نظر اور آئینہ- خورشید ندیم

میں نفسیاتی مریضوں کے ایک معاشرے میں زندہ ہوں۔ مشاہدہ اس کی تصدیق کرتا ہے اور آئینہ بھی۔
انفرادی نا آسودگی سے اجتماعی ناکامی تک، متنوع اسباب ہیں جو نفسیاتی عوارض میں ڈھل گئے ہیں۔ نفسیاتی مریض کی ایک نشانی یہ ہے کہ وہ خود کو مریض نہیں سمجھتا۔ میں ہمیشہ اپنے رویے کے لیے ایک دلیل رکھتا ہوں۔ اب درست رائے تو وہی دے سکتے ہیں جنہیں اس رویے سے پالا پڑتا ہے۔ وہی بتا سکتے ہیں کہ میرا طرزِ عمل کتنا متوازن ہے۔ ہم میں سے ہر شخص یہ خیال کرتا ہے کہ وہ صحت مند ہے۔ خرابی تو دوسروں میں ہے جو اسے سمجھ نہیں سکے۔

معاشی بے مائیگی نفسیاتی طور پر غیر متوازن بنا سکتی ہے مگر مشاہدہ یہ ہے کہ آسودہ حال بھی نفسیاتی مریض ہوتے ہیں۔ اگر سروے ہو تو شاید امرا کے طبقے میں ایسے مریضوں کی تعداد زیادہ ہو۔ سوشل میڈیا پر ان دنوں جو ہنگامہ برپا رہتا ہے، بالخصوص سیاسی رضا کاروں میں، اگر کوئی ماہرِ نفسیات اس کا تجزیہ کرے تو یقیناً اسے نفسیاتی مریضوں کا مشغلہ قرار دے۔ شخصی نفسیات میرا موضوع نہیں؛ تاہم میں سماجی نفسیات کو سمجھنے کی کوشش کرتا رہتا ہوں۔
روایتی معاشرے نفسیاتی طور پر زیادہ متوازن ہوتے ہیں۔ یہ وہ معاشرے ہیں جو فطری انداز میں ارتقائی مراحل سے گزرتے ہیں۔ یہ تبدیلی کے باوجود، انسان کے فطری مطالبات کی تسکین کا سامان کرتے ہیں۔ یہ اہتمام سماجی بنت کا حصہ ہوتا ہے۔ انسان کے فطری مطالبات اصلاً چار ہی ہیں: مادی، اخلاقی، جمالیاتی اور نفسیاتی۔

مادی مطالبات وہ ہیں جن کا تعلق جسم سے ہے۔ جیسے بھوک۔ جیسے پیاس۔ جیسے جنس۔ اخلاقی وہ ہیں جن کے زیرِ اثر وہ کسی فعل، رویے یا شے پر اچھا یا برا ہونے کا حکم لگاتا ہے۔ جمالیاتی حس بھی فطری ہے جس کی بنیاد پر وہ کسی چیز کے خوش شکل، خوش رنگ، خوش گلو یا دیدہ زیب ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔ انسانی وجود کا نفسیاتی پہلو وہ ہے جو اسے کسی سے قریب اور کسی سے دور کرتا ہے۔ جو کبھی اس کی آنکھوں سے مینہ برسا دیتا ہے اور کبھی ہونٹوں پہ گلاب کھلا دیتا ہے۔ روایتی معاشرہ اپنے رسم و رواج اور اجتماعی رویے میں ان چاروں پہلوؤں کو پیشِ نظر رکھتا ہے۔
ہر روایتی معاشرہ ایسے رویوں کو سماجی عزت کا معیار بنا دیتا ہے جو دوسرے کی بھوک کا مداوا کرتے ہوں۔ وہ نکاح شادی جیسے اداروں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ موسیقی، گائیکی، شاعری اوردوسرے فنونِ لطیفہ کو فروغ دیتا ہے۔ مذہبی رسوم اور مناسک روایتی سماج کے اجزائے ترکیبی میں شامل ہوتے ہیں۔ یہ سب اس لیے ہے کہ انسان کے مادی، جمالیاتی اور اخلاقی مطالبات پورے ہوتے رہیں۔ موت کی ساری رسمیں اس کے سوا کیا ہیں کہ انسان نفسیاتی طور پر آسودہ ہو۔ میرا دوست خلیل ملک اپنے گاؤں میں مرنا چاہتا تھا، اس لیے کہ گاؤں کی موت رومانوی ہوتی ہے۔ عورتیں بین کرتی اور ایسا سماں باندھ دیتی ہیں کہ پتھر دل بھی رو پڑتے ہیں۔

