خودپسندی اور تکبر - ملک شاہ زیب احمد

انسان فطری طور پر خود پسندی میں جلد مبتلا ہو جاتا ہے جب یہی پسندی بڑھ کر غرور و تکبر میں ڈھلتی ہے تو انسان کی دنیا و آخرت دونوں برباد ہوجاتے ہیں۔ تاریخ انسانیت کا ورق ورق ستر ستر ایسے عبرت ناک واقعات سے بھری پڑا ہے۔ جب اس مشت غبار کو خود پسندی کے بعد غرور و تکبر کا دورہ اس طرح پڑا کہ کرہ ارض پر اس جیسا انسان نہ آیا اور نہ ہی آئے گا۔

دنیا کے ہر الہامی مذہب میں اس مرض کو شدت سے منع کیا گیا ہے لیکن انسان عبرت اور اصلاح لینے کے بجائے اندھا دھند اس گڑھے میں گر کر اپنی دنیا اور آخرت دونوں برباد کر لیتا ہے حالانکہ خدائے بزرگ و برتر نے سختی سے انسان کو اس بیماری سے روکا ہے لیکن یہ مشت غبارسمجھنے کو تیار نہیں ہے۔ آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالی کا فرمان ہے ”کبریائی میری چادر ہے اور عظمت میرا راز ہے۔ جو شخص ان دونوں میں مجھ چھیننے کی کوشش کرے گا میں اس کو توڑ دوں گا“۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ”میں ایسے لوگوں کو اپنے حکام سے دور رکھوں گا جو دنیا میں نا حق تکبر کرتے ہیں جو لوگ اپنے دلوں میں اپنے آپ کو برا سمجھتے ہیں اور یہ لوگ انسانیت سے بہت دور نکل چکے ہیں“۔ محبوب خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا وہ شخص دوزخ میں داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا اور جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا اسے اللہ تعالی منہ کے بل دوزخ میں ڈالے گا۔
درج بالا سطور میں شدت سے غرور اور تکبر کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے لیکن میڈیائی اخبارات میں حکمرانوں اور ان کے حواریوں کے تکبر سے بڑے الفاظ اور چہرے دیکھتے ہیں تو یہی لگتا ہے کہ یہ پہلے اور آخری حکمران ہیں نہ ان سے پہلے کوئی ان جیسا آیا اور نہ ہی آئندہ آئے گا۔ میں یہ کروں گا وہ کروں گا دن رات کوئی کام نہیں صرف ایک پہاڑا پڑتے نظر آتے ہیں۔

شیخ سعدی رحمہ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت سہیل تستری رحمہ اللہ علیہ نے راہ فقیر اختیار کر لی۔ عبادت کا ذوق کتنا بڑا کی شیشہ قلب صاف ہو گیا سچے خواب آنا شروع ہوگئے تو خیال گزرا کہ میں مرتبہ ولایت پر فائز ہو گیا ہو یہ خیال بڑھتا پڑتا تکبر میں ڈھل گیا۔حق تعالیٰ کے محبوب بندے تھے۔ لوگ یہ بات ہمیشہ بھول جاتے ہیں، کہ وہ جو بھی کچھ ہیں اور ان کے پاس جو بھی کچھ ہے، سب اللہ کا دیا ہوا ہے اور اس میں ان کا ذرہ برابر بھی کمال نہیں، پھر پتا نہیں وہ کس بات کا فخر کرتے ہیں؟ جبکہ ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا کہ قیامت کے دن میں شفاعت کا علم اٹھاو ¿ں گا اور میں اس پر فخر نہیں کرتا۔ اتنی بڑی اور عظیم ترین انسانی ہستی، اپنے اتنے عظمیم ترین مرتبے پر بھی فخر نہیں فرماتے، تو ہم کس کھیت کی مولی ہیں۔
تکبر کے بجائے شکر کرنا چاہئیے اور عاجزی اور انکساری کے ساتھ اللہ کے آگے سر بسجود ہونا چاہئیے جو بھی کچھ اس نے دیا اور بنایا۔ خودپسندی کا علاج ایک اہم چیز تواضع و انکساری بھی ہے۔ متواضع انسان کو غرور اور خودپسندی کا مرض لاحق نہیں ہوتا کیوں کہ وہ جانتاہے کہ میں کچھ بھی نہیں ہوں علم، طاقت، صحتمندی، مال و دولت، عزت و شھرت ، اولاد غرض کے ہر چیز جو میرے پاس ہے میری نہیں ہے وہ خداوند کی عطا کردہ ہے کبھی بھی لے سکتا ہے پھر خودپسندی ، تکبر اور غرور کس لئے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی عظمت و کبریائی کو جان لے وہ کبر اور گھمنڈ میں مبتلا نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے اندر خشیت ، خوف ،تقویٰ اور خاکساری کی صفات پیدا ہوں گی۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں ہر طرح کے غرور و تکبر سے بچائے اور ہمارے اندر عاجزی و انکساری پیدا فرمائے تاکہ ہم اللہ کا زیادہ سے زیادہ قرب حاصل کر سکیں۔ آمین ثم آمین