قوم پر رحم کیجئے - یوسف سراج

عرب کہتے ہیں، جنگ ایک ڈول کی طرح ہے، کنویں پر پڑا ڈول، جو آج ایک ہاتھ میں ہے تو کل کسی دوسرے کے ہاتھ میں، جنگ ہی نہیں، زندگی بھی ایسے ہی ہے۔ کبھی کے دن بڑے تو کبھی کی راتیں۔ مستقل صرف تبدیلی ہے،
ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں !

اکہتر میں پاکستان کو بدترین ہزیمت اٹھانا پڑی۔ غلطیاں جس نے بھی کیں، آج ان سے سبق سیکھا جا سکتا ہے، نتیجہ مگر یہ تھا کہ قائد کا پاکستان ہم نے کھو دیا تھا اور اس کا ایک بازو کاٹ پھینکا تھا۔ نوے ہزار کلمہ گو فوجی بھارتی قید میں تھے، جنرل نیازی نے اس ہزیمت کی یاد گار تصویر تاریخ کے نگار خانے کو مہیا کر دی تھی ،جس میں وہ جنرل اروڑہ کے حضور شکست کی ذلت ناک دستاویز پر دستخط کر رہے تھے ، ٹی وی پر یہ مناظر پوری دنیا دیکھ رہی تھی۔ یہی مناظر وطن سے دور ایک پردیسی بھی دیکھ رہا تھا ، وہ دیکھتا رہا اور اشک بہاتا رہا ، مسلمان اور شکست؟ مسلمان اور ایسی اذیت؟ اسکا دل اس پر کٹتا رہا۔ اس اذیتناک صورتحال کا ایک ردِ عمل تو یہی ہو سکتا تھا کہ رو رو کر دامن اشکوں سے بھگو لیا جاتا ، اپنے جذبات کا کتھارسس اور ایمان کا اظہار کر لیا جاتا اور بس، اس شخص نے مگر بدترین حالات میں ایک بہترین فیصلہ کیا، اس نے سوچا میں اپنے ملک کا دفاع ناقابلِ تسخیر بناؤں گا، اور پھر دنیا نے دیکھا کہ اس نے یہ کر دکھایا۔

یہ شخص ڈاکٹر عبدالقدیر تھے، جن کی کہانی اب ہماری تاریخ ہے۔ اس کہانی سے سیکھا جا سکتا ہے کہ بدترین حالات بھی بہترین کا محرک بن سکتے ہیں ، شر سے بھی خیر نکل سکتی ہے ۔ برے دن بھی اپنے انجام میں، سبق میں یا اثرات میں اچھے ہو سکتے ہیں۔ سیرت کا ہر ورق زندگی کے لیے ایک سبق ہے۔ طائف کا وہ دن رسولِ اطہر ؐ کبھی نہ بھولے، اہلِ طائف نے جب آپ کے جسدِ اطہر کو لہو رنگ کر دیا، لونڈے لپاڑے آپ کے پیچھے لگا دئیے اور آپ کو ایک باغ میں پناہ لینا پڑی۔ تب آپ نے سب سہہ لیا مگر بد دعا کی جگہ بھی آپ نے دعا کر دی۔ اس اذیت سے بہت بعد میں ایک خیر یہ نکلی کہ ہم اہلِ برصغیر تک اسلام اسی طائف کے ایک فرزند محمد بن قاسم لے کر پہنچے۔
احزاب بھی رسولِ رحمت کی زندگی کا مشکل بھرا دن تھا، معیشت کا عالم یہ تھا کہ مسلمانوں کے چولہے ٹھنڈے پڑے تھے ، پیٹوں پر پتھر بندھے تھے اور سارے عرب قبائل متحد ہو کے جنگ کا نقارہ بجا چکے تھے، بھوک سے نڈھال مسلمانوں کا عالم یہ تھا کہ خندق کھودتے تو زور سے پتھر پر ضرب تک نہ لگا سکتے۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر آئینی طور پر آزاد ہو گیا- سعد فاروق

ایسے حالات میں مگر پیغمبرؐ نے قیصر وکسریٰ کے فتح ہونے کی بشارتیں سنائیں۔ صحابہ نے ناصرف تحمل سے سنیں بلکہ جن کی زندگی نے وفا کی انھوں نے اپنی آنکھوں سے ان کی تعبیر دیکھ بھی لی۔ قرآن ہمیں زندگی کے لیے تیار کرتا ہے، زندگی نہ تو محض راحت کا نام ہے اور نہ یہ کسی سیدھی اور سپاٹ سڑک کا نام۔ زندگی کا ایک منظر نامہ واقعہ یوسفؑ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ بھائی جب سیدنا یوسفؑ کو کنویں میں پھینک رہے تھے تو کیا کوئی جان سکتا تھا کہ یہی موت کا کنواں آگے چل کر مصر کی فرمانروائی کا تخت نکلے گا۔ زندگی اسی طرح تاریک گھاٹیوں ، اندھے کنوؤں سے روشنیوں تک سفر کرتی ہے۔ آج مگر ہمارا عالم کچھ اور ہے، عجلت ، جذبات اور تعصب نے ہمیں تماشا بنا کے رکھ دیا۔ زندگی کے ہر رنگ کو ہم نے سیاہ چشمے سے دیکھنا شروع کر دیا۔ نفرت کی برفباری نے ہمارے دماغوں کے امید و امکان کے سارے دریچے منجمد کر کے رکھ دئیے۔ ہو سکتا ہے ہمارے ساتھ برا ہی ہو جائے مگر ہونے سے ایک صدی پہلے ماتم کرنے میں کیا عقلمندی ہو سکتی ہے؟ تازہ ترین معاملہ کشمیر کا ہے۔

