اور پھر صلاح الدین مر گیا - جویریہ سعید

تین ستمبر سے بچوں کے اسکول کھل گئے، اور صلاح الدین پولیس کی حراست میں قتل کر دیا گیا۔ کیا ان دونوں باتوں میں مماثلت تلاش کرنا حماقت ہے؟ پھر میرا ذہن ایک بات سے دوسری بات کی طرف کیوں جاتا ہے؟

منگل کو گرما کی طویل تعطیلات کے بعد نئی کلاسز کا آغاز ہونا تھا، اسکول کھلنے تھے۔ سرد علاقوں میں گرما ایک نعمت ہے جس کے لیے سارا سال بےچینی سے انتظار ہوتا ہے۔ برف سے پاک خشک سڑکوں پر گاڑی دوڑائیے، عام جوتے اور چپلیں پہن کر باہر گھومیے، لمبے گرم دنوں میں علی الصباح شہر سے باہر سکون اور خوشی کی تلاش میں نکل جائیے اور رات گیارہ بجے بھی گھر کو لوٹتے ہوئے آسمان پر چھپی چھپی سی روشنی کی جھلک دیکھ کر خوش ہوجائیے کہ روشنی میں گھر کو لوٹ آئے۔ دوسرے صوبوں، شہروں اور ملکوں کی سیر کے پروگرام بنائیے، قرب و جوار کے سارے جنگل، پہاڑ، جھیلیں اور باغات چھان ماریے۔

گویا گرما خوشی کے ایک بھرپور تہوار کا نام ہے۔ ایسی گرمائی چھٹیوں کے اختتام پر پت جھڑ کے سائرن کے ساتھ اسکول کے بور کردینے والے یکسانیت زدہ معمولات کے آغاز پر بھلا کون خوش ہوسکتا ہے۔ مگر سچ یہ ہے کہ بچے بہت خوش، بہت پرجوش تھے۔ والدین ایک دوسرے کو کہہ رہے تھے کہ اب تو بچوں کی بس ہوگئی ہے، ذرا دیکھو تو، اسکول کھلنے کی ان کو کتنی خوشی ہورہی ہے۔

اسکول یونیفارمز اور ضروری اشیاء کی خریداری سے واپسی پر صاحب نے بچوں کو چھیڑنا چاہا، "چلو بھئی! بہت عیش ہوگئے، اب تو سب کو اسکول جانا ہوگا۔اب پتہ چلے گا۔" بچے ناسمجھی کے عالم میں بولے "ہم تو کب سے اسکول کھلنے کے منتظر تھے۔ خوب مزہ آئے گا ابو۔"

ہم نے صاحب کا ہاتھ دبا کر اور بھنویں اچکا کر عرض کی، " ان کا دل خوامخواہ خراب کرنے کی کوشش نہ کریں۔ یہ ہمارے آپ کے اسکول نہیں جہاں جانے کا سوچ کر ہی وحشت و بے زاری طاری ہوتی تھی۔ یہ کہیں بہتر اسکول ہیں۔"

اپنے اور اپنے بچوں کے اسکول سے تعلق میں تقابل دیسی والدین کا ایک پسندیدہ موضوع ہے۔ اسکول کھلنے پر منوں کے حساب سے دیا گیا ہوم ورک اور بھاری بستے اور کتابیں، بدمزہ کلاس روم سرگرمیاں اور ٹنوں کے حساب سے عجیب و غریب امتحانات ہی اسکولوں میں عدم دل چسپی کا سبب نہ تھے، ان اسکولوں میں اذیت کے اور بھی بہت سے سامان تھے۔ اساتذہ کے بے رحم رویے، Favouritism، امیر اور خوش شکل اور بااثر والدین کے بچوں پر مہربانیاں اور اس لحاظ سے کم تر بچوں کے ساتھ خراب رویے، چھوٹی غلطیوں پر بے رحمانہ سزائیں، بے عزتی کرنا، اگر کوئی بچہ کسی تکلیف میں مبتلا ہے تو انسانوں کی طرح اس کا احساس کیے بغیر اس سے چڑنا، نفرت کرنا، اس کی مدد سے گریز کرنا۔ یہ اور ایسی کئی تلخ یادوں کی بنا پر، پیلے اسکولوں ہی نہیں بلکہ بہت سے نام نہاد انگریزی اور پرائیوٹ اسکولوں سے فارغ التحصیل افراد بھی اپنے بچوں کو اسکول کے نام پر خوش ہوتا دیکھ کر حیران اور افسردہ ہوجاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   پھولوں کی حفاظت ۔ایمن طارق

