کچھ تلخ تاریخی حقائق؟ ڈاکٹر صفدر محمود

اگست کا مہینہ آتا ہے تو اگست 1947ء کے حوالے سے پڑھی ہوئی لاتعداد باتیں ذہن میں تازہ ہو جاتی ہیں۔ 72 برس گزرنے کے بعد ہماری نوجوان نسلیں اور عام شہری ان تلخ حقائق کو بھول چکے ہیں جن سے برطانوی حکمرانوں کی پاکستان سے کی گئی بےانصافیاں اور ہجرت کے آگ و خون کی داستانیں وابستہ ہیں۔ خیال آتا ہے کہ اپنی تاریخ کے شعور کو زندہ رکھنے کے لیے کم سے کم نمایاں حقائق کا ذکر ہوتا رہنا چاہیے۔

تاریخی حوالے سے کشمیر (ک) پاکستان کے نام اور وجود کا لازمی اور ناگزیر حصہ ہے۔ آپ کو علم ہے کہ جب کیمبرج میں چوہدری رحمت علی نے 1933میں پاکستان کا نام تجویز کیا، پاکستان موومنٹ شروع کی اور راتوں کی نیند حرام کرکے پاکستان کے حق میں دلائل لکھ لکھ کر برطانوی پارلیمینٹ کے اراکین کو بھجوانے شروع کیے تو اس نام کا درمیانہ حصہ (ک یاK) تھا جس کا مطلب کشمیر تھا۔ مسلم اکثریتی صوبے یا علاقے جو آپس میں جغرافیائی طور پر جڑے ہوئے تھے، پر مشتمل پاکستان کا تصور تشکیل دیا گیا تھا اور اسی تصور کو مقبول بنانے کے لیے چوہدری رحمت علی نے NOW OR NEVER شائع کی تھی جس کا آغاز ایک قرآنی آیات سے ہوتا ہے۔ گول میز کانفرنس میں اس اسکیم کو طلبہ کی اسکیم قرار دیا گیا اور قراردادِ پاکستان 23 مارچ 1940ء میں مسلمان اکثریتی علاقوں پر مشتمل آزاد مملکت یا مملکتوں کا مطالبہ تو کیا گیا لیکن اس مملکت کو کوئی نام نہ دیا گیا تھا۔ بیگم مولانا محمد علی کے علاوہ کسی مقرر نے بھی اپنی تقریر میں پاکستان کا ذکر نہ کیا لیکن ہندو پریس نے قراردادِ لاہور کو قراردادِ پاکستان کہہ کر بقول قائداعظم مسلم لیگ کی مشکل آسان کر دی۔ چنانچہ دسمبر 1940ء میں مسلم لیگ نے اپنے اس مطالبے کو سرکاری طور پر پاکستان کا نام دے دیا اور ہر سال 23 مارچ کو یومِ پاکستان منانے کا فیصلہ کیا۔

پاکستان کا لفظی مطلب تھا پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ، اس حوالے سے پاکستان کے تصور پر جو گولہ باری اور فقرے بازی ہوئی، وہ بذات خود ایک دلچسپ باب ہے۔ جب پاکستان کشمیر (ک) کے بغیر معرضِ وجود میں آگیا تو کہا گیا کہ کشمیر کے بغیر پاکستان ’’پاستان‘‘ رہ گیا ہے۔ بہرحال آزاد کشمیر کی موجودگی میں (ک) تو پاکستان کا حصہ ہے لیکن ظاہر ہے کہ پاکستان کا تصور کشمیر کے بغیر ادھورا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عظیم المیہ - صائمہ وحید

یہی وجہ ہے کہ دسمبر 1947ء میں ہندوستان کا گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن اپنی ہی لگائی ہوئی آگ پر قابو پانے کے بہانے پاکستان کے گورنر جنرل قائداعظم محمد علی جناح اور وزیراعظم لیاقت علی خان سے مسئلہ کشمیر پر گفتگو کرنے لاہور آیا تو قائداعظم کا استدلال نہایت واضح تھا۔ پنڈت نہرو آخری لمحے بیمار پڑ گئے، چنانچہ وہ ماؤنٹ بیٹن کے ساتھ نہ آ سکے۔ اس میٹنگ میں قائداعظم نے مائونٹ بیٹن پر واضح کیا کہ جس مسلمان اکثریتی اصول کی بنیاد پر پاکستان کا قیام عمل میں آیا ہے، اسی اصول کے تحت کشمیر کا الحاق ہندوستان سے نہیں ہو سکتا۔ ماؤنٹ بیٹن کی اپنی لگائی ہوئی آگ کو سمجھنے کے لیے تین بنیادی کتابوں کا مطالعہ مستحب ہے۔ اول، تقسیمِ ہند...افسانہ اور حقیقت، مصنف ایچ ایم سیروائی سابق ایڈووکیٹ جنرل مہاراشٹر ترجمہ ڈاکٹر صفدر محمود، سنگ میل پبلی کیشنز لاہور۔ دوم، ظہورِ پاکستان چوہدری محمد علی۔ سوم، Disastraus Turilight جنرل شاہد حامد پی ایس ٹو جنرل آکن لک سپریم کمانڈر... ان تینوں کتابوں کے مطالعے سے ماؤنٹ بیٹن کے کردار ریڈکلف ایوارڈ میں آخری وقت پر تبدیلیوں اور انتظامیہ کی ناکامی کے سبب خون کی ندیاں بہنے پر روشنی پڑتی ہے۔