انسان کے تہذیبی سفر نے روایتی معاشرے کو کچل ڈالا؛ تاہم جہاں یہ تہذیبی ارتقا ایک فطری طریقے پر ہوا، وہاں انسان کی ان چاروں ضروریات کا باندازِ دیگر خیال رکھا گیا۔ اگر روایتی موسیقی ختم ہوئی تو اس کی جگہ جدید موسیقی نے لے لی۔ سٹریٹ تھیٹر ختم ہوا تو سینما آ گیا۔ مذہب نے خود کو نئے ماحول میں ڈھال لیا مگر موجود رہا۔ گویا تہذیب نے جو نئی صورت اختیار کی، اس میں انسان کے فطری مطالبات کا لحاظ رکھا گیا۔ جن معاشروں میں یہ تبدیلی فطری انداز میں آئی وہاں لوگ آسودہ رہے۔ ان میں نفسیاتی عوارض کم پیدا ہوئے۔

جہاں غیر فطری انداز میں تبدیلی آئی، وہاں کی سماجی بُنت پیچیدگیوں کا شکار ہو گئی۔ مثال کے طور پر جہاں جدیدیت داخلی ارتقا کے بجائے کسی خارجی دباؤ کے نتیجے میں در آئی، وہاں انسان نے اِسے فطری مطالبے کے تحت نہیں، ایک جبر کے زیرِ اثر قبول کیا۔ جیسے ہمارا معاشرہ۔ انگریز یہاں آئے تو جدیدیت بھی لائے۔ ہندوستانی سماج تاریخ سے بچھڑا ہوا اور باہر کی دنیا میں آنے والی تبدیلیوں سے بے خبر تھا۔ ہم نے تبدیلی کو تاریخی جبر کے تحت قبول کیا یا احساسِ کمتری کے ساتھ۔ یا پھر ردِ عمل میں اسے مسترد کر دیا۔
اس سے جہاں معاشرہ فکری پراگندگی کا شکار ہوا وہاں ایک تہذیبی شترگربگی نے بھی جنم لیا۔ اس نے ایک نئی طرح کا شناختی بحران پیدا کیا۔ یہ کیفیت نفسیاتی عدم توازن پر منتج ہوئی۔ مسلم سماج کو اس سے نکالنے کے لیے مذہبی بنیادوں پر جو اصلاحی تحریکیں اٹھیں، انہوں نے خالص دین کے نام پر ہر مقامی تہذیبی قدر اور رواج کو بدعت قرار دے دیا۔ یوں معاشرے کو اس روایت سے کاٹ دیا جو انسان کے فطری جمالیاتی یا نفسیاتی مطالبے کا جواب تھی۔

دینِ خالص کی اس دعوت میں، قوالی سے لے کر موسمی تہوار تک، تمام رسوم اور فنونِ لطیفہ حرام ہو گئے۔ مزید یہ ہوا کہ پردہ اور دوسری تہذیبی قدروں کی ایسی تعبیروں کو فروغ دیا گیا، جن کو مقامی کلچر کسی طرح قبول نہیں کر سکتا تھا۔ حیدر آباد دکن کی آسودہ حال عورت کا پردہ، جو پالکیوں میں سفر کرتی تھی، پنجاب کی اس محنت کش عورت کو اوڑھانے کی کوشش کی گئی جو سارا دن کھیتوں میں گزارتی اور خاندان کا کم از کم آدھا معاشی بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے تھی۔ اب پتنگ اڑانے کی اجازت تھی نہ شادی پر اظہارِ مسرت کی۔

