تاریخ کا کوڑے دان - اوریا مقبول جان

تاریخ کا کوڑے دان سج چکا اور اس میں اوندھے منہ ٹیکنالوجی کے دیوتا کی لاش پڑی ہے۔ ڈرون طیارے، میزائل، راکٹ لانچر، سیٹلائٹ سے براہِ راست کنٹرول ہونے والے ہتھیار، رات کے اندھیرے میں دشمن کو تلاش کرنے والی دوربین، اپنی جانب بڑھنے والے میزائلوں کو مقناطیسی لہروں سے واپس موڑنے والے ٹینک، آواز سے تیز پرواز کرنے والے فائٹر جیٹ اور وہ سب کچھ آج اس کوڑے دان میں پھینکنے والے مردانِ حُرّ، بندگانِ خدا اور مؤمنان غازی صفت، مٹھی بھر طالبان اللہ کی کبریائی، طاقت و جبروت اور بادشاہی کے سامنے سجدہ ریز ہیں اور اس کی عظمت کے اعلان میں صرف ایک صرف اللہ اکبر کی صدائیں بلند کر رہے ہیں، لیکن جس طرح سورج کو غروب ہوتے دیکھ کر اس کی پرستش والے باز نہیں آتے، آتش کدے کی آگ سرد بھی ہو جائے، اس کے ماننے والوں کے دلوں سے اس کی خدائی پر یقین متزلزل نہیں ہوتا، سیدنا ابراہیمؑ پتھر کے بتوں کے سر کلہاڑے سے توڑ دیں، مگر غرور کے دل سے شرک کی گندگی نہیں نکلتی، اسی طرح ٹیکنالوجی کے بت کے دھڑام سے گرنے کے باوجود اس کے پجاریوں کے دلوں کی سیاہی ختم نہیں ہوئی۔

اول تو وہ کوئی جواب نہ پاتے ہوئے اس عظیم تاریخی فتح پر گفتگو سے گریز کرتے ہیں اور مجبوراً کہیں گفتگو کرنا پڑ بھی جائے تو دل کو سو تسلیاں دیتے رہتے ہیں، وہ دیکھونا، افغانستان کی سرزمین ہی ایسی ہے، اب کوئی چند لوگوں کو مارنے کے لیے ہزاروں مربع میل پہاڑ تو تباہ نہیں کرے گا، امریکہ خود ہی وہاں سے نکلنا چاہتا ہے۔ آخر رکھا ہی کیا ہے افغانستان میں۔ مجھے ان لوگوں کی بے بسی اور کسمپرسی پر ہنسی آتی ہے۔ یہ بیچارے سات اکتوبر 2001ء کو کس قدر غرور و تکبر سے اپنے دیوتا ’’ٹیکنالوجی‘‘ کی اڑتالیس ممالک پر مشتمل افواج کا ذکر کرتے تھے۔ ان کے لہجے مکہ کے ان مشرکین کی طرح تھے جو مٹھی بھر مسلمانوں کی کم مائیگی، عسرت، مفلوک الحالی کا تمسخر اڑاتے رہتے تھے۔ یہ دیکھو، یہ تین سو تیرہ جن کے پاس صرف دو گھوڑے ہیں، چھ زرہیں اور آٹھ تلواریں ہیں، ایک ہزار کے ایسے لشکر کا مقابلہ کریں گے جو کیل اور کانٹے سے لیس ہے، گھوڑوں پر سوار، زرہ بکتروں میں ملبوس، نیزوں، تلواروں اور بھالوں کے ذخیروں سے آراستہ ہے۔ تقدیر کا مالک ان کے غرور پر مسکرا رہا تھا۔

جب دنیاوی قوت اور طاقت کی پرستش کرنے والے ستر مرنے والے افراد کو میرے آقا سید الانبیاؐء نے ایک کنویں میں پھنک کر دفن کر دیا تو اس کے تیسرے دن آپؐ صحابہ کرام کے ہمراہ اس کنویں کے پاس آئے اور باڑ پر کھڑے ہو کر کہا، اے فلاں ابنِ فلاں، اے فلاں ابن فلاں، یعنی ایک ایک کا نام سے پکار اور فرمایا! کیا تمہیں یہ بات خوش آتی ہے کہ تم نے اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کی ہوتی؟ کیونکہ ہم سے ہمارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے ہم نے برحق پایا تو کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے تم نے برحق پایا۔ لیکن بدر کی واضح نشانیوں کے باوجود بھی مشرکین مکہ اس وقت تک اپنے شرک سے باز نہ آئے جب تک مکمل طور پر مغلوب نہیں ہو گئے۔ گردنیں جھکائے فتح مکہ کے دن اپنے لیے فیصلے کے انتظار میں تھے، اس دن انھیں یقین ہوا تھا کہ ان کے خدا اب ان کی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔

یہ بھی پڑھیں:   افغانستان کا مستقبل اور مفادات کی جنگ

دنیا بھر کے ٹیکنالوجی پرستوں کا عالم بھی مشرکین مکہ سے مختلف نہیں، جب تک خود شکست کی ذلت سے آشنا نہیں ہوں گے، دل سے یہ بت نہیں نکلے گا لیکن خوشخبری ہے ان لوگوں کے لیے جو اس کائنات کے مالک کی قوت و طاقت پر یقین رکھتے ہیں کہ نصرت الٰہی کے یہ منظر اول اول اسلام میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعتِ صحابہ میں دکھائی دیے تھے کہ جب انہوں نے قیصرو کسریٰ کی دو عالمی طاقتوں کو سرنگوں کر دیا تھا یا پھر اس نصرت الٰہی کا وعدہ آخرالزمان، دور فتن اور قیامت سے قبل ہونے والی بڑی جنگوں (ملحمتہ الکبری) کے ساتھ کیا گیا ہے۔ احادیث کی کتب کیسے کیسے لشکروں کے لیے جنت کی بشارتیں سناتی ہیں اور جن قوموں نے ابھی ابھی ٹیکنالوجی کے دیوتا کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینکا ہے۔ ان کے تو مقدر میں صرف اور صرف فتح لکھ دی گئی ہے۔ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’خراسان سے کالے جھنڈے نکلیں گے، ان جھنڈوں کو کوئی چیز نہیں روک سکے گی۔ یہاں تک کہ وہ ایلیا (بیت المقدس) میں گاڑ دیے جائیں گے۔ (سنن ترمذی، ابن ماجہ)۔

