر اس دن کے بعد سے میں نے کوئی چوں چوں نہیں سنی۔ پتہ نہیں چڑا اپنے بچوں کو لے کر کہاں چلا گیا۔ آج کل پھر آپ کو ہر طرف چڑیاں اور چڑے دکھائی دیتے ہوں گے، اسی طرح اپنی مخصوص چوں چوں کرتے ہوئے، ادھر سے ادھر اڑتے۔ مجھے آپ سے کہنا یہ ہے کہ جو سبق اس واقعے سے میں نے سیکھا، آپ بھی اپنا لیں. پنکھے کا بٹن چلاتے ہوئے یہ اطمینان ضرور کر لیا کریں کہ کہیں کمرے میں کوئی چڑا یا چڑیا تو نہیں ہے۔ کیونکہ بعد میں صرف پچھتاوے رہ جاتے ہیں اور دل پر پڑا بوجھ ڈھونا بہت مشکل ہوتا یے!

ٹیگز

Comments

حنا نرجس

حنا نرجس

اللّٰہ رب العزت سے شدید محبت کرتی ہیں. ہر ایک کے ساتھ مخلص ہیں. مسلسل پڑھنے پڑھانے اور سیکھنے سکھانے پر یقین رکھتی ہیں. سائنس، ٹیکنالوجی، ادب، طب اور گھر داری میں دلچسپی ہے. ذہین اور با حیا لوگوں سے بہت جلد متاثر ہوتی ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.