مارکیٹنگ اور کمرشلائزیشن کب مفید ہوگی؟ محمد سلیم

آج کل میڈیا اور ٹی وی پروگراموں میں سب سے زیادہ عمل دخل مارکیٹنگ اور کمرشلائزیشن کا ہے۔ مارکیٹنگ اور کمشلائزیشن ہمیشہ سے میڈیا کی ضرورت رہی ہے مگر اب اس کا مکمل کنٹرول ہے۔ مارکیٹنگ کی تعریف میڈیا ہاؤس اور کمپنیوں نے اپنے طریقہ سے شروع کر دی ہے۔ کس پروگرام کی زیادہ مانگ ہے یا مالی طور پر میڈیا ہاؤس اور پروڈکشن کمپنی کی ضروریات کو پورے کرے گا۔ مارکیٹنگ کا تعین جو سامعین ناظرین کے حوالے سے کبھی کیا جاتا تھا، اب ان لوگوں کے جو مارکیٹ متعین (چینلز اور پروڈکشن کمپنیاں) کرتے ہیں۔ ان کے اپنے مفادات ہیں اس لیے جو ان کا دل کرتا ہے وہی دکھایا جا رہا ہے۔

پروڈکشن کمپنیوں اور میڈیا ریکارڈنگ کمپنیوں، فنکاروں، لکھاریوں اور پروڈیوسرز کی ہمیشہ ایک دوسرے کی ضرورت رہی۔ دونوں ہی ایک دوسرے کے لیے ضروری رہے۔ ماضی میں بڑے نام اپنے فن کو عوام تک پہنچانے کے لیے ان کا سہارا لیتے تھے اور پروڈکشن کمپنیوں کو بھی ان کے فن سے کاروباری اور مالی فائدہ ملتا تھا، چنانچہ فلم اور ٹی وی کے ڈائریکٹر، رائٹر اور فنکار نے اپنے نام اور کام سے اپنی مارکیٹنگ دنیا بنائی، بڑے بڑے نام پیدا کیے، جن کی ایک لمبی فہرست ہے۔ اب اتنے بڑے نام کیوں نہیں پیدا ہو رہے؟ اگر 3 سے 7 کروڑ آبادی میں نورجہاں، مہدی حسن، نصرت فتح علی خان، خواجہ خورشید انور، پرویز ملک، یاور حیات، نصرت ٹھاکر، روحی بانو، معین اختر، صبیحہ خانم، محمد علی، وحید مراد، طالش، منور ظریف، قتیل شفائی، بانو قدسیہ، اشفاق احمد، منو بھائی (چند نام نمونے کے طور پر لمبی لسٹ ہے) حیسے نام پیدا ہوئے تو 21 کروڑ میں اب بڑے نام کم ہیں یا ان کو موقع نہیں مل رہا اور وہ ان پروڈکشن کمپنیوں کی اجارہ داری کی نظر ہو رہے ہیں۔

شروع میں پی ٹی وی کی زیادہ تر پروڈکشن اپنی تھی۔ 90 میں پہلی دفعہ پرائیویٹ چینل اور ریکارڈنگ کمپنیوں نے پروڈکشن شروع کی۔ 2001 کے بعد بہت زیادہ نجی چینلز جن میں زیادہ تر نیوز چینل اور کچھ انٹرنیمنٹ کے چینل شامل تھے، نے کام شروع کیا۔ کوئی بھی انٹرٹینمنٹ چینل وہ کامیابی حاصل نہیں کر سکا جو نیوز چینل نے حاصل کی (نیوز چینل انٹرٹینمنٹ کا بڑا ذریعہ بن گئے)۔ بریکنگ نیوز جو پہلے کبھی کبھی کسی وقت اور اہم واقعہ کی سنتے تھے، ہر پانچ منٹ بعد آنے لگی، چنانچہ بریکنگ نیوز کی دوڑ اور سب سے پہلے خبر نشر کرنے اور کریڈٹ لینے کی دوڑ شروع ہوگئی۔ نیوز چینلز کا خبر کے بعد سب سے اہم اور بڑا شعبہ پرائم ٹائم شوز جو شام کے بعد رات 11 بجے تک نشر ہوتے ہیں، ریٹنگ اور مقبولیت کا ذریعہ ہیں، جس میں زیادہ تر ایک اینکر بیٹھ کر سیاسی جماعتوں کے لوگوں کو مرغے کی طرح لڑاتا اور درمیان میں صرف دانہ ڈالتا۔ یہ ٹرینڈ ایسا سیٹ ہوا کہ کچھ لوگ جو اس سے ہٹ کر پروگرام کرنا چاہتے ہیں، ایک دو پروگرام کے بعد دوبارہ اسی ٹرینڈ کو فالو کرتے ہیں۔ کچھ لوگوں نے فیلڈ میں جا کر پروگرام شروع کیے مگر ایک تو وہ بہت کم اور دوسرا موضوع وہی ہوتا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ ماہرین کو بلا کر رائے لی جاتی اور مسائل کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی، (سیاستدانوں کو ان کے مؤقف اور حکومتی ارکان کو پالیسی اور وضاحت کےلیے بلانا چاہیے)۔ مگر بہت کم اینکرز اور بہت کم پروگرام ایسے ہوئے جن میں صحیح مسائل کو حل کرنے کی نشاندہی کی کوشش ہو۔ کچھ چینلز نے شروع میں اچھے مباحثے، ڈاکومینٹری اور ہلکے پھلکے تفریحی پروگرام کیے جو اب تھیٹر بن گئے ہیں، مگر اب پولرائزیشن میں سیاسی جماعتوں کے ساتھ چینلز بھی اپنے آپ کو ایک پوزیشن پر لے گئے ہیں۔

