بیوی کو مطمئن کرنے کے لیے ادویات کا استعمال جائز ہے ؟ - حافظ محمد زبیر

دوست کا سوال ہے کہ بیوی کو مطمئن کرنے کے لیے سیکس ٹوائز اور مرد کی ٹائمنگ بڑھانے کی ادویات کا استعمال جائز ہے یا نہیں ؟
جواب: سچی بات تو یہ ہے کہ ہمارے ہاں مردوں کو یہ سیکھنے کی بہت ضرورت ہے کہ اپنی بیوی کو کس طرح مطمئن کر سکتے ہیں۔ وہ اپنی ناتجربہ کاری کی وجہ سے جب بیوی کو ازدواجی عمل میں شریک نہیں کر پاتے تو اب اس کے لیے الٹے سیدھے رستے تلاش کرتے ہیں جیسا کہ اسے پورن ویڈیوز دکھانے بیٹھ جائیں گے یا سیکس ٹوائز اور ٹائمنگ بڑھانے کی ادویات استعمال کریں گے کہ شاید اس طرح ان کی ٹھنڈی بیوی گرم ہو جائے گی اور ان کے ساتھ ازدواجی عمل میں شریک ہو جائے گی۔ تو یہ سوچ درست نہیں ہے، آپ سب سے پہلے بیوی کے ازدواجی عمل میں شریک نہ ہونے کی وجوہات پر غور کریں۔

بیوی کے ازدواجی عمل میں شریک نہ ہونے کی بڑی وجہ مرد کی عجلت اور جلد بازی ہے۔ اکثر مرد بس پانچ منٹ میں اس پورے عمل کو سمیٹنا چاہتے ہیں۔ اس جلدی کی معاشرتی وجوہات بھی ہو سکتی ہیں کہ جوائنٹ فیملی سسٹم میں مشکل سے تنہائی کا وقت ملتا ہے، بچوں کے جاگ جانے کا خوف ہے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن یہ جلدی، مرد کی فطرت میں بھی ہے اور اسے اپنی تربیت سے اس میں ٹھہراؤ پیدا کرنا ہے، تبھی ازدواجی عمل میں بیوی بھی شریک ہو سکتی ہے۔ ہمارے ہاں کا المیہ ہے کہ شادی کو دس پندرہ سال گزر چکے ہوتے ہیں لیکن بیوی کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ عورت کو بھی اس عمل میں کوئی ایکسائٹمنٹ حاصل ہو سکتی ہے یا نہیں یعنی اسے ابھی تک ازدواجی عمل میں مسرت یا آرگیزم کا ایک تجربہ بھی حاصل نہیں ہوا ہوتا۔ اور عورت کے ازدواجی عمل میں شریک نہ ہونے میں سراسر قصور وار مرد ہوتا ہے کہ وہ ایک تو اپنی ناتجربہ کاری یا عجلت یا خود غرضی کی وجہ سے عورت کا حق بھی مارتا ہے، اور دوسری طرف اس معاملے میں اس پر چڑھائی بھی کرتا ہے، کبھی عورت کے اس عمل میں شریک نہ ہونے پر اسے طعنے دے کر اور کبھی ادھر ادھر کی غلط حرکتوں مثلا پورن ویڈیو دکھا کر، ٹائمنگ بڑھانے کی ادویات لے کر، سیکس ٹوائز استعمال کر کے اسے راغب کرنے کی کوشش میں اسے مزید اس عمل سے بیزار کر دیتا ہے۔

عورت کی اپنی ایک سائیکالوجی ہے، آپ اس سائیکالوجی سے اسے اس عمل میں شریک کر سکتے ہیں، زور زبردستی سے نہیں۔ تو عورت کو اس عمل میں شریک کرنے کے لیے اس عمل کو وقت دیں، کم از کم ایک گھنٹہ، جلدی جلدی منہ ماری نہ کریں، اسے کام سمجھ کر کریں، وقت نکال کر کریں، تو اس کی رغبت پیدا ہو گی۔ وقت عورت کی جسمانی ضرورت بھی ہے اور نفسیاتی بھی۔ پھر اس وقت میں اپنی خواہش پوری کرنے کے بجائے بیوی کو مطمئن کرنے کو فوکس کریں۔ فور پلے کو وقت دیں۔ عورت کی تعریفیں کریں، اس کی باتوں میں اس کی حمایت کریں، اس کی باتیں سنیں، اس سے جھوٹے وعدے کریں۔ اور اس کیفیت میں جو بھی وعدے کیے جاتے ہیں، وہ لغو یمین میں شمار ہوتے ہیں، ان کا کوئی مواخدہ نہیں ہوگا، فتوی مجھ سے لے لیں۔ بعض نئے شادی شدہ نوجوان پوچھتے ہیں کہ وہ سرعت انزال (premature ejaculation) کا شکار ہیں کہ جلد فارغ ہو جاتے ہیں، لہذا بہت پریشان ہیں کہ کیسے اپنی بیوی کو مطمئن کریں۔ دیکھیں، میری نظر میں یہ کوئی بیماری نہیں ہے، سرے سے نہیں ہے، صرف ذہنی مسئلہ ہے۔ آپ اگر اپنے ذہن کی تربیت کر لیں اور سیکس کے عمل کو تھوڑا ریگولر کر لیں، تو اس مسئلے کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا آپ اپنے بچوں پر چیختے ہیں - جویریہ سعید