جنرل شاہد حامد وائسرائے لاج میں مقیم تھے اور ماؤنٹ بیٹن کی سر ریڈ کلف سے خفیہ ملاقات کے امین ہیں۔ اسی ملاقات میں ماؤنٹ بیٹن نے دباؤ ڈال کر بہت سے مسلمان اکثریتی علاقے ہندوستان کو دلوائے اور اس طرح ہندوستان کا کشمیر سے زمینی رابطہ ہموار ہوا ورنہ اصلی ایوارڈ کے مطابق اگر یہ علاقے پاکستان کو مل جاتے تو ہندوستان کا کشمیر سے زمینی رشتہ منقطع ہو جاتا۔

چوہدری محمد علی عینی شاہد بھی ہیں اور درونِ خانہ واقعات سے آگاہی بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے جن نقشوں کا ذکر کیا ہے وہ ناقابل تردید شواہد ہیں اور ثابت کرتے ہیں کہ 9 اگست سے 15 اگست 1947ء کے درمیان ایوارڈ میں تبدیلی کرکے کچھ اہم مسلمان اکثریتی علاقے ہندوستان کو دے دیے گئے۔ پنجاب باؤنڈری کمیشن کے رکن جسٹس دین محمد نے حکومت پاکستان کو اطلاع دی کہ جب فیروز پور اور زیرہ کی تحصیلوں کا معاملہ باؤنڈری کمیشن کے سامنے پیش ہوا اور کمیشن کے پاکستانی اراکین نے دلائل دینا شروع کیے تو ریڈکلف نے یہ کہہ کر انہیں روک دیا کہ ایسے اظہر من الشمس معاملے کے بارے میں دلائل دینے کی ضرورت نہیں۔ چوہدری محمد علی لکھتے ہیں کہ 9 اگست 47ء کو انھیں قائداعظم کا پیغام ملا کہ انھیں ضلع گورداسپور، امرتسر، جالندھر میں مسلم اکثریت علاقوں کے حوالے سے تشویش ہے۔ آپ دلّی میں لارڈ اسمے کومل کر پیغام دیں کہ اگر پاکستان سے یہ ناانصافی کی گئی تو اس سے پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات متاثر ہوں گے۔ چوہدری محمد علی وائسرائے کے دفتر گئے اور لارڈ اسمے کے کمرے میں آویزاں ایک نقشہ دیکھا جس پر پنسل سے لکیریں کھینچی گئی تھیں۔ اگرچہ اس سے قائداعظم کی تشویش کی تصدیق ہوتی تھی لیکن اس کے باوجود فیروز پور اور زیرہ کی مسلم اکثریتی تحصیلیں اس وقت تک پاکستان کو مل رہی تھیں۔ سیروائی نے تفصیل سے لکھا ہے کہ پنجاب کے انگریز گورنر جنکز نے ماؤنٹ بیٹن سے ایوارڈ کے اعلان سے قبل ان علاقوں کی تفصیل مانگی تھی جو پاکستان کو ملنا تھے تاکہ وہ امن عامہ قائم رکھنے کے لیے اقدامات کر سکے۔ قیامِ پاکستان کے بعد جب موڈی پنجاب کا گورنر بنا تو اسے اپنے پیشرو جنکز کے کاغذات میں بھی وہی نقشہ ملا جو لارڈ اسمے کے دفتر میں آویزاں تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر کا غم اور لاہور کا جشن میوزیکل فیسٹیول - محمد عاصم حفیظ

سیروائی کی کتاب اعلیٰ درجے کی تحقیقی کتاب ہے جس میں برطانوی ریکارڈ اور اوریجنل دستاویز کے حوالوں سے ریڈکلف ایوارڈ کے ذریعے پاکستان پر مسلط کی گئی ناانصافیوں کی داستان بیان کی گئی ہے۔ سیروائی شواہد اور تحقیق سے ثابت کرتا ہے کہ ریڈکلف ایوارڈ میں ماؤنٹ بیٹن کے دباؤ کے تحت آخری وقت میں تبدیلیاں کر کے پاکستان کو کئی مسلم اکثریتی علاقوں سے محروم کر دیا گیا اور ہندوستان کو کشمیر میں داخلے کا راستہ دے دیا گیا۔ اسی راستے سے ہندوستان نے اپنی فوج کی ’’پلیشا‘‘ کو اگست، ستمبر میں کشمیر میں تعینات کیا جس کی تفصیل الیسٹر لیمب کی کتاب میں موجود ہے۔ الحاقی معاہدے ہونے سے قبل جب ہندوستان نے اپنی افواج بذریعہ جہاز سرینگر بھجوائیں تو ’’پلیشا‘‘ فورس پہلے سے وہاں موجود تھی۔

کانگریسی اور برطانوی قیادتوں نے پاکستان کے جسم پر گہرے زخم لگائے اور ان کا خیال تھا کہ پاکستان قائم نہیں رہ سکے گا۔ جذبہ جہاد سے سرشار کشمیر کی تحریک آزادی کے بارے بھی نریندر مودی کا خیال ہے کہ وہ اسے قوت سے دبا دے گا لیکن عالمی تاریخ گواہ ہے کہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ جنرل ڈائر آزادی کی امنگ کو کچل سکا نہ مودی سرکار کچل سکے گی۔ شہیدوں کی قربانیاں ایک نہ ایک دن رنگ لائیں گی، چاہے اس میں کئی نسلیں آنکھوں میں خواب سجائے دنیا سے رخصت ہو جائیں۔