پاکستانی قوم کا مثبت رخ - طاہر محمود

* چند دن قبل میرے ایک جاننے والے کا ٹچ موبائل سواریوں والی گاڑی میں رہ گیا. انہوں نے کسی سے موبائل لے کر اپنے نمبر پر کال کی تو ڈرائیور نے کال ریسیو کی اور موبائل ایک دکان پر رکھوا دیا. انہوں نے جا کر وہاں سے لے لیا.

* میرا اپنا موبائل ایک دفعہ گم ہو گیا تھا. دوسرے نمبر سے کال کی تو ایک بندے نے کال ریسیو کی اور جگہ بتائی. وہاں جا کر ان سے موبائل وصول کر لیا.

* تقریباً بیس سال پہلے کی بات ہے کہ بارہ تیرہ سال کے تین بچوں کو کھیلتے ہوئے ایک انگوٹھی ملی. گھر جا کر دکھائی تو پتہ چلا کہ سونے کی اور اچھی بھلی قیمت کی ہے. والدین نے آس پاس کے گھروں میں بات کی تو مالک کا پتہ چل گیا. اسے انگوٹھی لوٹا دی. ( وہ بچے میں اور میرے دو کزن تھے. )

* تیرہ سال قبل کی بات ہے کہ میرا کمپیوٹر کا کچھ سامان رکشے میں رہ گیا. رکشے والے کو گھر نہ مل سکا تو اس نے وہ سامان اس دکان پر پہنچا دیا جس دکان سے میں نے کمپیوٹر اور سامان رکشے پر رکھا تھا.

* پچھلے سال میں کالج کے طلباء کے ساتھ ٹور پر اسلام آباد گیا. وہاں ایک مسجد میں نماز پڑھی تو ہمارے ایک ساتھی کی تقریباً چالیس ہزار کی قیمتی گھڑی وضو کرتے ہوئے وہاں رہ گئی. کافی وقت کے بعد اسے یاد آیا. ہم فورًا واپس گئے. ادھر کسی نے گھڑی اٹھا کر امام صاحب کو دے دی تھی. امام صاحب نے ہم سے نشانی پوچھ کر گھڑی ہمارے حوالے کر دی.

* ایک دفعہ میرا لیپ ٹاپ والا بیگ ایک دکان پر رہ گیا. تقریباً پچپن ہزار کا لیپ ٹاپ تھا. میں واپس گیا تو دکاندار نے بیگ سنبھال کر رکھا ہوا تھا.

* میں ایک دفعہ صبح صبح اپنی گاڑی مکینک کے پاس چھوڑ آیا. جب دوپہر جو گاڑی واپس لینے گیا تو اس نے صرف تین سو روپے مانگے. حالانکہ کام کی نوعیت دیکھتے ہوئے میرا اندازہ تھا کہ کم از کم تین چار ہزار کا بل بنے گا. جب میں نے حیرانگی سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ معمولی سا نقص تھا اور صبح ہی تھوڑی دیر میں دور ہو گیا تھا. میں اس کی امانتداری سے بڑا متاثر ہوا کہ اگر وہ چاہتا تو دھوکہ دے کر تین چار ہزار روپے لے سکتا تھا.

* رات گیارہ بجے کے لگ بھگ بائیک اور ڈیمپر آمنے سامنے ٹکرا گئے. بائیک والا شدید زخمی ہو گیا. لوگوں نے فوراً اٹھایا اور ہسپتال لے گئے. بندے کی جان بچ گئی. ڈاکٹرز نے بتایا کہ اگر مریض کو لانے میں مزید کچھ دیر ہو جاتی اور خون مزید نکل جاتا تو مریض نہ بچ پاتا. یہ لورہ چوک ہری پور کا واقعہ ہے.

* دو بائیکس آمنے سامنے ٹکرا گئیں اور چار بندے شدید زخمی ہو گئے. لوگ انہیں فوراً اٹھا کر ہسپتال لے گئے. ان پر پاس سے خرچہ بھی کیا اور خون کی ضرورت پڑی تو خون بھی دیا. چاروں کی جان بچ گئی.

