کشمیر میں پیلیٹ سے زخمی ہونے والوں کی بڑھتی تعداد

نریندر مودی حکومت کے ذریعے جموں و کشمیر کا خصوصی درجہ محدود کیے جانے کے بعد کے تین دنوں میں سرینگر کے اہم ہاسپٹل میں کم سے کم 21 نوجوان لڑکوں کو پیلیٹ گن سے زخمی ہونے کے بعد علاج کے لیے لایا گیا۔ دی وائر اس بات کی تصدیق کر سکتا ہے۔ حالانکہ ہاسپٹل انتظامیہ کے ذریعے سرکاری طور پر کوئی جانکاری دینے سے منع کر دیا گیا، لیکن شہر کے مہاراجہ ہری سنگھ ہاسپٹل کے ڈاکٹروں اور نرس نے بتایا کہ 6 اگست کو تیرہ اور 7 اگست کو آٹھ ایسے زخمیوں کو علاج کے لیے لایا گیا، جن کی آنکھوں یا جسم کے دیگر حصوں میں پیلیٹ گن سے چوٹ لگی تھیں۔

ان میں سے کئی کی ایک آنکھ کی بینائی چلی گئی ہے؛ کچھ کی دونوں آنکھوں کی روشنی جانے کا خطرہ بنا ہوا ہے۔ ایسی خبریں آئی تھیں کہ مظاہرہ کرنے والے ایک زخمی نوجوان کی موت بھی ہوئی ہے، لیکن ہاسپٹل میں کوئی اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا۔مریضوں سے بھرے اس ہاسپٹل میں دی وائر نے وارڈ نمبر 8 میں بھرتی کچھ متاثرین اور ان کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ کچھ نے کہا کہ شہر کے اہم حصے میں احتجاج کے دوران ان کو گولی لگی، وہیں کچھ کا کہنا تھا کہ بنا کسی طرح کی پتھربازی کے ان کو سکیورٹی اہلکاروں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

میڈیا کے ایک حصے کے ذریعے وادی میں’امن’ہونے کی خبروں کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے، پیلیٹ گن سے زخمی ہوئے لوگوں کی تعداد وادی کی اس غیر یقینی صورت حال کی تصویر پیش کرتی ہے، جس کے بارے میں مودی حکومت کے آرٹیکل 370 ہٹانے کے بعد سے بات کی جا رہی تھی۔

حکومت کے فیصلے کے بعد شہر میں بند کا اعلان کر دیا گیا تھا-جو اب تک جاری ہے-موبائل اور لینڈلائن نیٹ ورک کو بند کر دیا گیا، انٹرنیٹ خدمات ٹھپ کر دی گئیں، اخباروں کی اشاعت روک دی گئی اور کرفیو لگا دیا گیا، جس کے ضابطوں کے بارے میں کوئی سرکاری اطلاع نہیں دی گئی۔کچھ اہم سڑکوں پر، خاص طور پر اہم ہاسپٹل کے آس پاس-ڈھیروں کانٹےدار تاروں اور بیریکیڈ کے بیچ سے-آمدورفت کی اجازت ہے۔ ساتھ ہی کچھ خاص علاقوں میں آنا-جانا چیلنج بھرا بنا ہوا ہے، خاص طور پر ان کے لئے جن کے پاس آنے-جانے کے لئے اپنی کوئی سہولت ہیں ہے۔

اپنے محلے-پاس پڑوس میں تو لوگ آجا رہے ہیں، شام کو ایک آدھ کرانے کی دکان، پھل والے اور بیکری بھی کچھ دیر کے لئے کھلے نظرآتے ہیں۔ لیکن کس بات کی اجازت ہے، کس کی نہیں، اس کو لےکر کشمکش کی وجہ سے معمولی سی سرگرمی کا نتیجہ بھاری پڑ سکتا ہے۔7 اگست کو سرینگر کے ناتیپورہ کا 15 سال کا ندیم ایک اور لڑکے کے ساتھ ٹیوشن جانے کے لئے نکلا تھا،جب اس کو پیلیٹ سے چوٹ لگی۔ وہ بتاتے ہیں کہ وہ اب دائیں آنکھ سے کچھ دیکھ نہیں سکتے۔

گاندیربل ضلع کے دو نوجوانوں کی آنکھوں کا بھی علاج چل رہا ہے۔ ان میں سے ایک آدمی بیکری میں کام کرتا ہے اور غصے میں پہلے تو انہوں نے اس نامہ نگار سے بات کرنے سے انکار کر دیا تھا۔اپنی زخمی آنکھوں پر کالا چشمہ پہنے اس شخص نے کہا ‘ میں دہلی سے آئے کسی سے بھی بات نہیں کرنا چاہتا، کیا مطلب ہے اس کا؟ ‘ کیا آپ میں سے کوئی سننا بھی چاہتا ہے کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں؟ ‘

حالانکہ ان کے دوست، جو شدیدطور پر زخمی نہیں ہیں، نے بتایا کہ ان کے ساتھ کیا ہوا۔ انہوں نے کہا،’ہم اپنی دکان میں روٹی بنا رہے تھے جب سکیورٹی اہلکار آئے اور بولے-تم لوگ کشمیری کو روٹی کھلانے جا رہے ہو؟ تم کو ان لوگوں کو زہر دے دینا چاہیے۔ انہوں نے دکان پر گولیاں برسائیں اور چلے گئے۔ ‘ان کے ذریعے بتائے گئے اس واقعہ کی سچائی کی تصدیق کرنا ممکن نہیں ہے۔ لیکن ان کی چوٹیں اصلی تھیں، اس بات میں کوئی شک نہیں ہے۔ نہ ان کے غصے کو لےکر ہی کوئی شک ہے۔

جہاں ایک متاثر کا کہنا تھا کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کے پاس اب صرف ہتھیار اٹھانے کا راستہ بچا ہے، وہیں ایک نوجوان لڑکے کے والد کا کہنا تھا کہ حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ لوگوں کو اس طرح پیلیٹ گن سے زخمی کرکے ان کو حکومت کی پالیسی کے صحیح ہونے کا یقین نہیں دلایا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:   امت مسلمہ کے مسائل اور مذہب کارڈ - عمار مظہر

وہ حکومت کے فون پر پابندی لگانے کو لےکر بھی خاصے ناراض تھے۔ ان کا کہنا تھا، ’میں اس بارے میں بات نہیں کرتا کہ انہوں نے آرٹیکل 370 کے بارے میں کیا کیا، لیکن امت شاہ نے کیا کیا۔ باپ کو بیٹے سے دور کر دیا، شوہر کو بیوی سے، بہن کو بھائی سے، ہم میں سے کسی کو نہیں پتہ ہماری بہن کہاں ہیں، ماں کہاں ہیں اگر وہ چاہتے تھے تو ان کو انٹرنیٹ بند کر دینا چاہیے تھا، لیکن وہ فون تو چلنے دے سکتے تھے۔ یہ اسی طرح ہے، جیسے یہودیوں نے کیا تھا۔ مجھے یقین ہے کہ امت شاہ اصلی ہندو نہیں ہیں، ایک ہندو کبھی ایسا نہیں کر سکتا۔ وہ کسی یہودی کی طرح سلوک کر رہے ہیں۔‘