ریاستی حقوق؛ قادیانیوں کا مسئلہ فی الحال آئین کے ساتھ - حامد کمال الدین

اعتراض:
اسلامیانِ پاکستان کے قادیانیوں کے ساتھ حالیہ تعامل کے حوالہ سے... ایک اعتراض یا اشکال مختلف الفاظ کے ساتھ وقتاً فوقتاً سامنے لایا جاتا ہے: قادیانی کیا پاکستان کے شہری نہیں جو ریاستی عہدوں پر انہیں فائز دیکھنا، یا اور بہت سے ریاستی حقوق سے اُن کا محظوظ ہونا وغیرہ، آپ کو برداشت نہیں ہو رہا...؟

جواب:
ہمارے اپنے احساسات بےشک قادیانیوں کے متعلق یہی ہوں کہ – بطور مسلم امت و مسلم معاشرہ – اپنی کوئی ایک بھی امانت ہم انہیں سونپنا گوارا نہ کرتے ہوں، پھر بھی واقعہ یہ ہے کہ آپ فی الحال ایک ’’جدید ریاست‘‘ کا ڈسپلن اختیار کیے ہوئے ہیں اور بوجوہ اسی کے پابند۔ لہٰذا ’’عقیدہ‘‘ اور ’’ملت‘‘ تک کے مسئلے یہاں ’’جدید ریاست‘‘ کے فارمیٹ سے بیگانہ نہیں رکھے جاسکتے۔ چنانچہ تھوڑی دیر کےلیے اسی زبان میں بات ہو گی۔

جہاں تک ریاستی عہدوں یا ریاستی حقوق سے مستفید ہونے کی بات ہے، تو قادیانیوں سمیت یہاں کی ہر مذہبی اقلیت کو ملکی آئین بلاشبہ ان کے حقوق دیتا ہے۔ مسئلہ صرف ایک ہے، جسے قادیانی لوگ تو نظرانداز کریں گے ہی، ان کی وکالت میں سرگرم یہاں کے بہت سے لبرل طبقے بھی اس کے معاملے میں ایک تجاہلِ عارفانہ سے کام لے رہے ہیں: بھائی یہ ’ریاستی عہدے‘ یا ’ریاستی حقوق‘ قادیانیوں کےلیے ’ریاست کے آئین‘ کو ماننے سے پہلے یا ’آئین‘ کو ماننے کے بعد؟ آئین جو قادیانیوں کو ایک ’غیر مسلم اقلیت‘ قرار دیتا ہے۔ جبکہ اصل مسئلہ کیا ہے؟ وہ اپنے آپ کو ’غیر مسلم اقلیت‘ ہی تو نہیں مانتے جو اپنے نام میں باقاعدہ ’احمدی مسلم‘ لکھتے ہیں۔ (اپنے آپ کو مسلم کہلانے پر مصر ایک قادیانی کا تصادم اصل میں آئین کے ساتھ ہے، یہ بات ہر ابہام سے بالاتر ہے)۔

پس واضح ہو، ریاست کے اعلیٰ عہدوں پر ان کے حق کا انکار فی الوقت ہماری جانب سے اُن کے ’’اسلام کا منکر‘‘ ہونے کی بنیاد پر نہیں ہو رہا (’اسلام کے منکر‘ تو ظاہر ہے ملک کے عیسائی بھی ہیں ہندو بھی سکھ بھی، جبکہ پاکستان میں ایک ہندو چیف جسٹس ہو چکا ہے) بلکہ قادیانیوں کے ریاست کے اعلی عہدوں پر فائز ہونے کے ’حق‘ کا انکار ان کے ’آئین کا منکر‘ ہونے کی بنیاد پر ہے۔ اور ’آئین کا منکر‘ ہونے کی بنیاد پر تو اس ماڈرن دنیا میں آپ کے ساتھ کچھ بھی کیا جا سکتا ہے حضراتِ لبرل! کیا نہیں؟

لہٰذا قادیانیوں کے مسئلہ میں بار بار ہمارے سامنے ’اقلیتوں‘ یا ’شہریوں‘ کی بات لانا نری ایک فنکاری ہے۔ دیانتدار ہیں تو مسئلہ کو اس طرح پیش کیجئے کہ ایک ایسا شہری جو ریاست کے آئین کا منکر ہے اسے ریاست کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے کا حق کیوں نہیں؟ اس کا جواب آپ کو اپنے سوال ہی سے مل جائے گا۔ لہٰذا اپنا سوال براہ کرم ضرور درست کر لیں۔ ہمارا مسئلہ بھی حل آپ کا بھی۔

غرض قادیانی کا معاملہ اتنا واضح اور آسان ہے کہ اگر وہ آئینِ پاکستان کو مانتا ہے تو اپنے مسلمان ہونے کا انکاری ہوتا ہے۔ اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے تو آئین پاکستان کا انکاری ہوتا ہے۔

یہ ہے وہ فرق جو ’باقی اقلیتوں‘ اور ’’قادیانی اقلیت‘‘ کے مابین ہے۔ ان کا تنازعہ آپ دستور کے ساتھ ختم کروا دیجئے (جس طرح ملک کی باقی اقلیتوں کو دستور کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں)، اس کے بعد ’اقلیتوں‘ کے حوالے سے قادیانیوں کا جو ریاستی مسئلہ آپ اٹھانا چاہیں اٹھا لیں۔ الا یہ کہ آپ اس ملک میں قادیانیوں کی بی ٹیم بن کر __ اصل مسئلہ کو دانستہ نظر انداز کرتے ہوئے ’اقلیتوں‘ کی دُہائیاں دے دے کر __ یہاں کے عام آدمی کو کنفیوز کرنے کی مار پر ہوں۔

اور میرا خیال ہے وقت آ گیا ہے کہ قادیانیوں کےلیے اعلیٰ پوزیشنوں کےلیے گنجائش نکالنے پر مصر لوگوں کی اپنی حیثیت کا بھی تعین کیا جائے۔ یہ کوئی معمولی مسئلہ بہرحال نہیں ہے۔