کشمیر سے ہماری وابستگی جذباتی بھی ہے ، ایمانی بھی اور مادی بھی۔ دنیا جانے نہ جانے ،یہ ہم جانتے ہیں کہ بہتر سال سے ہمارے بھائی زخم زخم زندگی جی رہے ہیں ، وہ اکیلے دکھی نہیں، یقینا ان کے ہر درد کا کرب ہم اپنے دل اور دماغ پر محسوس کرتے ہیں۔ یہ بات بھی مگر سمجھنے کی ہے کہ آزادی کے سویرے اتنی ہی جلدی طلوع ہو جاتے تو دنیا کی کوئی قوم کبھی غلام نہ رہتی۔ آزادی کی جنگ اکثر مختصر نہیں ہوتی۔ کبھی نسلوں کو قربانی دینا پڑتی ہے کہ
خونِ صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
ایک خیال یہ ہے کہ کشمیر کے لیے فی الفور ایک فیصلہ کن جنگ کی جائے، جنگ اگر ہونی ہے تو کیا اسے کوئی ٹال سکتا ہے؟ لیکن کیا کوئی اور راستہ بھی ہو سکتا ہے؟ کیا جنگ کے آغاز کے لیے یہ ایک وا قعی بہترین وقت ہے؟ کیا جنگ محض جذبات سے چھیڑ دی جاتی ہے؟ جن کا یہ کام ہے کیا وہ سو رہے ہیں؟ کیا وہ انسان نہیں ؟مسلمان نہیں ؟پاکستانی نہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   ایک خط - ڈاکٹر صفدر محمود

جو ہونا ہے اپنے وقت پر وہ ہو کے رہے گا، لیکن کیا کچھ اچھی چیزیں بھی نہیں ہوئیں؟ ابھی کل تک دو طرفہ معاملات میں محض کشمیر کا تذکرہ دیکھنا بھی کامیابی باور ہوتی تھی، شملہ معاہدے میں ہم نے مانا تھا کہ کسی بھی عالمی فورم سمیت کبھی کسی تیسرے فریق تک کشمیر کی بات نہیں لے جائیں گے، آج مگر پچاس سال بعد کشمیر کے لیے بہتر گھنٹوں میں سلامتی کونسل کا اجلاس بلایا گیا، محض اجلاس کے ہونے ہی سے اندرونی معاملہ ہونے کا بھارتی موقف ہوا میں اڑ گیا۔ بوکھلا کے انڈین وزیر دفاع نے ایٹم جنگ میں پہل کاری کا سندیسہ سنا دیا، دنیا نے جہاں یہ دیکھا کہ بھارت کتنا ذمہ دار ملک ہے ، وہیں ہمارا یہ موقف بھی جان لیا کہ کشمیر کا مسئلہ پوری دنیا کے امن کو آگ لگا سکتا ہے۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ ایک ہی اجلاس سے ہمارے کچھ دوست مسئلے کا حل دیکھنا چاہتے تھے۔ اتنی جلدی تو عدالت دو عام فریقوں کے جھگڑے کا فیصلہ نہیں دیتی، یہ ایک بین الاقوامی ایشو ہے۔ اقوامِ متحدہ کے کردار پر بھی ہمیں شکوک ہیں، جو درست بھی ہیں مگر گزارش یہ ہے کہ جیسی بھی ہے، بہرحال اسی پچ پر ہمیں کھیلنا ہے،

کچھ دوستوں کا خیال تھا کہ انڈین آئین سے ہٹائی گئی شق کیوں نہ بحال کروائی گئی؟ بھلا پاکستان اس شق کی بات کیسے کر سکتا ہے ، جو کشمیر کو انڈیا کے ملحق کرنے کا شاخسانہ ہے؟ کیا پاکستان اس الحاق کے معاہدے کو مانتا ہے؟ لیکن خود انڈیا نے اس شق کو ہٹا کے کیا کما لیا؟ بھارت نواز قیادت کو بھی پاکستان کے حق میں یکسو کر دیا، پھر انڈیا سے ملحق دیگر ریاستوں کو بتا دیا کہ انڈیا ایک ناقابلِ اعتبار ملک ہے۔ ناگا لینڈ اور بھارتی پنجاب وغیرہ ریاستوں میں اس کا ردِ عمل بھی اس نے دیکھ لیا۔ ان معروضات سے مقصود صرف یہ کہ آئیڈیل نہ سہی، سب کچھ مگر برا بھی نہیں ہو رہا ، مایوسی کے اندھیروں میں ڈوبنے کے بجائے امید و مکاں کے دائرے میں رہتے ہوئے ہمیں آگے بڑھنا ہے۔ حالات پر نظر رکھنا ہے، بھروسہ مگر حالات پر نہیں، حالات کے خد اپر رہنا چاہیے ۔ وقت ایسا ہے کہ اپنے آپ کو اور قوم کو ہم نے تھامنا ہے۔ کوئی مخبوط الحواس قوم کسی کی کیا ، اپنی مدد بھی نہیں کر سکتی ، جبکہ کشمیر کو اب ہماری ضرورت ہے.