کشمیر کمیٹی؛ سیاسی رشوت اور حکومتی دوغلا پن - میاں عدنان شریف ایڈووکیٹ

شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ’کشمیر بنے گا پاکستان‘ ، ’کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے‘ جیسے جذباتی نعروں کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہماری تمام حکومتوں کے کیے گئے اقدامات کا مختصراً جائزہ لیا جائے۔ اس اُمید کے ساتھ کہ شاید اب تو مسئلہ کشمیر جیسے پیچیدہ مسئلہ پر اس جذباتی قوم کی بیداری ممکن ہو سکے۔ عمومی عوامی رائے کے مطابق ریاست جموں و کشمیر پر بھارت کا ناجائز قبضہ ہے۔ اگرچہ میرے ذاتی خیال میں یہ درحقیقت ملکی مفادات کے اعتبار سے مکمل طور پر ایک غیر متعلقہ بحث ہے، جس کی بنیاد جذباتیت و شدت پسندی ہے۔

اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرے گا کہ بلاتفریق ہماری تمام حکومتوں نے آج تک اس مسئلہ پر اپنی عوام کا وقت اور پیسہ دونوں ضائع کیے ہیں۔ 1947ء سے شروع ہونے والے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہمارے سیاسی شعور کو بیداری تب نصیب ہوئی جب 1993ء میں پہلی دفعہ پارلیمان کی کشمیر کمیٹی بنانے کا خیال آیا۔ جس کے چیئرمین مرحوم نوابزادہ نصراللہ خان تھے۔ دوسری کمیٹی 1997ء میں تشکیل دی گئی جس کے چیئرمین مرحوم چوہدری محمد سرور خان تھے۔ تیسری کمیٹی 2004ء میں بنائی گئی، جس کے چیئرمین چوہدری حامد ناصر چٹھہ تھے۔ چوتھی کمیٹی 2008ء میں بنائی گئی، جس کے چیئرمین مولانا فضل الرحمان منتخب ہوئے۔ پانچویں حالیہ کمیٹی 2019 میں بنائی گئی، اور فخر امام چیئرمین منتخب کیے گئے۔

یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ کشمیر کا مسئلہ حکومت پاکستان کے لیے اصل اعتبار سے اہم ہو یا نہ ہو، لیکن بدقسمتی سے حکومتی اعتبار سے اس لیے ہمیشہ اہم رہا ہے کہ 1993ء سے آج تک ہماری حکومتوں کو اپنے دور حکومت میں اپنے کسیِ خاص منظور نظر کو نوازنے کا بہترین موقع مل جاتا ہے اور شاید اسی لیے تقسیم اختیارات کی مدّ میں تمام معزز چیئرمین حضرات کو وفاقی وزیر کے مساوی تنخواہ و مراعات عطا کی جاتی رہی ہیں، جس کے عوض محترم چیئرمین کشمیر کمیٹی کو محض 5 فروری یوم کشمیر کے علاوہ چند سالانہ مشاورتی اجلاسوں کے علاوہ سارا سال کچھ اور کام کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔

یہ بھی پڑھیں:   بابری مسجد فیصلہ اور کرتار پور رہداری افتتاح - میر افسر امان

5 فروری یوم کشمیر کے حوالے سے یہ جاننا بھی نہایت ضروری ہے کہ اس دن کو منانے کی تجویز مرحوم قاضی حسین احمد نے 1990ء میں دی تھی جو کسی بھی حوالے سے حکومتی اقدامات میں شامل نہیں ہوتا۔

علاوہ ازیں چیئرمین کشمیر کمیٹی سمیت اس کے کسی بھی رکن کو مسئلہ کشمیر کے موضوع پر چند ایک روایتی بیانات کے علاوہ کوئی خاص علم بھی نہیں ہوتا۔ شاید اسی لیے آج تک یہ کمیٹی اپنے تمام معززین سمیت مسئلہ کشمیر کے حل کو تلاشنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔

شاید ہمیں اتنا شعور آ جانا چاہیے کہ کشمیر کمیٹی کا مقصد اگر واقعتاً اپنے کشمیر ی بہن بھائیوں پر ہونے والے مظالم کو روکنے کے لیے آواز بلند کرنا ہے، تو پھر ایسے تمام دردِ دل رکھنے والے حضرات حکومت سے وفاقی وزیر جیسی تنخواہ ومراعات کیوں لیتے ہیں؟ کیا یہ مظلوم کشمیری مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے نام پر سیاست نما دوغلاپن نہیں ہے؟۔

کس قدر مضحکہ خیز بات ہے کہ کشمیر کمیٹی کا چیئرمین یا رکن بننے کے لیے پارلیمنٹ کے اراکین کو ہی منتخب کیا جاتا ہے جو عمومی طور پر سیاسی اعتبار سے ایک دوسرے کے اتنے شدید حریف ہوتے ہیں کہ شاید ایک دوسرے کو دیکھنا تک بھی گوارا نہیں کرتے، لیکن حکومتی مراعات جسے عوامی پیسے بٹورنے کے لیے اس کمیٹی کی رکنیت کے لیے کوئی بھی کبھی بھی انکار نہیں کرتا، جبکہ ان کے اس دوغلے پن کے حوالے سے غلامانہ سوچ رکھنے والے یہ تاثر لیتے ہیں کہ یہ تمام معزز اراکین صرف مسئلہ کشمیر کے لیے ایک ہوتے ہیں، درحقیقت یہ محض سیاسی دھوکا دیتے ہیں۔

لہذا میری حکومت پاکستان سے استدعا ہے کہ خدارا اس مفلس عوام پر رحم کھائیں اور مسئلہ کشمیر جیسے خاص معاملے پر کشمیر کمیٹی جسے شاہانہ خرچ گروپ کو مکمل طور پر رضاکارانہ انداز میں تشکیل دیا جائے جس میں مسئلہ کشمیر سمیت کشمیر پالیسی پر مکمل علم رکھنے والے خواتین و حضرات کو اس کمیٹی کی رکنیت سے نوازا جائے، اس طریقے سے مسئلہ کشمیر کی حوالے سے جاری دوغلی سیاست کا بھی خاتمہ ہوگا اور علمی اعتبار سے اس مسئلے کے حل کو بھی فروغ ملے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   اصل خطرہ؟ حامد میر

علاوہ ازیں اسی زمرے میں بچنے والے حکومتی فنڈز بشمول تنخواہ ومراعات وفاقی وزیر مکمل طور پر عوامی فلاح و بہبود پر خرچ ہوسکیں گے۔ ایسا کرنے سے ہم نہ صرف مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنے مظلوم کشمیری بہن بھائیوں سمیت پوری دنیا کو یکجوئی کا ایک عملاً پیغام بھی پہنچا سکتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ عوام کے بچائے گئے پیسوں سے حکومت پاکستان کی عوامی قدر میں اضافہ ہوگا، اور اگر ایسا ممکن نہ ہوا اور ماضی کی روش برقرار رہی تو شاید ایک دن عوامی شعور ضرور بیدار ہوگا کہ ہماری تمام حکومتیں وتمام سیاسی جماعتیں مسئلہ کشمیر کو محض سیاسی کارڈ کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