’’فلم۔ ایک پُل ‘‘ امجد اسلام امجد

چند برس قبل مجھے فرینکفرٹ جرمنی جانے کا اتفاق ہوا، انور مسعود میرے ساتھ تھے۔ وہاں کی دیکھنے والی چیزوں کی فہرست تو خاصی طویل تھی مگر وقت کی کمی کی وجہ سے طے پایا کہ سب سے پہلے گوئٹے میوزیم کی زیارت کی جائے کہ وہ جرمنی کے کلچرل چہرے کا نمایاں ترین نقش ہے اور ہمارے ادب میں اس کے نام کی گونج سب سے زیادہ ہے۔

کل یعنی جمعے کی شام گوئٹے کلچرل سینٹر کا نسبتاً نیا دفتر واقع اسکاچ کارنر ڈھونڈنے کے دوران شوکت فہمی سے باتیں کرتے ہوئے یہ بات بار بار درمیان میں آئی کہ کس طرح زندہ قومیں اپنے محسنین کویاد رکھتی ہیں اور ایک ہم ہیں کہ… ممکن تھا کہ بات پھر اُسی نوحہ گری کی طرف نکل جاتی جو اب ہماری عادت ثانیہ بنتی جا رہی ہے کہ اچانک مطلوبہ گیٹ نظر آ گیا اور ہم اپنے قومی شاعر اقبال کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کو بھول کر اُس میں داخل ہو گئے کہ یہاں آج عزیزی ڈاکٹر احمد بلال کی دو مختصر دورانیے کی فلموں کی نمائش ہونا تھی جن میں سے ایک خواجہ احمد عباس مرحوم کے ایک افسانے ’’روپے آنے پائی‘‘ کی ڈرامائی تشکیل تھی جو ڈاکٹر شہلا نقوی نے کی تھی اور دوسری میری لکھی ہوئی ایک مختصر فلم ’’دوسری طرف‘‘ تھی۔

احمد بلال گزشتہ دو تین ماہ سے صاحب فراش تھا اور ابھی حال ہی میں اُس نے تھوڑا بہت چلنا پھرنا شروع کیا تھا مگر فن سے لگن کا کمال یہ ہے کہ وہ نہ صرف دس پندرہ خاصی دشوار گزار سیڑھیاں آسانی سے چڑھ گیا بلکہ پوری تقریب کے دوران بھی متحرک رہا۔ فلموں کی اسکریننگ والے ہال کمرے میں ستر اسّی لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش تھی جو ہمارے آنے سے پہلے ہی تقریباً پُر ہو چکی تھی زیادہ تعداد فلم ، آرٹ ، ڈیزائن اور ڈرامے سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات کی تھی۔
دیگر حاضرین میں زیادہ نمایاں چہرے فریال گوہر، نورالحسن، آر ایم نعیم ، آغا نثار اور اسرار چشتی کے تھے۔ عزیزی عائشہ بلال نے بتایا کہ دونوں فلموں کی اسکریننگ کے بعد ایک مشترکہ گفتگو کا سیشن ہو گا جس میں ان فلموں سے متعلق لوگ حاضرین کے سوالوں کے جواب دینگے۔

دونوں فلمیں چونکہ پہلے سے میری دیکھی ہوئی تھیں اور میں اُن کے موضوعات اور پس منظر سے بھی واقف تھا جو ناظرین کی اکثریت کے لیے قدرے غیر مانوس اور off beat تھے اس لیے میرا خیال تھا کہ شائد ہی کوئی گہرا اور سنجیدہ سوال کیا جائے گا کہ بظاہر کلاسیکی اُردو ادب اور معاشرتی اصلاح اور اصلاحی تنقید کے موضوعات ان بچوں بچیوں کا ’’چائے کا کپ‘‘ نہیں لگتے تھے لیکن حیرت اور خوشی کی بات یہ ہوئی کہ نہ صرف ناظرین نے ان کی کہانیوں اور کرداروں کو غور سے دیکھا اور سمجھا بلکہ ان کے کیے گئے سوالات میں بھی ایسی تازگی اور گہرائی تھی کہ کچھ ہی دیر میں سب لوگ ایک بے تکلف دوستانہ اور آگہی بنیاد محفل کا حصہ بن گئے اور یوں لگا جیسے ان فلموں نے نئی اور پرانی نسلوں کے درمیان وہ پُل استوار کر دیا ہے جو ماضی ، حال اور مستقبل کو ایک ہی لڑی میں پرو دیتا ہے۔ مزید بات کرنے سے پہلے یہ ضرورت ہے کہ ان فلموں کے موضوعات پر کچھ بات کر لی جائے۔

