اگر عمران خان تھک گیا تو - واصب امداد

بزدار اب اْس کی ضد ہے۔ لوگ اْس کی ضد پر حیران ہیں مگر نجانے کیوں وہ اْسے اپنی انا کا مسئلہ بنائے بیٹھا ہے۔ بزدار کی جگہ کوئی فعال اور معاملہ فہم وزیرِ اعلیٰ ہوتا تو اْس پر چلنے والے تنقیدی نشتر آدھے رہ جاتے۔ پہلے کی بات اور تھی۔ تب شاید غلطی کی گنجائش تھی، مگر اب آگے کنواں ہے اور پیچھے کھائی۔ یعنی اب کی بار کسی بھی صورت معاملات ہاتھ سے نکلنے کی گنجائش باقی نہیں۔ نقصان کسی جماعت کو نہیں ریاستِ پاکستان کو ہوگا۔

بزدار نے بار بار ثابت کیا کہ وہ وسیم اکرم نہیں بلکہ منصور اختر پلس ہے۔ ڈی پی او پاکپتن سے شروع ہونے والی بزداریاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ صلاح الدین کا منہ چڑاتا چہرہ، عامر مسیح کا پولیس تشدد کے باعث بیجان جسم، اور فاطمہ کو پڑنے والے تھپڑ پنجاب میں رائج اِس بزدارانہ نظام پر سوالیہ نشان لگاتے ہیں۔

وہ مٹی کا مادھو کبھی سانحہ ساہیوال کے متاثرین کو سرکاری محل بلا کر سرکاری مذمت کا اہتمام کرتا ہے، تو کبھی ان کے گھر جانے کے بجائے صلاح الدین کے والدین کو دفتر بلا کر اْن کی گود اجاڑنے والوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کا وعدہ۔ کبھی آئی جی سے ہاتھ ملانا بھول کر کہتا ہے کہ ابھی اسے معاملات کا علم نہیں ہے تو کبھی میڈیا سے پوچھتا ہے کہ وہ کیا کرے، کیا قاتلوں کو پھانسی لگا دے؟ کبھی اپنی ہی تنخواہ میں خود ہی دو سو فیصد اضافہ کر کے غریب کی خدمت کی اعلیٰ ترین مثال قائم کرتا ہے تو کبھی میڈیا نمائندگان کو آموں کا تحفہ بھجوا کر کپتان کے نئے پاکستان میں اپنا خوب حصہ ڈالتا ہے۔ اوپر سے پورا دن تبادلوں کی خبریں گرم کیے رکھتا ہے وہ بھی وزیروں، مشیروں اور پارٹی اراکین کی پسند ناپسند کے مطابق کہ آخر یہی تو ہے میرٹ بزدارانہ نظامِ حکومت میں۔

مرکز میں بھی مشیر ناقص، وزیر بیکار، ٹیم پیدل، زور مگر سارا کپتان پر۔ کسی اور کے پاس کھونے کو کچھ نہیں۔ بھئی وہی تو کہتا تھا کہ کپتان ٹھیک ہو تو نیچے کسی کو من مانی کرنے کی جرات نہیں ہوتی۔ مگر حالات ایسے ہیں کہ حفیظ شیخ سے ریونیو کا قلمدان واپس لے کر حماد اظہر کو دیا گیا تو حفیظ صاحب نے کہہ دیا کہ اگر یہ قلمدان مجھے واپس نہ کیا گیا تو میں فنانس کی وزارت بھی چھوڑ جاؤں گا۔ مجبوراً واپس کرنا پڑا۔ ایسی بہت ساری مثالیں، مگر وہ کہتا ہے کہ یوٹرن بڑے لیڈر کی نشانی ہے تو بس کیا کریں۔

بہرحال کھوئے گا اور روئے گا تو صرف وہ۔ باقی سب تو بھیس بدل کہ کبھی ادھر تو کبھی ادھر۔ وہی تو تھا جس نے بائیس سال ہر جلسے، ہر دھرنے، ہر انٹریو، ہر پریس کانفرنس میں عوام کو بتایا کہ وہی ہے جو ان کے دکھوں کا مداوا کرے گا۔ پہلے سو دن، پھر چھ مہینے اور اب ایک سال بیت چکا، معاملات ہیں کہ سلجھنے کا نام نہیں لے رہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک نہیں دو استعفے - حبیب الرحمن

