میڈیا آخر کیا چاہتا ہے - عشرت زاہد

ڈراموں میں پہلے دوپٹہ سر سے اترا، کندھے پر آیا۔ پھر ایک طرف کو لٹک گیا۔ پھر سرے سے غائب ہی ہو گیا۔ پہلے ڈراموں میں، مرد اور خواتین ایک مناسب فاصلہ رکھ کر مکالمے ادا کرتے تھے۔ اب تو ہاتھ پکڑنا، لپٹنا، بالوں کو ہاتھ لگانا کوئ قابل اعتراض بات نہ رہی۔ اب میاں بیوی، چاہے کسی بھی عمر کے ہوں، ان کو بیڈ پر لیٹ کر بات کرتے ہوئے ایک آدھ سین ضرور دکھایا جاتا ہے۔

آج کل تقریبا" ہر ڈرامے میں کسی کی بیوی کسی اور کے ساتھ یا اپنے پہلے عشق میں مبتلا ہے، یا اس کا شوہر کہیں اور ملوث ہے۔ یہی کچھ دکھایا جا رہا ہے، اور اگر کوئی اس سے بچا ہوا ہے تو اس پر یہی الزام سازش کے ذریعے ثابت کروا کر گھر تڑوانا یعنی طلاق ہونا دکھایا جا رہا ہے۔ رشتہ ازدواج کو کس طرح پامال کرنا ہے، یہ سکھایا جا رہا ہے۔ ہمارا خاندانی نظام برباد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ کسی سے باہر ریستوران میں ملنا، اب معیوب نہیں رہا۔ اپنی پسند کے لڑکے کے ساتھ بھاگ جانا، جرات کی بات ٹھہری ہے۔ یہی سب ڈراموں کے ذریعے گھول کر پلایا جا رہا ہے۔ کہیں اگر کوئی پردہ کرنا چاہے اور حجاب کے تقاضے نباہنا چاہے تو اس پر دنیا تنگ کر دی جاتی ہے۔ اور اگر کوئی اچھی اور شریف بہو ہے تو اس کو دبا کر رکھ دیا۔ یہ سب دیکھ کر ہماری نئ نسل، جن کے ذہن ابھی معصوم اور کچے ہیں، کیا سبق لیں گے؟

خدارا ! میڈیا جو دکھانا چاہتا ہے، وہ دیکھ کر سرسری طور پر نہ گزر جائیں۔ اور دیکھنے کے بعد دونو کندھے اچکا کر "سانو کی" کہہ کر نظر انداز نہ کریں ۔ اگر آج ہم نے توجہ نہ دی تو ہمارا مضبوط خاندانی نظام بکھر جائے گا۔ خوبصورت رشتے ٹوٹ جائیں گے۔ اور مغربی تہذیب کے شیطان کو کھل کھیلنے کا موقع ملے گا۔ اس لیے اس کو روکیے۔ اپنے گھروں کو اس بے حیائی اور بےہودہ کلچر کے لپیٹ میں آنے سے بچائیے۔ ہماری نئی نسل جو ہمارے پاس اللہ کی امانت ہے، اس کی نشونما اور تربیت کے لیے میڈیا کو بھی اس گندگی سے پاک صاف کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   یہ چند روزہ زندگی - شہلا خضر

خدارا ان چیزوں پر آواز اور قلم دونوں اٹھائیں۔ ان شا اللہ اس کا بھی بہت اثر ہوتا ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ سب ایک ساتھ خطوط، ای میلز، ان ڈراموں کے پیج پر جا کر کمنٹس کریں۔ تب ہی جلد از جلد مطلوبہ نتیجہ حاصل ہوگا۔