خواجہ احمد عباس کا افسانہ ’’روپے آنے پائی‘‘ کا مرکزی خیال سرمایہ دارانہ نظام میں ایک باصلاحیت نوجوان کی وہ بے بسی تھی کہ اُسکی زندگی کا محور اُن سِکوں کا حساب کتاب رکھنا اور اُن کے لیے دوڑ دھوپ کرتے رہنا بن گیا ہے جن کا آپس کی ضروریات سے مسلسل ٹکرائو جاری و ساری رہتا ہے۔ اس تقریباً اسّی برس قبل کی لکھی گئی کہانی کو شہلا نقوی اور احمد بلال نے ایک ایسے اسکرین پلے کی شکل دی جس میں سوائے ایک کردار کے جو شاہنواز زیدی نے کیا اور جسے ایک طرح سے اس کہانی کا راوی بھی کہا جا سکتا ہے، باقی کسی کردار کے پاس کوئی مکالمہ نہیں تھا۔ گویا یہ ایک طرح سے پرانے وقتوں کی خاموش فلم تھی جس کا اس منظر ، کردار اور زمانہ جدید مگر مسئلہ قدیم اور پرانا تھا کہ کس طرح سرمایہ دارانہ نظام افراد کو بھی ہندسوں میں تبدیل کر دیتا ہے اور بالآخر وہ ایک بے معنی سفر کی شکل میں ڈھل کر وقت کی اسکرین سے آئوٹ ہوجاتے ہیں۔ مرکزی کردار کی خودکشی اسی صورتحال اور کیفیت کا ایک بھرپور اور موثر منظر نامہ تھا۔

’’دوسری طرف ‘‘ کا موضوع آج کا سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی کے ذریعے لوگوں کی ذاتی زندگی تک ایسے افراد کی رسائی تھی جس میں بظاہر کھیل، تفریح اور شغل کے انداز میں کی ہوئی باتیں یا حرکات خطرناک نتائج کا ذریعہ بن جاتی ہیں نوجوان نسل میںبے نامی فون کالز اور ان کی وساطت سے اجنبی لوگوں کی زندگیوں میں دراندازی ایک مشغلے کی صورت اختیار کر چکی ہے جس سے بیشمار اور طرح طرح کے معاشرتی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ اس مختصر کہانی میں ایسی ہی ایک واردات اُسکے مضمرات اور اثرات کو موضوع بنایا گیا تھا جس کا لب لباب یہی تھی کہ کسی کی ادا کسی کی جان بھی لے سکتی ہے اس لیے ہمیں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔

بظاہر یہ دونوں موضوعات آج کی فلموں اور ڈراموں کی مروّجہ سنسنی خیزی، جنس پرستی ، بے حیائی پر مبنی اخلاقیات اور ناجائز رشتوں کی حوصلہ افزائی کے دور میں ناظرین اور بالخصوص نوجوان نسل کے پسندیدہ موضوعات نہیں بنتے تھے مگر جس طرح سے سوالات لیے گئے اور جس گہرائی اور شدت سے ان میں پیش کردہ حقیقتوں کو سمجھا اور سراہا گیا وہ ایک بہت ہی حوصلہ افزا اور دلکش بات ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جسے ہماری نئی نسل فلم اور ڈرامہ دونوں میں سنجیدہ اور بامعنی موضوعات کو دیکھنا چاہتی ہے۔ فرق صرف ان تک اپروچ کا ہے۔ سو ضرورت اس بات کی ہے کہ ان پُلوں کو مزید مضبوط اور ہموار کیا جائے جن کی وساطت سے کل آج اور کل ایک ہی ڈال کے پتے بن جاتے ہیں۔