تاریخ کے اس کوڑے دان میں آئندہ آنے والے سالوں میں گزشتہ پانچ سو سالوں کے دیوتا، بت اور ان کے پجاریوں نے دفن ہونا ہے۔ یہ ان کا مقدر ہے سید الانبیاؐ کی بشارت ہے۔ ہر زمانے کے مشرکین کا ایک دیوتا ہوتا ہے جسے وہ اللہ اور اس کے احکامات کے مقابل لا کر کھڑا کرتے ہیں۔ آج کے دور کا بت اور دیوتا ٹیکنالوجی ہے۔ جس طرح مشرکین یہ کہتے ہیں کہ ہماری زندگی میں سکھ آسائش، امن دولت ان بتوں سے ہے جو ہمیں مانگنے پر عطا کرتے ہیں اور ہماری مصیبتوں کی وجہ بھی در اصل وہ طاقتیں ہیں جو کالی دیوی یا ایسے دیوتائوں کو حاصل ہیں۔ زرتشت کے پجاریوں نے تو دو خدا بنا دیے تھے یزداں (اچھائی کا خدا) اور اہرمن (برائی کا خدا)۔ اسی طرح ٹیکنالوجی کے پجاریوں نے بھی اس کے دو خدا بنا رکھے ہیں۔ فائدہ پہنچانے والی صفات والی ایجادات یعنی بلب سے لے کر ہوائی جہاز تک اور نقصان پہنچانے والی ایجادات یعنی کلاشن کوف سے لے کر ایٹم بم تک۔ ان دونوں پر ٹیکنالوجی پرست اس قدر یقین و ایمان رکھتے ہیں کہ ان کے نزدیک اگر کوئی خدا ہے بھی تو وہ ان کے بغیر نہ فائدہ پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان۔ ان کا شرک اس حد تک مدلل ہے کہ جو توپیں ٹیکنالوجی میں آگے ہوں گی، اللہ بھی انہی کی مدد کرے گا۔ ان کے مطابق اللہ اس قدر بےبس ہے کہ نہتا آدمی رو رو کر بھی اس سے دعائیں کرتا رہے، وہ اسے مرنے کے لیے تنہا چھوڑ دے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا جموں و کشمیر کامسئلہ حل ہونے جارہا ہے؟ پروفیسر جمیل چودھری

یہ لوگ ٹیکنالوجی کے مقام و مرتبہ کو اس قدر بلند کرتے ہیں کہ انسان اللہ کی ان نعمتوں کی طرف توجہ ہی نہیں کر پاتا، ان کا شکر گزار ہی نہیں ہو پاتا جن کے بغیر ٹیکنالوجی کی آسائش بےمعنی ہیں۔ صرف ایک نعمت کے بارے میں میرے اللہ کا دعویٰ ہے ’’کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر تمہارے کنوؤں کا پانی زمین میں اتر جائے تو کون ہے جو اس بہتے ہوئے پانی کے چشمے تمھیں نکال کر لا دے گا۔‘‘ (الملک:36) یہ صرف ایک نعمت ہے جس کی تخلیق انسان کے بس میں نہیں ہے اور اگر یہ چھین لی جائے تو شاندار ائیرکنڈیشنڈ، محلات میں تمام آسائشوں کے ہوتے ہوئے یہ ٹیکنالوجی پرست تڑپ تڑپ کر مر جائیں۔ اللہ پھر فرماتا ہے: ’’اچھا یہ بتاؤ کہ یہ پانی جو تم پیتے ہو، کیا اسے بادلوں سے تم نے اتارا ہے یا ہم نے، اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا بنا کر رکھ دیں، پھر تم شکر کیوں ادا نہیں کرتے۔‘‘ (الواقعہ:70)

حالت یہ ہے کہ اللہ کا اتارا گیا لوہا نہ ہو، لیتھم جیسی دھاتیں نہ ہوں تو ٹیکنالوجی کے محل دھڑام سے گر جائیں۔ ہوا، پانی، فصلیں، پھل اللہ کی نعمتیں ہیں۔ اللہ اگر ناراض ہو کر چھین لے تو زمین پر سوائے موت کے کچھ نہ ہو اور اگر یہ نعمتیں موجود ہوں اور ٹیکنالوجی کی آسائش میسر نہ بھی ہو، اس کی تباہی کی قوت موجود نہ بھی ہو، تب بھی چند ہزار متوکل بندے اس دیوتا کو جس کا نام ٹیکنالوجی ہے، تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیتے ہیں۔ آخری زمانے میں قیامت سے قبل اس کوڑے دان میں ایسے کئی دیوتاؤں کے مزار بننے ہیں۔ جن میں ایک مزار ہند کے بادشاہوں کا ہے۔ اللہ کی فرمانروائی بھی قائم ہے، فتح کی بشارتیں بھی موجود ہیں، صرف ایک توکل کے نعرے کی کمی ہے۔ تاریخ کا کوڑے دان ہند کے بادشاہوں کی ذلت آمیز شکست کا چودہ سو سال سے انتظار کر رہا ہے۔