ایک استاد ہوم ورک مکمل نہ ہونے کی بنا پر سفاکی سے مارتا ہے۔ دوسرا پرائیوٹ اسکول کا ملازم ہے، نوکری جانے کے خوف سے کھلے تشدد سے گریز کرتا ہے مگر وقتا فوقتاً بچے کی بے عزتی، نمبر کاٹنے اور تنگ کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ یہ استانی ایک ذرا شرمائی، ڈری ہوئی سی کم صورت لڑکی کا بڑی بے رحمی سے بھری کلاس میں مذاق اڑاتی ہے۔ کسی بچے کے بال صحیح سے سنورے نہ تھے، یا کسی کے جوتے پالش نہ تھے، یا کوئی غلط جوتے پہن آیا ہے، یا کسی کے ناخن تراشے ہوئے نہیں ہیں، یا کسی کی وردی میں کوئی جز کم ہے تو اس کو ہر ممکن طور پر ایسی بے عزتی کرنے والی سزا دی جائے گی کہ اس کی سات نسلیں بھی دوبارہ اسکول جانے کے خیال سے ہی کانپنے لگیں۔

جوتے مناسب نہیں؟ اب سارا دن ننگے پیر اسکول میں گھومو!
بال نہیں سنورے ہوئے؟ بھری اسمبلی میں اسٹیج پر بلا کر دکھایا جارہا ہے کہ اسکول کا سب سے گندہ طالب علم دیکھنا ہے تو یہ دیکھو!
بال بڑھے ہوئے ہیں؟ ابھی قینچی لاؤ اور سب کے سامنے اس کے بال الٹے سیدھے طریقے سے کاٹ ڈالو۔

اذیت دینے کے کون سے طریقے ہیں جو ان استانیوں اور اساتذہ کو نہیں سوجھتے اور منہ پر تھپڑوں یا ہاتھوں پر چھڑی کی بارش کرتے ہوئے سامنے کھڑے بچے کی معصومیت پر نہ انہیں ترس آتا، نہ راتوں کو ڈراؤنے خواب پریشاں کرتے نہ اس بچے کی سفید پڑتی رنگت ان کے دل کے تار ہلاتی جس کی عزت سب کے سامنے تار تار کی گئی۔ جی ہاں! عزت صرف اس وقت ہی تار تار نہیں ہوتی جب کسی کے ساتھ جنسی زیادتی کی جائے، کسی کو جذباتی، نفسیاتی یا جسمانی ایذا رسانی دے کر بھی اس کی روح کو چیرا پھاڑا جاسکتا ہے۔

ہمارے بچوں کو کچھ عرصہ پاکستانی تعلیم گاہوں کا بھی تجربہ رہا۔ ایک دن کہنے لگے، " مما استاد صاحب بری طرح مارتے تھے، اس سے اتنا درد نہیں ہوتا۔ سب سے بدترین سزا جس پر خون کھول جاتا، وہ یہ تھی کہ کلاس کے کسی بچے کو کہہ کر چلے جاتے کہ جب تک میں واپس لوٹ کر نہ آؤں، اس کو مارتے رہنا۔ مما آپ کو اس اذیت کا اندازہ نہیں جو اپنے ایک ہم جماعت کو دوسرے ہم جماعت کے ہاتھوں پٹتے دیکھ کر ہوتی ہے۔"

مدارس، گورنمنٹ اور پرائیوٹ اسکولوں میں سے کوئی بھی معصوموں کی اذیت رسانی کی اس لعنت سے محفوظ نہیں۔ کسی کا حصہ کم اور کسی کا زیادہ ہوگا اور کبھی کبھی زیادہ کم کا سوال نہیں بلکہ صرف صورتیں مختلف ہوتی ہیں۔ بلاشبہ ان سب کے بیچ خدا ترس اور مشفق اساتذہ بھی پائے جاتے ہیں مگر اسکولوں کی عمومی فضا کیسی ہے، اس کا اندازہ کرنا ہو تو اسکول کے نام پر اپنے بچوں کی خوشی پر حیران اور افسردہ ہوتے دیکھیے۔

