مہلت عمل - سعدیہ طاہر

"جیسے ہی میری رپورٹ آئی اور میری بیماری کی تشخیص ہوئی تو عامر بھائ مین نے ڈاکٹر سے پوچھا کہ میرے پاس کتنے دن ہیں ؟ آپ کو تو پتہ ہے کہ ڈاکٹر تو کہہ دیتے ہیں کہ آپ بالکل ٹھیک ہوجاوگے ۔۔لیکن مجھےحقیقت کا اندازہ ہوگیا تھا اس لئے میں نے بھی پوچھ کے چھوڑا ۔۔

بس عامر بھائی جب انھوں نے حقیت بتائی کہ دو سال اور پانچ سال بھی لگ سکتے ہیں۔۔۔۔" احسان بھائی جو ہمارے پرانے گہرے دوست تھے آج عشاء کی نماز کے بعد جب وہ مسجد کے باہر رقم کا لفافہ کشمیر کے نام سے پکڑانے لگے تو میں نے ان کو سوالیہ نظروں سے دیکھا اور کہنے ہی لگا تھا کہ ابھی پندرہ دن پہلے ہی تو اپنے اچھی خاصی رقم دی تھی۔۔میری نظروں کا مفہوم سمجھتے ہی بول پڑے۔ میں جو نماز کے بعد عجلت میں گھر جانے کارادہ کر رہا تھا .. انکی بات پہ میں نے چونکتے ہوئے انکا ہاتھ پکڑا اور سامنے چائے والے کی دکان کے آگے رکھی کرسی پہ بیٹھ گیا۔ بس عامر بھائ اس کے بعد میں نے خوب منصوبہ بندی کرلی ۔۔میں نے اپنے تمام کاروباری معاملات کو ترتیب سے لکھ لیا تاکہ میرے بعد کوئ لیں دیں کا معاملہ نہ رہ جائے۔ بیوی بچوں کو بھی اچھی طرح سے حالات سے نہ صرف آگاہ کیا بلکہ انکو سمجھا دیا کہ رونے دھونے بجائے زندگی کی حقیقت کو سمجھیں۔۔اپ کو پتہ ہے میں نے اپنے بیٹے کو خود نماز جنازہ سکھائ ہے تاکہ میرا بیٹا نماز پڑھائے ۔۔۔ اپنے دیرینہ دوست کے دکھ پہ میری آنکھیں جو چھلکنے کو تھیں انکی پرعزم آنکھوں کی چمک دیکھ کے میں اپنے آنسو پی لئے۔

باقی بچوں کو بھی فہم دیں کی کلاسوں میں بھیجتا ہوں تاکہ میں اپنے اہل و عیال سے جنت میں ملوں۔ عامر بھائی جتنا اللہ کا شکر ادا کروں کم ہے جو اس نے مجھے اس قابل بنایا کہ خود اپنے اوپر بھی خرچ کرسکتا ہوں اور اس کی راہ میں بھی دے سکتا ہوں کیونکہ بندہ اللہ سے مہلت مانگے گا کہ مجھے دنیا میں اتنی دیر کے لئے بھیج دے کہ میں کچھ دے کر اپنے آپ کو بچالوں تو میں یہ کام ابھی کیوں نہ کرلوں" آج تو لگ رہا تھا کہ احسان بھائی اپنے دل کا پورا حال سناکے چھوڑیں گے۔ میں نے انکے ہاتھ پہ تسلی کی تھپکی دی . "بس بھائی قرآن سنتے اور پڑھتے ساری زندگی ہی گزار دی اب تو بہت کم وقت لگتا ہے کہ اس پر عمل کیا جائے پھر بھی اب کوئ لمحہ ضائع کرنے کا دل نہیں چاہتا ۔۔خاندان کے بھی کتنے حقوق ہیں اللہ کے کتنے حقوق ہیں دو زندگیاں بھی ملیں تب بھی پورا نہیں کرسکتا بس اب تو جو پڑھتا ہوں فوری عمل کرنے میں لگ جاتا ہوں ۔۔آپ بھی مجھ سے راضی رہنا اور میرے لئے دعا ضرور کرنا۔۔۔" احسان بھائی تو اپنا حال کہہ کے گھر کی طرف روانہ ہوگئے میں سست قدموں سے گھر کی جاتے ہوئے سوچنے لگا ۔۔۔ہم کیسے معلوم کریں کہ ہماری مہلت عمل کتنی باقی رہ گئ تاکہ ہم بھی انجانے میں کوئ خسارے کا سودا نہ کرلیں۔۔ کیا دس سال ۔۔دس دن ۔۔دس گھنٹے یا کچھ پل۔۔۔

ٹیگز