ہماری کچھ عجیب عادات‎ - بشارت حمید

ہم کہیں مہمان جائیں، میزبان چاہے دل سے ناگواری ہی محسوس کرتا ہو لیکن رات ان کے ہاں رکنے پر اصرار ضرور کرے گا، چاہے اوپر اوپر سے ہی کہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ اسے ہمارے آنے کی خوشی نہیں ہوئی، حالانکہ یہ اس میزبان کو بھی علم ہے کہ ہم نہیں رکیں گے اور ہمیں بھی معلوم ہے کہ یہ دعوت بس فارمیلیٹی ہے۔ تو اس اداکاری کا مقصد کیا؟

اسی طرح کوئی مہمان دو چار روز ہمارے پاس گزار کر واپسی کے لیے رخت سفر باندھ لے تو اسے مزید ایک دو روز ٹھہرنے کی دعوت دینا اور اس پر اصرار کرنا، چاہے دل میں کب سے منتظر بیٹھے ہوں کہ یہ جائے اور ہم اپنے کام کر سکیں۔

مہمان رخصت ہوتے وقت ہمارے بچوں کو پیسے پکڑا رہا ہو تو ہم زبان سے ضرور کہیں گے کہ بھائی جان رہنے دیں، ان کی ضرورت نہیں۔ لیکن اندر سے جی میں سوچ رہے ہوں گے کہ جو دے رہا ہے کتنے ہیں؟ لگتے تو تھوڑے ہی ہیں۔ بچے بھی نہ نہ کرتے پکڑ ہی لیتے ہیں۔

ہمارا اپنا کوئی شیڈول ہے، کہیں سفر درپیش ہے، راستے میں کسی عزیز کا گھر ہے، ہم سوچتے ہیں کہ چلو جاتے جاتے چند منٹ سلام دعا ہی کرتے جائیں۔ ان کے گھر پہنچتے ہیں اور وہ کھانا وہیں کھانے پر اصرار کرتے ہیں۔ ہمیں اس کی وجہ سے اپنا اگلا شیڈول ڈسٹرب ہوتا نظر آ رہا ہے لیکن وہ صاحب بضد ہیں کہ کھانا کھائے بنا جانے نہ دیں گے۔ ہمیں اگلے معاملات کے بارے پریشانی ہو رہی ہے اور اس وقت کھانے کی طلب بھی نہیں۔ یار کبھی اگر بندہ صرف ملنے آیا ہے تو بس اسی پر اکتفا کر لینا چاہیے۔ زور زبردستی کرنے سے وہ آئندہ اتنا آنے سے بھی جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا شوہر بیوی پر زبردستی تعلق قائم کر سکتا ہے - حمزہ زاہد

کسی بہن، بھائی یا سسرال کے گھر ملنے جانا ہے، اب جیب میں اتنے پیسے ہونے چاہیں کہ جاتے وقت کوئی فروٹ، مٹھائی یا کیک لیا جا سکے اور آتے وقت ان کے بچوں کو کچھ نقد دیا جا سکے۔ کیا ہمارا ملنا ملانا بغیر کچھ لیے دیے نہیں ہو سکتا۔؟ جس کی جیب اجازت نہ دیتی ہو تو کیا وہ اپنے قریبی عزیزوں سے ملنا ہی چھوڑ دے یہ زیادہ بہتر ہے یا پھر خالی ہاتھ ملنے چلے جانا نہ جانے سے بہتر ہے۔؟

شادی کی دعوت پر جانا ہو تو چاہے ہاتھ تنگ ہی کیوں نہ ہو۔ نئے سوٹ پہن کر ہی جانا ہے پھر یہ نیوندرا کی رسم۔ جتنا کوئی دلہا دلہن کا قریبی ہے سب پوچھتے ہیں کیا لایا ہے کیا دیا ہے۔ چاہے وہ قرض اٹھا کر ہی لایا ہو۔ اس کی پرواہ کسے ہے؟ بس یہ بتاؤ لایا کیا ہے؟ اور اس میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرنا جیسے یہ دینی فرائض میں شامل ہے۔ کیا ہمارا ملنا ملانا اس روپے پیسے کی سودے بازی سے پاک نہیں ہو سکتا۔

شادیوں میں کرنسی نوٹوں سے بنے ہار دلہا کو پہنانا۔ اور بارات کے قافلے پر سکے اور روپے وار کر پھینکنا۔ کیا عجیب گھٹیا سی حرکات ہیں جو اکثر لوگ بنا سوچے سمجھے کیے جاتے ہیں۔ نوٹوں کے ہار کا کیا مقصد؟ اس سے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ یہ نمود و نمائش کرکے کیا تسکین حاصل ہوتی ہے۔

پرائی شادی میں شریک ہونے کے لیے خواتین اتنا بن ٹھن کر تیار ہوتی ہیں جتنا کبھی اپنے شوہر کے لیے بھی نہ ہوئی ہوں گی کہ جس کے لیے تیار ہونے کی ترغیب بھی ہے۔ پھر گھر واپس آ کر وہی گھسے پٹے کپڑے پہن کر کام والی ماسی کا روپ دھار لیتی ہیں گھر میں بھی تو اچھا لباس اور اچھا رہن سہن رکھنا چاہیے۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.