تفریحی معلوماتی پروگرام، ادبی اور سائنس اور ثقافتی پروگرام، جو انٹرٹینمنٹ چینلز کی خصوصیات تھے، کم ہو گئے ہیں۔ پہلے ایک چینل پر مذہب، ثقافت، سائنس، جدت، فنون، تفریح اور تاریخ کے موضوع پر ڈارامے (ڈرامہ کی پروڈکشن، خدوخال، عروج و زوال الگ کہانی جو پھر سہی) دیکھنے کو ملتے تھے۔ اب تمام چینلز پر ایک جیسے اور ایک ہی موضوع، ساس بہو کے جھگڑے اور رشتے داروں کی سازشیں ہیں، جنہوں نے اس آئیڈیا کو جس چینل یعنی سٹار پلس سے کاپی کیا، وہاں اب یہ سلسلہ کم ہوگیا ہے۔ بڑے گھر، پردے، ڈیزائننگ، ساڑھی، جیولری، اس کاروبار کے اشتہارات کےلیے یہ ڈرامے وہاں شروع کیے گئے البتہ انہوں نے سی آئی ڈی جیسے سسپنس اور جھانسی کی رانی جیسے تاریخی ڈرامے بھی پیش کیے۔ یہاں ایسا کچھ نہیں اور دوسرا وہاں کی فلم انڈسٹری بہت بڑی اور انہوں نے مختلف موضوعات کو اپنی کہانیوں میں پیش کیا۔

بھارتی پنجاب میں سکھوں نے اپنی ثقافت کو کتنے اچھے طریقے سے اپنی فلموں میں پیش کیا کہ آج کل یہ فلمیں نہ صرف ادھر بلکہ پاکستان میں بھی شوق سے دیکھی جاتی ہیں۔ کیری آن جٹا حیسی مزاح سے بھرپور فلم کے علاوہ انگریج، لاٹو، دانہ پانی، نکا ذیلدار، بمپوکاٹ، مجی بسترے جیسی فلموں سے نہ صرف موجودہ ثقافت بلکہ پچھلے 50 سالوں کی ثقافت اور روایات کو خوبصورتی سے پیش کیا گیا۔ جدید پنجاب اور کینیڈا Love Punjab جیسی فلموں میں پیش کیا اور مارکیٹنگ اور کمشلائزیشن کو مقامی ثقافت سے آہم آہنگ کیا گیا۔

ہمارے ہاں نہ تو حکومتی سطح پر اور نہ کسی بھی چینل کا کوئی ریسرچ اور تحقیق کا سنٹر ہے جہاں لوگ بیٹھ کر یا سروے کے ذریعے ان کی رائے کے مطابق پروگرام ترتیب دیں۔ آج کل سوشل میڈیا کے ذریعے اس کو آسانی سے جانچا جا سکتا ہے۔ پیمرا کا کام صرف زیادہ تر نیوز ریگولیشن سے ہے۔ (یہ ایک الگ بحث ہے پیمرا کے رول پر) باقی پروگرام میں سوشل میڈیا یا کسی پریشر کی وجہ سے ایکشن ہوتا ہے، وہ بھی صرف مواد ہٹانے کا کہا جاتا ہے۔ مارننگ شوز کی مثال سب کے سامنے ہے۔ کچھ مارننگ شوز شروع میں کچھ بہتر تھے مگر اب وہ بھی مارننگ شوز کی مارکیٹنگ والے پروگرام کے زیر اثر ہیں۔

ٹی وی پروگراموں کی مقبولیت کے مطابق مخالف کمپنیاں اپنے اشتہارات چلواتی ہیں جو کہ چینل اور پروگرام کا سب سے بڑا آمدنی کا ذریعہ ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ پروگرام میں ان کا عمل دخل بھی ہوگا مگر کمرشل چلانے والی کمپنیوں کو سمجھنا چاہیے کہ جتنے زیادہ لوگ پروگرام دیکھیں گے اتنا زیادہ لوگ اس سے واقف ہوں گے۔ اور اگر وہ ان کمپنیوں اور چینلز پر زور لگائیں کہ اپنے پروگرام ثقافتی اقدار، کثیر الجہتی موضوعات اور معلومات اور لوگوں کی طرز زندگی، ادب، سائنس اور ثقافت کے حساب سے ترتیب دیں تو ان کے اشتہار زیادہ دیکھے جائیں گے۔ تاہم یہ یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ ان کمپنیوں کا پروگرام کی فارمیشن اور مواد میں بھی کوئی عمل دخل ہے، البتہ پروڈکشن اور ریکارڈنگ کمپنیاں اور چینلز اب اپنی مرضی سے پروگرام ترتیب دیتے ہیں۔ اب اچھے لکھاری، ہدایت کار، فنکار، گلوکار انھی کے محتاج ہیں، وہ اپنی مرضی کا مواد دکھا رہے ہیں جس کا لوگوں کے لیے قابل قبول ہونا ضروری نہیں۔

یہی وجہ ہے کہ بڑے نام اب کم سامنے آرہے ہیں۔ ان کمپنیوں اور چینل کی اجارہ داری ہے۔ کمپنیاں اگر ملک کی نظریاتی، ثقافتی، علاقائی اقدار، جدت، مذہبی اقدار، سائنس، طنزومزاح، فنون کو سامنے رکھ کر پروگرام ترتیب دیں تو لوگ بھی خوش ہوں گے اور ان کا بھی فائدہ ہوگا مگر نہ جانے ایسا کیوں نہیں ہو رہا۔ اگر اس بارے میں سوچ بچار نہ کی گئی تو مزید صورت حال خراب ہوگی، کیونکہ اب ہمیں یہ منجن بیچا جا رہا ہے کہ میڈیا نظریاتی اور ثقافتی سرحدوں کا عکاس ہے۔