جب بارش آتا ہے - ابو الحسین آزاد

کراچی میں مقیم دو دوستوں کے درمیان اس بات پر جھگڑا ہو گیا کہ پانی مذکر ہے یا مؤنث؟ ایک دوست (جس کا تعلق خیبر پختون خوا سے تھا) اس کا کہنا تھا کہ پانی بہتی ہے جب کہ دوسرا دوست (جس کا تعلق پنجاب سے تھا) اس کا کہنا تھا کہ پانی بہتا ہے۔ بالآخر طے یہ ہوا کہ فیصلے کے لیے کسی اہلِ زبان کی خدمات حاصل کی جائیں۔ وہ جس گلی میں رہائش پذیر تھے اس کی نکڑ پر دلی سے ہجرت کر کے آئے ہوئے ایک بزرگ کا گھر تھا۔ دونوں ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ''بابا جی! پانی بہتی ہے کہ بہتا ہے؟" بابا جی جو ابھی تک پان خوری کے شغل سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ انہوں نے ایک پچکار کے ساتھ پان کی پیک زمین پر تھوکی اور جیب سے دستی رومال نکال کر منہ صاف کرتے ہوئے بولے: "برخودار! پانی تو بہے ہے۔"

بابائے اردو مولوی عبد الحق ''قواعدِ اردو'' میں لکھتے ہیں: ''اردو میں تذکیر و تانیث کا معاملہ بہت ٹیڑھا ہے اور ایسے قواعد کا وضع کرنا جوسب صورتوں پر حاوی ہوں، بہت مشکل کام ہے۔'' اسی طرح آکسفورڈ کی شایع کردہ ''اردو انگریزی لغت'' کے مقدمے میں بھی جہاں اردو کے اور بہت سے امتیازی اوصاف پر روشنی ڈالی گئی ہے، وہیں خصوصیت کے ساتھ مذکر مؤنث کے چیستان کوبھی زیرِ بحث لایا گیا ہے۔

اردو میں مذکر مؤنث کا میدان انتہائی وسیع ہے۔ یہاں بے جان اشیاء، جذبات و احساسات، افعال، امدادی حروف اور حروفِ اضافت تک میں مذکر مؤنث کا لحاظ رکھنا پڑتا ہے۔ اگر آپ کی سہل پسند (آسان لفطوں میں کام چور) طبیعت یہ چاہے کہ آپ کو دوچار ایسی نشانیاں بتا دی جائیں جن کی مدد سے آپ مذکر مؤنث کی پہچان کرلیں تو آپ کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوسکتی۔ اس لیے کہ بابائے اردو نے''قواعد اردو'' میں مذکر مؤنث کے کوئی چالیس کے لگ بھگ قاعدے ذکر کیے ہیں۔جن میں اکثر قاعدے کلی نہیں ہیں بلکہ ان میں بہت سے مستثنیات ہیں اور بہت سے لفظوں میں یہ قاعدے لاگو نہیں ہوتے۔ پھر یہ قواعد اتنے پیچیدہ ہیں کہ ان کی مدد سے مذکر مؤنث میں امتیاز پیدا کرنے کے لیے پہلے آپ کو عربی، فارسی، سنسکرت اور ہندی میں کامل دسترس حاصل کرنا ہوگی۔ گویا ایک اردو سیکھنے کے لیے آپ کو مشرقی لسانیات کا باخبر عالم بننا پڑے گا۔

ظاہری سی بات ہے یہ کام صرف شان الحق حقی، ڈاکٹر سید عبد اللہ، مولوی عبد الحق، مشفق خواجہ اور جون ایلیا ہی کرسکتے ہیں۔ان ''مرحوموں'' کے مقابلے میں ہم تو محروم ہی بھلے۔

گویا واضعِ لغت نے معاملے کو کسی قاعدے ضابطے کا پابند بنایا ہی نہیں بلکہ ہر لفظ کو اختیارِ جنس کی آزادی (freedom of gender selection) دی گئی ہے۔ اس مذکر مؤنث (نہ کہ مادر پدر) آزادی کا نتیجے میں صورتِ حال یہ ہے کھڑکی مؤنث ہے تو روشن دان مذکر، دروازہ مذکر ہے تو چوکھٹ مؤنث، میخ مؤنث ہے تو کیل مذکر اور رہی / رہا سانس تو جونؔ ایلیا کا کہنا ہے کہ


آپ میں کیسے آؤں میں تجھ بن

سانس جو چل رہی ہے آری ہے


جبکہ مفتی محمد شفیع عثمانی مرحوم فرماتے ہیں:


