کشمیر کا غم اور لاہور کا جشن میوزیکل فیسٹیول - محمد عاصم حفیظ

لاہور میں تین راتوں کے جشن کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں حمیرا ارشد ابرار الحق جواد احمد سمیت درجنوں فنکاروں کی لائیو پرفارمنس کا اہتمام کیا ہے ۔ کل سے شروع ہونیوالی اس جشن اور فیسٹیول میں فیملیز کی رجسٹریشن کی جا رہی ہے۔ لاہوری کھابے ہوں گے اور میوزیکل نائٹس لاہوری خوب مزے اڑائیں گے۔

سنا ہے ہمارے ہمسائے میں کوئی ظلم و ستم جاری ہے جس پر حکومت اور پوری قوم سراپا احتجاج ہے۔ ہمارے شہریوں اور فوجی جوانوں کی لاشیں گر رہی ہیں۔ جنگ کا خطرہ ہے اور سرحدی کشیدگی اپنے انتہا پر۔ دو ہفتوں سے زائد ہوا کہ ہماری شہ رگ کے لوگ محاصرے میں ہیں انہیں گرفتار کیا جا رہا ہے ۔ گھروں میں قید ہیں۔ روز شہادتیں ہو رہی ہیں اور لڑکیوں کو اغواء کرکے جارحیت کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں لیکن ہمیں اس سے کیا ہم تو جشن منا رہے ہیں۔ موسیقی ہو گی لائیو پرفارمنس ہوں گی۔ سب جھومیں گے، گائیں گے، ناچیں گے، کھابے اڑائیں گے، راتیں رنگیں ہوں گی۔ اس کی تشہیر سوشل میڈیا پر بھرپور کی جا رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں تو بلیک آؤٹ ہے وہاں کے لوگ تو شائد نہ دیکھ سکیں، لیکن دنیا بھر میں رہنے والے کشمیری اور آزاد کشمیر میں بھارتی بمباری سہتے زخمی ہونیوالے اور شہید ہونے والوں کے ورثاء یہ جشن دیکھ سکتے ہیں۔

دوسری جانب بھارت کی آبی دہشت گردی نے بھی ہزاروں لوگ بے گھر کر دیے ہیں۔ فصلیں تباہ ہیں اور مکانات زیر آب۔ لیکن لاہوری جشن منائیں گے کیونکہ لاہور میں نہ تو کوئی گولہ باری ہے نہ کوئی سیلاب ہے اور نہ ہی کشیدگی کا کوئی خطرہ ہے۔ سب خوش باش رہ رہے ہیں اس لئے ان کا جشن منانا بھی تو بنتا ہے نہ۔ لائیو پرفارمینس پر ڈانس کا مظاہرہ کرنا بھی تو بنتا ہے۔ ہم دنیا کو "زندہ دلان لاہور" کا پیغام پہنچانا چاہتے ہیں کہ جب لاشیں گر رہی ہوں، جب فوجی شہید ہو رہے ہوں، سیلاب تباہ کاریاں پھیلا رہا ہو، لوگ بے گھر ہو رہے ہوں، ہم پھر بھی جشن منائیں گے، محفل موسیقی سجائیں گے، کنسرٹ کرکے دکھائیں گے، کیونکہ ہمارا علاقہ تو محفوظ ہے، یہاں کسی جنگ سیلاب یا سرحدی فائرنگ کا کوئی خطرہ بھی نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   تقسیم کشمیر کے آخری مراحل ! - علی حسنین نقوی

آپ اسے دنیا کےلئے ایک پیغام بھی سمجھ ہی لیں کہ ہم کشمیر کے لئے کس قدر اور کس سنجیدگی سے سراپہ احتجاج ہیں۔ حکومت کو اس فیسٹیول سے کیا بلکہ چاہیے تو یہ کہ اس فیسٹیول کو قومی ہی قرار دے دیا جائے تاکہ میڈیا پر بھارتی ظلم و ستم دیکھ دیکھ کر اور شہداء کے تذکرے سن سن کر پریشان قوم تھوڑا سا ریلیکس ہو جائے۔ بات سیدھی سی ہے کہ کشمیریوں پر ظلم و ستم پر اپنی جگہ، سیلاب کی تباہ کاریاں اپنی جگہ، اب کیا ہم موسیقی سے لطف اندوز ہونا، ناچنا گانا اور جشن منانا چھوڑ دیں۔