تو خلاصہ یہ ہے کہ اگر آپ کی بیوی ذہنا تیار نہیں ہے تو پورن ویڈیو، سیکس ٹوائز وغیرہ اس عمل سے اس کی نفرت اور بیزاری اور بڑھا دیں گے۔ تو بیوی کو اس عمل میں شریک کرنا ہے تو اس وقت میں تھوڑا سا اس کے تھلے لگنا پڑے گا، یہ حقیقت ہے۔ وہ محبت سے اس عمل میں شریک ہو سکتی ہے اور کسی طرح نہیں۔ اور اس کی محبت یہی ہے کہ کسی طرح خاوند کو جتلائے کہ وہ ٹھیک ہے اور خاوند غلط ہے۔ اوراس وقت میں اپنی غلطی سننے اور اس پر ہاں کہنے کا حوصلہ پیدا کریں، جو وہ کہتی ہے اس پر جی ہاں کرتے جائیں، جو وعدے وعید لیتی ہے، اقرار کرتے جائیں، کچھ ہی عرصے میں وہ ٹھیک ہو جائے گی اور اس عمل میں شریک ہونا شروع کر دے گی۔ دوسرا اس عمل میں اپنے بجائے اسے مطمئن کرنے کو فوکس کریں اور کوشش کریں کہ وہ پہلے مطمئن ہو اور آپ بعد میں۔
جب تک ترتیب یہ رہے گی کہ آپ پہلے مطمئن ہو کر بیٹھ جائیں گے یا سائیڈ پر ہو جائیں گے تو بیوی کبھی اس عمل میں آپ کے ساتھ شریک نہیں ہوگی۔ تو مرد کا کیا ہے، وہ تو دو چار منٹ میں مطمئن ہو جاتا ہے، اصل تو بیوی کا ہے کہ اسے پندرہ بیس منٹس چاہییں۔ اور یہ پندرہ بیس منٹس ضروری نہیں ہے کہ ازدواجی عمل کے ہوں کیونکہ ازدواجی عمل میں اتنی ٹائمنگ غیر فطری ہے۔

اسی غلط فہمی کی وجہ سے مرد دوائیوں کی طرف بھاگتا ہے کیونکہ اس سے یہ برداشت نہیں ہو پاتا کہ وہ یہ بات سنے کہ وہ تو اپنی بیوی کو مطمئن کرنے کے قابل بھی نہیں ہے۔ تو یہ پندرہ بیس منٹس چھیڑ خوانی کے ہیں۔ اور چھیڑ خوانی کا بھی ایک طریق کار ہے، یہ نہیں کہ براہ راست ہی نازک اعضاء کو چھیڑنا شروع کر دے۔ اس حوالے سے پروفیسر ارشد جاوید صاحب کی دو کتابیں "خوشگوار ازدواجی زندگی" مفید ہیں، وہ ایک اچھے سائیکالوجسٹ اور سیکشیالوجسٹ ہیں، کتابیں گوگل کر لیں۔
اور اگر یہ سب کچھ کرنے کے باوجود بیوی مطمئن نہیں ہو پاتی تو مجبوری میں کوئی ایسی تدبیر کر لینے میں حرج نہیں ہے کہ جس سے بیوی کو جنسی اطمینان حاصل ہو جاتا ہو کیونکہ اگر آپ نے بیوی کو چھیڑ کر اس میں ہیجان برپا کر دیا جیسا کہ اکثر مرد کرتے ہیں اور اسے مکمل طور آرگیزم حاصل نہ ہو پایا تو اس کے نفسیاتی مسائل بن جائیں گے۔ آپ کبھی سوچیں کہ آپ کو چھیڑ دیا جائے اور پھر آپ آرگیزم حاصل نہ کر پائیں تو نفس میں کس قدر بے چینی پیدا ہو جائے گی۔ تو یہی بعض اوقات عورتوں کی بھی کیفیت ہو جاتی ہے کہ مرد انہیں چھیڑ تو بیٹھتے ہیں لیکن مطمئن نہیں کر پاتے اور بعض اوقات تو خود عورت کو سمجھ نہیں آتی کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے اور وہ اس عمل ہی سے بیزار ہو جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا شوہر بیوی پر زبردستی تعلق قائم کر سکتا ہے - حمزہ زاہد

اور بعض اوقات شرم حیاء کی وجہ سے خاموش رہتی ہے، لیکن اس عمل سے نفرت کرنا شروع کر دیتی ہے کیونکہ اس کے خیال میں اس میں مسرت صرف مرد کے لیے ہے اور عورت کا کام صرف برداشت کرنا ہے۔ تو اصل میں ازدواجی عمل میں بیوی کو مطمئن کیسے کرنا ہے؟ اس حوالے سے مرد کے سیکھنے کو بہت کچھ ہے اور بہت ضروری ہے ورنہ تو اس عمل کے ذریعے بیوی کو نفسانی اور ذہنی اذیت دے گا اور کچھ نہیں۔ بیوی کے کون سے مقامات ایسے ہیں کہ جن سے اس کو آرگیزم حاصل ہوتا ہے، اس کا علم حاصل کریں۔ کلائیٹوریس (clitoris) کیا ہے، کہاں ہے اور اس کو کیسے اور کس وقت اور کن کن طریقوں سے اور کتنی دیر تک چھیڑنا ہے کہ بیوی مطمئن ہو جائے۔ تو یہ سیکھنے سے آئے گا اور یہ سیکھنا بھی آپ نے میاں بیوی کے تجربات سے ہی ہے کیونکہ ہر جوڑے کی اپنی ایک فریکوئینسی ایڈجسٹمنٹ بھی ہوتی ہے۔ اور پھر اس کے اس عمل سے بیزار ہونے کی صورت میں غیر فطری طریقوں سے اسے آمادہ کرنے کی کوشش کرے گا کہ جس سے بیوی کی بیزاری اور بڑھ جائے گی۔ تو وجوہات تلاش کر کے مسائل کو فطری طریقوں سے حل کرنے کی کوشش کریں تو مسائل اچھی طرح سے حل ہوں گے۔