خبر آتی ہے کہ حکومت نے بڑے سیٹھوں کو تین سو ارب کا قرض معاف کر دیا ہے۔ یہ وہ ٹیکس جو گیس انفراسٹرکچر کے نام پر لیا تو غریب عوام سے گیا مگر سرکاری خزانے میں جمع نہیں کروایا گیا۔ یہ کارہائے نمایاں کرنے والا مشیر پریس کانفرنس میں بیٹھ کر بتاتا ہے کہ اس نے کپتان کو دو بار سارا منصوبہ سمجھایا تھا اور اْس کی منظوری سے ہی سب ہوا۔ کپتان حیران کہ جو اِس شخص سے مجھے سمجھایا اور جو اب ٹی وی پر بیٹھے صحافی بتا رہے ہیں، اس میں تو زمین آسمان سے زیادہ فرق ہے۔ فوراً صدارتی آرڈیننس واپس۔ نتیجہ یہ کہ لوگوں کے لیے مزید ہنسی کا سامان۔

ٹیم کی آپسی لڑائیوں نے بھی اس کا چہرہ زرد کر دیا ہے۔ وہ ولولہ تازہ کیے دفتر پہنچتا ہے تو کبھی جہانگیر ترین اور شاہ محمود کی جنگ، کبھی فردوس عاشق اعوان اور فواد چودھری کی لڑائی، کبھی اسد عمر اور جہانگیر ترین کی تو تکار، کبھی نعیم الحق اور فواد چودھری کی ان بن، کبھی شیخ رشید اور فواد چودھری کی تکرار اس کی منتظر ہوتی ہیں۔

اب اْس کے ہاتھوں نیب کی اصلاحات ہونے کو ہیں۔ قدرت کی شان دیکھیے کہ اصلاحات مسودے کی تیاری بھی انہوں نے کی جن پر خود نیب کے کیسز ہیں۔ اصلاحات بھی ایسی کہ نیب کے ہاتھ کٹ جائیں گے۔ احتساب صرف تقاریر میں رہ جائے گا۔ پھر نہ تو نوکر شاہی پر ہاتھ ڈالا جا سکے گا، نہ پرائیویٹ بزنس مینوں کو کوئی پوچھ سکے گا۔ جْرم ثابت ہونے تک اثاثے منجمد نہیں ہو سکیں گے یعنی جب تک جْرم ثابت ہو مجرم سارا مال ادھر اْدھر کر کے آخر کو خالی جیبیں دکھائے گا۔ ان ممکنہ اصلاحات کے بعد نیب سرکاری زمینوں کی خرد برد کی چھان پھٹک بھی نہیں کر سکے گا یعنی منصور قادر کاکا جیسے کئی لوگ اب دامن سفید کیے آپ کو اور مجھے ایمانداری کا درس دیں گے۔

معاشی حالت دگر گوں ہے جس کے باعث وہ ہمیشہ پریشان رہتا ہے۔ رضا باقر اور حفیظ شیخ جیسے معاشی سرخیل بھی کوئی جادو نہ دکھا سکے۔ اسد عمر بھی اب اپوزیشن کے مؤقف کی تائید زیادہ کرتا ہے۔ پناہ گاہوں تک کے لیے مختص رقوم روک دی گئیں۔ آئی ایم ایف رواں ماہ اپنی ایس او ایس ٹیم بھیجے گا جو کہ اْن سے کیے گئے نہ پورے ہونے والے وعدے اور نامکمل اہداف پر پہلے تو سرزنش کرے گی، پھر مزید خرچے کم آمدنی بڑھانے پر زور دے گی۔ نتیجہ کیا؟ وہی عوام کے گلے میں ڈالا گیا رسّہ زور سے کھینچا جائے گا اور گالیاں اْن کی نکلیں گی عمران خان کو۔