* ایک بندہ حادثے میں شدید زخمی ہو گیا. لوگ اٹھا کر ہسپتال لے گئے مگر انہوں نے دیکھنے سے انکار کر دیا. وہ لوگ اسے دوسرے شہر ایبٹ آباد لے گئے. پاس سے اچھا بھلا خرچہ بھی کیا، کافی سارا وقت بھی دیا اور اپنا خون تک دیا. حالانکہ ان میں سے کوئی بھی زخمی کو نہیں جانتا تھا.

* آخری رمضان کی بات ہے. گلگت سے اسلام آباد جاتی ہوئی کار کا سرائے صالح ہری پور میں حادثہ ہو گیا. گاڑی بالکل ٹوٹ گئی مگر اللہ نے سواریوں کو بچا لیا. مقامی سات آٹھ افراد اس وقت تک ان کی مدد میں لگے رہے، جب تک ان کے سارے معاملات حل نہیں ہو گئے.

* میرے ایک جاننے والے کا اپنی غلطی سے حادثہ ہو گیا. دو دن بعد ہوش آیا. ڈاکٹروں نے بتایا کہ آپ کو کچھ لوگ بروقت ہسپتال لے آئے تھے اور آپ کے علاج کے لیے بیس ہزار روپے بھی دے گئے. میرے جاننے والے کی بعد میں اپنے ان محسنوں سے کبھی بھی ملاقات تک نہیں ہوئی.

* بائیک گاڑی سے ٹکرا گئی. گاڑی والے کی کوئی غلطی بھی بھی نہیں تھی. مگر اس نے اپنی قیمتی گاڑی ادھر ہی چھوڑی اور بائیک والے کو دوسری گاڑی میں ڈال کر ہسپتال لے گیا. زخمی بہت سیریس تھا. مگر بروقت طبی امداد ملنے سے اس کی جان بچ گئی. اسے تقریباً دس دن بعد ہوش آیا. اس دوران گاڑی والے بندے مسلسل اس کے ساتھ رہے اور اس کا لاکھوں روپے کا خرچہ بھی برداشت کیا. حالانکہ ان بیچاروں کی کسی قسم کی کوئی غلطی نہیں تھی. اور نہ ہی کسی نے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا. انہوں نے یہ سب محض انسانی ہمدردی سے کیا.

یقین مانیں کہ یہ ان ہزاروں میں سے صرف چند واقعات ہیں جن سے میں خود ذاتی طور پر واقف ہوں. ایسے سینکڑوں واقعات پاکستان میں روزانہ رونما ہوتے ہیں مگر ان کو کبھی بھی نمایاں نہیں کیا جاتا. ان کی کوئی کوریج بھی نہیں ہوتی. اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اور ہمارا میڈیا صرف منفی کو دیکھنے، سننے اور بولنے کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ ہمیں مثبت میں بھی منفی نظر آنے لگتا ہے.

ہمارے میڈیا نے پاکستان کی عوام کے صرف منفی پہلو دکھا دکھا کر لوگوں کے دل و دماغ میں منفیت بھر دی ہے، لہذا ہم ہر چیز کو اسی منفیت کی عینک سے دیکھتے ہیں اور دنیا بھی یہی سمجھتی ہے کہ یہ ہر خوبی سے محروم قوم ہے. حالانکہ جتنا دوسروں کی مدد کا جذبہ اس قوم میں ہے شاید ہی کسی دوسری قوم میں ہو. بس انہیں شعور دلانے، حوصلہ افزائی کرنے اور صحیح رخ پر چلانے کی ضرورت ہے.

مجھے معلوم ہے کہ بعض اوقات اس کے برعکس واقعات بھی وقوع پذیر ہوتے ہیں مگر میں ان کا ذکر نہیں کر رہا. کیونکہ ان کا دن رات اور ہر وقت ذکر کرنے کے لیے ہمارا میڈیا اور دیگر بہت سارے حضرات پہلے سے ہی موجود ہیں