رہی سہی کسر سیاست میں اٹھنے والی نظریاتی تحریکوں نے پوری کر دی جنہوں نے لوگوں کو فکری ہیجان میں مبتلا کر کے گروہوں میں بانٹ دیا۔ اس سے تشدد ہمارے سیاسی کلچر کا مستقل حصہ بن گیا۔ اشتراکیت تو نام ہی تشدد کا ہے۔ جواباً اسلامی انقلاب کی سیاسی جدوجہد کو بھی معرکہ بدر و حنین بنا دیا گیا۔ 1979ء کے بعد اس ہیجان نے ایک نئی کشمکش کی طرف پیش رفت کی جو مذہبی اور لبرل کی تقسیم پر منتج ہوئی۔
اب معاشرہ پوری طرح مذہبی جنونیت، سیکولر انتہا پسندی اور دہشت گردی جیسے عوارض کی گرفت میں آ چکا تھا۔ اس سارے عمل نے ہمارے معاشرے کو اس کے ماضی سے کاٹ دیا۔ معاشرہ لوگوں کی جمالیاتی، نفسیاتی اور اخلاقی مطالبات کی تکمیل میں ناکام ہو گیا۔ فنون لطیفہ حرام قرار پائے۔ ردِ عمل نے جو متبادل دیا، اُس کا مقامی تہذیبی قدروں سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ جیسے نا قابلِ برداشت شور کے ساتھ، بے ہودہ لباس میں جسمانی کرتب دکھانے کو موسیقی کہا گیا، جب کہ ہماری روایت میں موسیقی کا تعلق سماعتوں سے تھا۔
اقتدار کا بے رحم کھیل اپنے طور پر جاری تھا۔ اب اس کھیل میں ایسے کھلاڑی بھی شامل ہو گئے جو سیاسی اقدار سے ناواقف تھے۔ ان کھلاڑیوں نے ایک نئی ہیجان انگیز سیاست کو متعارف کرایا۔ اس سے ان اقدار کا بھی جنازہ نکل گیا، جو علامتی سطح پر ہی سہی، باقی تھیں اور انہوں نے اس سماج کا بھرم قائم رکھا ہوا تھا۔

جس معاشرے پر یہ سب عذاب اترے ہوں، وہ نفسیاتی طور پر متوازن نہیں رہ سکتا۔ لوگوںکو معاشی اور سیاسی بحران تو دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کی نظر اس تہذیبی اور سماجی بحرانوں کی طرف نہیں گئی جنہوں نے اس معاشرہ کو نفسیاتی مریض بنا دیا ہے۔ جو بزعمِ خویش راہ دکھانے والے ہیں ان کے نفسیاتی امراض دوچند ہیں۔ اکثر نرگسیت کے انتہائی مریض۔ کسی کو اگر اس تجزیہ میں شک ہو تو وہ تجرباتی بنیادوں پر ان کی تعریف کر دیکھے یا تردید۔ پھر ان کی گل افشانی کا مظاہرہ دیکھے، چودہ طبق روشن ہو جائیں گے۔
کوئی معاشرہ اگر اس سطح پر نفسیاتی مریض بن جائے تو کیا کیا جائے؟ دو ہی راستے ہیں۔ اصلاح کی کوشش یا پھر ہجرت؟ معاشرتی اصلاح کی کوشش آسان نہیں اور نہ ہی یہ بہت جلد نتیجہ خیز ہوتی ہے۔ یہ بہت صبر آزما ہے۔ مزید یہ کہ یہاں اصلاح کے امکانات کم و بیش ختم ہو چکے۔ بند معاشروں میں اصلاحی کاوشوں کے لیے امکانات معدوم ہو جاتے ہیں۔ اب ایک ہی راستہ باقی ہے: ہجرت۔
سوال یہ ہے کہ جو ہجرت نہ کر سکیں، وہ کیا کریں؟ اس سوال کا جواب وہی دے سکتا ہے جو خود نفسیاتی مریض نہ ہو۔ اگر آپ نفسیاتی طور پر کسی متوازن آدمی سے واقف ہوں تو اس سے پوچھیے اور مجھے بھی اس کا پتا دیجیے۔ میں بھی اس سوال کا جواب چاہتا ہوں۔