کشمیر ۔۔۔۔ عربی ادب میں؟ آصف محمود

اردو ادب میں فلسطین کا توبہت ذکر ہے سوال یہ ہے کیا عربی ادب میں کشمیر پر لکھی گئی دو سطریں بھی تلاش کی جا سکتی ہیں؟

انتظار حسین کا افسانہ ’ کانا دجال‘ میں نے بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کی لائبریری میں بیٹھ کر پڑھا تھا ۔ مسلمانوں کے سرنڈر کی خبر سن کر بوڑھا دیہاتی جب ٹھنڈی سانس لے کر کہتا ہے : ’ جہاں ہمارے حضور ﷺ بلند ہوئے تھے وہاں ہم پست ہو گئے‘‘ تو آنکھیں بھر آتی ہیں ۔ میں اس افسانے کا حسن بیان نقل کرنے سے قاصر ہوں ۔ آپ خود پڑھ کے دیکھ لیجیے انتظار حسین نے کیا شاہکار تخلیق کیا ہے۔ انتظار حسین ہی کا ’ شرم الحرم‘ بھی دل کے تار ہلا دیتا ہے’’ ہم سب عربوں کی مائیں ہم سب کے سوگ میں بیٹھیں کہ ہماری تلواریں کند ہو گئیں اور ہم نے انہیں نیاموں میں ڈال لیا۔ عرب کے بہادر بیٹے میدانوں میں سوتے ہیں ۔ جو مارے گئے وہ اچھے رہے بہ نسبت ان کے جو زندہ رہے اور ذلیل ہوئے ۔ عرب کے بہادر بیٹے بلند و بالا کھجوروں کی مانند زمینوں میں پڑے ہیں ، صحرا کی ہوائوں نے ان پر بین کیے ، گرد کی چادر میں ان کی تدفین ہوئی ، عرب کے سب صحرائوں کی خاک میرے سر میں عرب کی غیرت مر گئی ، کاش میرا سر پانی ہوتا اور میری آنکھیں آنسوئوں کا سوتا ہوتیں کہ تا عمر روتا رہتا ‘‘۔

قدرت اللہ شہاب نے ’ اے بنی اسرائیل ‘ لکھا اور حق ادا کر دیا ۔ ’’ اے بنی اسرائیل ! یاد رکھو ، اس عرب بچی کا سہما دل اور اس کی غمزدہ ماں کی دبی ہوئی آہ تمہارے سر پر کوہ طور سے بھی زیادہ خطرناک پہاڑ کی طرح لٹک رہی ہے، اگرخدا اپنی بات کا سچا ہے تو تم امریکہ اور انگلستان میں دھلے ہوئے سونے اور چاندی کے بچھڑوں کی جس قدر چاہے پوجا کرو لیکن خدا کا جو چکر تمہارے پائوں میں پڑا ہوا ہے اس سے تمہیں نجات نہیں مل سکتی‘‘۔

مظہر الاسلام کا افسانہ ’ زمین کا اغوا‘ بھی دل کا درد ہے : ’’ یہ علاقہ میرا ہے ، یہ زمین میری ہے اور یہ اونٹنی اس قوم کی گواہی دیتی ہے کہ اس نے آج تک اپنے وطن کی سرحدوں سے بغاوت نہیں کی‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:   نمود برگ و ثمر سے پہلے - صالحہ جنت

سمیع آحوجہ نے ’ تتلی کا جنم‘ کیا لکھا ، لہو رلا دیا۔ باپ گھر کے باغیچے میں بیٹی سے اور بیٹی تتلی سے کھیل رہی ہے اور پھر ایک دھماکہ ہوتا ہے۔ ’’ دوڑو دوڑو دریا کی طرف دوڑو میری بیٹی
، ابو میری تتلی؟
ارے پگلی چھوڑ اسے بھاگ ۔
وہ پلٹ کر تتلی کے پیچھے گھر کو بھاگی اور اس کے پیچھے بانہیں پھیلائے اس کی ماں ۔
ابو ابو مگر میری تتلی
اس کے الفاظ ابھی ہونٹوں سے پھوٹے ہی تھے کہ ۔۔۔ ایک اور دھماکہ ۔ گوشت کے چھوٹے بڑے پارچے ، بارود کی بو ، مٹی کے غبار ،اور ملبے کے ڈھیر میں غرق ہو گئے۔میری بچی‘‘۔

اور پھر قرۃ العین حیدر کا ’ یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے‘ ۔ ’’ اے میرے رب میری حفاظت کر ، میری نائو چھوٹی سی ہے اور تیرا سمندر بہت بڑا‘‘۔

