تمہی کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے - مسعود ابدالی

امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ تواتر سے یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ انکے لئے افغان جنگ جیتنا کچھ مشکل نہیں اور وہ صرف ایک ہفتے میں یہ معاملہ ختم کرسکتے ہیں۔ لیکن اس ہدف کے حصول کیلئے انھیں ایک کروڑ افغانیوں کو ہلاک کرنا پڑیگا جبکہ 'رحم دل ' ٹرمپ ایسا نہیں کرنا چاہتے۔ یہ بات انھوں نے پہلی بار وہائٹ ہاوس میں عمران خان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔

افسوس کہ ہمارے کپتان نے اس انسانیت سوز دعویٰ پر شائستہ انداز میں بھی اعتراض نہیں کیا۔ دوسرے دن صدر ٹرمپ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں فیصلہ کن فتح کیلئے انھیں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئیگی اور یہ مقصد روائتی اسلحے سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ آج صبح رومانیہ کے صدر کلاوس جوہانس (Klaus Iohannis)کے ہمراہ صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے انھوں نے یہ دعویٰ ایک بار پھر دہرایا۔ پتھر کے زمانے میں بھی جنگ کے کچھ اصول تھے جنکے مطابق لڑائی دونوں طرف کے مردان صف شکن کے مابین ہوتی تھی اور نہتے عوام پر دلاوری کا رعب نہیں ڈالا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جنگیں شہر سے دور کھلے میدانوں میں لڑی جا تی تھیں۔ ٹینک، بمبار اور میزائیلوں کے دور میں بھی مہذب قومیں کم ازکم زبان کی حد تک ہی شہری آبادیوں کے تحفظ کا یقین دلاتی ہیں لیکن یہاں تو قوت قاہرہ سے لیس دنیا کی سب سے مضبوط فوج کا سپہ سالار ببانگ دہل افغان شہری آبادی کو نیست ونابودکرنے کی دھمکی دے رہا ہے۔ افغانستان کی کل آبادی سوا تین کروڑ ہے یعنی یہ سورما ملک کی ایک تہائی ملک کو ذبح کرنے کا ذکر گاجر مولی کاٹنے کے انداز میں کررہے ہیں۔

صدر ٹرمپ یہ بات کسی نجی محفل میں نہیں بلکہ دنیا بھر کے میڈیا کے سامنے کی باربار کررہے ہیں۔ ہمیں ٹرمپ صاحب کی بات پر حیرت نہیں ہوئی کہ وہ اسی قسم کی باتیں کرتے ہیں لیکن ہمارے لئے اس لن ترانی پر دنیا کی خاموشی ناقابل فہم ہے۔ اورتو اور طالبان اور کابل انتظامیہ نے بھی اس پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔
جنگ کے دوران شہری آبادی کو نشانہ بنانا سنگین جنگی جرائم میں شمار ہوتا ہے اور کسی جرم کے ارتکاب کی دھمکی بھی مہذب دنیا میں قابل برداشت نہیں سمجھی جاتی۔ معلوم نہیں انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کی کمیٹی خاموش کیوں ہے۔