لب پر دم آخر جو ترا نام آگیا

چڑھتا ہوا یہ سانس بڑے کام آگیا


اب بتائیے ہمارے جیسے ''سادہ زبان'' بندے کدھر جائیں۔ اردو مذکر مؤنث کے معاملے کو ہلکا لینے والوں کو یہ جان کر یقینا حیرت کا جھٹکا لگے گا کہ مولانا ابوالکلام آزاد کی ''تذکرہ'' اور ''غبارِ خاطر'' میں بھی رام مالک نے کوئی پانچ چھ مقامات پر تذکیر و تانیث کی غلطیوں کی نشان دہی کی ہے، کیونکہ مولانا مکہ میں پیدا ہوئے تھے اور ان کی مادری زبان عربی تھی۔ انہوں نے اردو آٹھ سال کی عمر میں کلکتہ آ کر سیکھی تھی۔ یہ اس عبقری اور عالی دماغ شخص کی بات ہو رہی ہے کہ جس کی نثر کی چاشنی کا مزہ چکھ کر رئیس المتغزلین حسرت موہانی کو اپنی نثر پھیکی محسوس ہونے لگی اور جس کی وفات پر برطانیہ کے آخری نابغہءِ روزگار فلسفی برٹرینڈرسل نے ان الفاظ میں اظہارِ افسوس کیا کہ: '' مجھے یوں لگ رہا ہے جیسے وہ چشمہ خشک ہوگیا ہے جس سے مجھے شعور اور آگاہی کا آبِ حیات ملا کرتا تھا۔''

داغؔ نے یوں ہی تھوڑی کہا تھا


نہیں کھیل کوئی داغ ؔیاروں سے کہہ دو

کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے


جن لوگوں کی مادری زبان پنجابی، ہندکو، سندھی (غالبا) یا سرائیکی ہوتی ہے، انھیں تو اردو سیکھنے کے لیے کچھ خاص مشقت نہیں اٹھانا پڑتی، اس لیے کہ ان زبانوں میں تذکیر و تانیث کے قاعدے قریب قریب اردو کی طرح ہی ہیں، البتہ پشتو، چترالی، انگریزی، عربی اور بلوچی وغیرہ بولنے والوں کو دقت پیش آتی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یہ لوگ صحیح اردو سیکھ ہی نہیں سکتے بلکہ ان میں سے لاکھوں ایسے ہوتے ہیں جو مسلسل اردو ماحول میں رہنے اور مطالعہ کی عادت ڈالنے سے ٹھیک ٹھا ک اردو بولنا سیکھ لیتے ہیں۔ البتہ بہت سے لوگوں کی غفلت اور بے توجہی کا نتیجہ یہ بھی نکلا ہے کہ آج تذکیر و تانیث کی غلطیوں پر مشتمل اردو کے ایک نئے دبستان نے جنم لے لیا ہے جن کی زبان میں بقول ظریف لکھنوی: مجنوں نظر آتی ہے، لیلی نظر آتا ہے۔

اردو کے اس جدید دبستان کے نام ور اساتذہ میں ایک بڑا نام بلاول بھٹو زرداری صاحب کا بھی ہے۔ جنہوں نے ساری زندگی یورپ میں پاکستانیوں کی حالتِ زار پر دل کو سیپارہ کرتے گزاری۔ ان کی والدہ نے ہمیشہ ان کے ساتھ انگریزی میں گفتگو کی اور پھر ایک افسوس ناک حادثے کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کا بار گراں ان کے ناتواں کندھوں پہ آ گرا۔ اردو اگرچہ عمران خان سمیت بہت سے قومی و سیاسی لیڈروں کو نہیں آتی لیکن بلاول صاحب اس معاملے میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ چونکہ بلاول کو پاکستان میں بولی جانے والی کوئی بھی زبان لکھنی، پڑھنی یا بولنی نہیں آتی، اس لیے ان کی اردو علاقائی اثرات کی ملاوٹ سے یکسر پاک اور صاف ہے۔ اُن کی گفتگو سن کر جی چاہتا ہے کہ اس ٹکسالی زبان کو لکھ کر کتابی شکل میں شایع کیا جائے کہ اس دورِ انحطاط میں اردو ادب کی اس سے زیادہ بڑی خدمت اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ (نوٹ برائے ذہین قاری: یہاں ''اردو ادب'' سے اردو کا فکاہیہ اور مزاحیہ ادب مراد نہیں ہے۔)