بھارت کی کشمیر میں کھیلی گئی چال پر دنیا میں کسی نے کوئی مؤثر آواز اْس کے ساتھ نہ اٹھائی۔ وہ اکیلا ہی بولتا رہا۔ وہ کہتا تو ہے کہ جب تک جان میں جان ہے کشمیریوں کے لیے وہ آواز اٹھاتا رہے گا۔ مگر جتنا آسان کام وعدہ کرنا ہے اتنا ہی مشکل اس عہد کو نبھانا۔ آخر کب تک دنیا آر ایس ایس اور ہٹلر کی کارستانیاں سنے گی۔ آخر کو عزیز تو سب کو اپنے مفادات ہیں۔ متحدہ عرب امارات کے وزیرِ خارجہ نے بھی کہہ دیا کہ کشمیر کو اْمہ کا مسئلہ نہ بنایا جائے۔ اسے لگا کہ افغان امن عمل میں وہ کچھ لے دے کر ٹرمپ کو اپنے کشمیر پر ثالثی کے دعووں کی یاد دلوا سکے۔ افغان امن عمل بھی رْک چکا ہے جِس کا اب مستقبل دھندلا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر لہو میں نہا رہا ہے اور کرتارپور پھولوں سے سج رہا ہے - حسین اصغر

ہر لیڈر ریاستی امور کو احسن طریقے سے نبھانے کی طاقت عوام سے لیتا ہے۔ گورننس کے باعث وہاں بھی حالات باعث شادمانی نہیں۔ ریاستِ مدینہ کا نام لے کر ہر شخص اْسے طعنے کستا نظر آتا ہے۔ کوئی بھی واقعہ ہو اچانک سب ریاستِ مدینہ کا نام لے کر اْس کے گریباں کا رْخ کیے دکھائی دیتے ہیں۔ ان میں گوشت کو سرنج لگا کر وزنی کرنے والا قصاب، مردے کو سردخانہ سے نکالنے کی رشوت مانگنے والا خاکروب، جیل میں قیدیوں کے کھانے میں کیڑے ڈالنے والا جیلر، چالان کے غرض سے گاڑی روک کر چائے پانی کا بندوبست کرنے والے اہلکار، مسجد کے منبر پر بیٹھ کر کفر کے فتوے لگانے والے قاری صاحب، ادرک لہسن کو تیزاب سے دھونے والا سبزی فروش، مریضوں کو بعد از مرگ بھی ہسپتال میں رکھ کر فی گھنٹہ ہزاروں بٹورنے والا ڈاکٹر، قبروں سے تازہ پھول چن کر بیچنے والا گورکن سب ایسے شامل ہوتے ہیں جیسے مدینہ کی ریاست اْس ایک اکیلے شخص کی زمہ داری ہو اور سب اس فرض سے مبرا ہوں۔

ابھی خبر آئی ہے کہ وہ تھک رہا ہے۔ اب دفتر کم کم آتا ہے۔ مسائل بہت زیادہ ہوں اور حل کا کوئی سراغ دور دور تک سْجھائی نہ دے تو مضبوط سے مضبوط اعصاب بھی جواب دینے لگتے ہیں۔ وہ تھک جائے تو پھر کیا ہوگا؟ آگے کنواں ہے اور پیچھے کھائی۔ پھر یہ قوم اْمید باندھے گی تو کس سے؟ مدد کرنے آئے گا تو کون؟

وہ جانتا ہے کہ اْس کی زندگی کا ایک پیٹرن ہے۔ انسان اگر اپنی زندگی کے پیٹرن سمجھ جائے تو بہت سی مشکلات سے بچ سکتا ہے اور بہت سے خار دار راستوں سے دامن بچا سکتا ہے۔ اْسے قدرت بدترین امتحان میں ڈالتی ہے مگر ہمیشہ فتح کا علم لہراتا اْس امتحان سے نکالتی ہے۔ جنگجو کی پہچان مگر اْس کی آخری بازی ہوتی ہے۔ وہ اس میں کامیاب ہوا تو ٹھیک مگر ناکام ہوا تو دنیا شوکت خانم ہسپتال، ورلڈ کپ، نمل یونیورسٹی سب بھول جائے گی۔ اْس کی کامیابی میں پاکستان کی کامیابی ہے۔ وہ آخری جنگ میں ہے اور ہم اْس کے لیے دعا گو۔ کہیں وہ تھک نہ جائے مگر وہ تھک گیا تو؟