مستنصر حسین تارڑ کا سفرنامہ ’ خانہ بدوش‘۔ درد میں ڈوبا کتنا سرد اختتام تھا اس کا ۔ ’’ میں سینکڑوں فلسطینیوں سے مل چکا تھا مگر احمد ایک مختلف انسان تھا ۔وطن اس کے لیے اغواء شدہ بچہ تھا جو جذباتی ہونے سے نہیں مل سکتا تھا ۔ اس کی تلاش میں اس کے نقش نہیں بھولنے تھے اور ایک سرد منصوبہ بندی سے خرکار کیمپ تک پہنچا تھا ۔ وہ بچہ احمد ایسے لوگوں کا انتظار کر رہا ہے‘‘۔

اردو شاعری میں فلسطین کا ایک پورا جہاں آباد ہے۔ اقبال ؒ کی نہ صرف نثر بلکہ شاعری میں بھی یہ درد نمایاں ہے۔ اپنی نظم ’ فلسطینی عرب سے ‘ میں اقبال نے کہا تھا : فرنگ کی رگِ جاں پنجہ یہود میں ہے۔ فیض احمد فیض نے ’ سر وادی سینا ‘ میں لکھا : یہیں سے اٹھے گا روز محشر ، یہیں پہ روزِ حساب ہو گا ۔’ لاخوف علیھم ‘ اور ’ کربلائے لبنان ‘ فیض احمد فیض کے اسی درد اور کرب کا اظہار ہیں ۔

اسرائیل کے ہاتھوں مصر کی شکست پر احمد ندیم نے ’ روشنی کی تلاش ‘ میں سوال اٹھایا : اب کہاں جائو گے ، اے دیدہ ورو۔ فلسطینی مجاہدین کا قتل عام ہوا تو ’ اردن‘ کے عنوان سے لکھی نظم میں احمد ندیم قاسمی نے کیا نوحہ لکھا:
’’ہم سب لہو کے اس دشت میں کھڑے سوچتے ہیں
جو ہاتھ ہم پہ اٹھے
ہمارے ہی ہاتھ تھے
مگر ان میں کس کے خنجر تھے‘‘

یہ بھی پڑھیں:   شکست یتیم ہوتی ہے، کامیابی کے ہزار باب پیداہو جاتے ہیں - حسین اصغر

ابنِ انشاء کی ’ دیوارِ گریہ ‘ کا تو جواب نہیں ۔ سب کچھ ہی اس نظم میں کہہ دیا گیا ہے۔ منظور عارف کی نظم ’ آئینے کے داغ ‘ میں بیان ہوا وہ کرب : اتنا ٹھنڈا کبھی صحرا تو نہ تھا ۔ منظور عارف ہی کی نظم ’ قبلہ اول‘ کا وہ اختتام :
آتش بازو!
کوئی عقیدہ اور نظریہ
آگ میں کیسے جل سکتا ہے
یہ تو اس میں کندن بن کر اور دمکنے لگتا ہے۔

حبیب جالب کی ’ الفتح کے جوانو‘۔ احمد فراز کی ’ بیروت‘ سے ٹپکتا وہ درد کہ ’’ حرم سراوں میں خوش مقدر شیوخ چپ ، بادشاہ چپ ہیں ‘‘۔ ضمیر جعفری کی ـ’ لیلی خالد‘، شہزاد احمد کی ’ حسین کا سبق‘ کہ ہم کو تو مسجد اقصی بھی ہے قرآں کا ورق ۔ محمود شام کی ’ بنت اقصی‘ ، رئیس امروہی کی ’ فدیہ ‘ ، زاہد ملک کی ’ امڈے سیلاب ذرا ٹھہر!‘، فیروز شاہ کی ’ کامران لہو کی بشارتیں‘، بلقیس محمود کی ’ پکار‘، سلطان رشک کی ’ ضربِ کاری‘، حسن عباس رضا کی ’ ابھی علم پھڑ پھڑ ا رہے ہیں‘، احمد شمیم کا ’ موت سے پہلے نوحہ‘۔۔۔ شدتِ غم میں محبتوں کی ایک مالا ہی تو پرودی گئی ہے۔

اس سارے پس منظر کا حاصل مگر ایک ہی سوال ہے : اردو ادب میں فلسطین کا توبہت ذکر ہے، کیا عربی ادب میں کشمیر پر لکھی گئی دو سطریں بھی تلاش کی جا سکتی ہیں؟

جب اس کا جواب تلاش کر لیا جائے تو پھر ایک اور سوال بھی میری ہتھیلی پر رکھا ہے۔ خود اردو ادب میں کشمیر کا کتنا ذکر ہے؟ ایک المیہ ہمارے عہد میں رونما ہوا ہے اور اب اس سے قطرہ قطرہ لہو ٹپک رہا ہے ، کیا ہم جان سکتے ہیں کہ ہمارے ادیبوں اور شاعروں نے اس پر کیا لکھا ؟ تاریخ انسانی کی غیر معمولی مزاحمت تو جاری ہے ، اس عہد کا مزاحمتی ادب کہاں ہے؟

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.