یہ بھی پڑھیں:   خدارا! اپنے بچوں کو سمجھیں - عبدالباسط ذوالفقار

صلاح الدین کا کیا قصہ تھا؟
وڈیوز سے ظاہر ہے کہ دلیر سپاہیوں کو اندازہ ہو رہا ہے کہ یہ مظلوم ذہنی طور پر معصوم ہے، اسی لیے اس سے لطف بھی لے رہے ہیں، مگر پھر بھی؟ پھر بھی اس کو اتنا مارا کہ وہ مرگیا؟

آپ کو معلوم ہے انسان کے لیے سب سے بڑی لعنت کیا ہے؟ شقاوت قلبی و بے حسی! اور سب سے بڑا انعام کیا ہے؟ رحم دلی اور کسی کے درد کا احساس! فرمایا: مَنْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنْ الرِّفْقِ فَقَدْ أُعْطِيَ حَظَّهُ مِنْ الْخَيْرِ وَمَنْ حُرِمَ حَظَّهُ مِنْ الرِّفْقِ فَقَدْ حُرِمَ حَظَّهُ مِنْ الْخَيْرِ "جس کو بھی رحم دلی میں سے حصہ دیا گیا اسے خیر کا حصہ عطا کیاگیا۔ اور جس کو رحم دلی کے اس حصے سے محروم کردیا گیا ، اسے اس کے خیر سے محروم کردیا گیا۔" حوالہ: سنن ترمذی

جسے بھی کسی قسم کا اختیار ملا ہوا ہے، اسے اپنی رحم دلی کی فکر کرنی چاہیے۔ اس رحم دلی کا قتل رفتہ رفتہ ہوتا ہے۔ کوئی گر پڑا، آپ قہقہہ لگانے لگے۔ کسی کے ساتھ کچھ عجیب ہوگیا، آپ نے سارے زمانے کے سامنے اس کا عیب کھول دیا۔ آپ نے کسی سے سخت لہجے میں بات کی، اس کے چہرے کی رنگت بدل گئی، آنکھوں میں آنسو آئے ، نظریں جھک گئیں، لہجہ پست ہوگیا، مگر آپ کے دل میں کوئی لہر نہ اٹھی، آپ کے ضمیر میں خلش نہ ہوئی، اور ہوئی تو آپ نے اپنے طرز عمل پر نظر ثانی نہ کی۔

یہ بے حسی بڑھتے بڑھتے اس شقاوت قلبی کو جاپہنچے گی کہ کسی کو چوٹ لگے، اور کوئی اس کا بٹوہ چرانے کی فکر میں ہو، کوئی مر جائے اور رشتے دار جائیداد کے حصے بخرے کی بحث کریں، کسی کی بیٹی کو طلاق ہوجائے اور رشتے دار باتیں بنائیں، کوئی مر جائے اور آپ کندھے اچکا کر کہیں کہ ہم کیا کرسکتے ہیں؟

آپ ڈاکٹر ہیں مگر مریضوں کی تکلیف پر ناک بھوں چڑھائیں، اور اگر گورنمنٹ ہسپتال کا مریض ہے تو اس پر چیخنے چلانے سے بھی گریز نہ کریں، بلکہ منہ پھیر کے کہہ دیں کہ دفع ہو جاؤ، میں تمہارا علاج نہیں کرتا، اب کر لو جو کرنا ہے!

کوئی آپ کے تسلط میں ہو اور آپ اس پر جذباتی، نفسیاتی یا جسمانی تشدد کریں اور اتنا کریں کہ یا تو اس کی روح جسم کی قید سے آزاد ہو جائے یا ایسی مسخ ہو جائے کہ پھر ساری زندگی وہ اپنی ذات یا اوروں کے لیے کانٹے بوتا رہے۔ یا یہ کہ کوئی مر جائے اور اپ اپنے محبوب لیڈر کا دفاع کرتے رہیں۔

معاشرے اس شقاوت قلبی اور بے حسی سے مر جاتے ہیں۔ خیر سے محروم ہونے لگتے ہیں۔ صلاح الدین تو اپنا مقدمہ اس کی عدالت میں لے گیا، آئیے ہم آپ اپنے احساس کو مرنے سے بچانے کے لیے بیسک لائف سپورٹ دیتے ہیں۔