بھارت نے کشمیر کی تیسری نسل کو دھوکہ دیا - شاہ فیصل

انڈین حکومت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کی تبدیلی اور گذشتہ دس روز سے جاری لاک ڈاؤن کے بارے میں بی بی سی کے پروگرام ہارڈ ٹاک میں شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ ’وہ لوگ جن کا خیال تھا کہ انڈیا انھیں دھوکہ نہیں دے گا، یہ جو ہمارے ساتھ کیا گیا ہے، یہ جو سلسلہ پانچ اگست 2019 کو شروع ہوا ہے، یہ ہماری نسل کو دھوکہ دیا گیا ہے۔‘

گذشتہ روز یعنی 13 اگست کو بی بی سی کے مقبول ٹی وی پروگرام ہارڈ ٹاک میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے جموں و کشمیر پیپلز موومنٹ کے رہنما شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ آٹھ روز سے جموں و کشمیر میں کرفیو نافذ ہے، رابطے کے ذرائع منقطع ہیں اور اسی لاکھ افراد محاصرے میں ہیں۔ ’وادی میں لاک ڈاون ہے، سڑکیں سنسان، بازار بند ہیں، انٹرنیٹ، ٹی وی، موبائل نیٹ ورک معطل ہیں اور لوگ اپنے عزیز و اقارب سے رابطہ نہیں کر پا رہے ہیں۔ جموں و کشمیر کی عوام کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے۔ جموں و کشمیر میں اس وقت جنگ سی صورتحال ہے، غیر معمولی تعداد میں سکیورٹی فورسز موجود ہیں۔ کشمیر کی تمام سیاسی قیادت کو گرفتار یا حراست میں لیا گیا ہے۔‘ شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ پولیس مجھے بھی گرفتار کرنے آئی تھی اور ’مجھے خدشہ ہے کہ جب میں واپس کشمیر جاؤں گا تو مجھے بھی گرفتار کر لیا جائے گا۔‘

پروگرام ہارڈ ٹاک میں اس سوال پر کہ انڈین حکومت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد آپ اپنی جماعت کے کارکنوں اور کشمیری عوام کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں، تو شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ ’پانچ اگست کو جس طرح سے انڈین حکومت نے آئینی شب خون مارا ہے اس سے ہم جیسے سیاستدان جنھیں جمہوری عمل پر یقین تھا اور وہ امید رکھتے تھے کہ انڈیا کے آئین کے اندر رہتے ہوئے ہی اس کا کوئی ممکنہ حل نکلے گا ان کا اعتماد ختم ہو گیا ہے۔

’ہم لوگوں کو بنا کسی وجہ کے قید کر دیا گیا ہے، ہمارے دو سابق وزرا اعلیٰ نظر بند ہیں۔ لہذا جب آپ تحریک چلانے کی بات کرتے ہیں تو گذشتہ ایک ہفتے کے دوران وادی میں کسی بھی قسم کا احتجاج کرنا ناممکن ہے۔ لیکن مجھے علم ہے کہ جیسے ہی کشمیر میں پابندیاں ختم ہوں گی تو فطری تور پر وہاں مظاہروں کا آغاز ہو جائے گا۔‘

’کشمیر کی آئینی حیثیت کو ختم کرنا آئین کے قتل کے مترادف ہے‘
کشمیری عوام کو پرامن رہنے کی تلقین دینے کے سوال کے جواب پر کشمیری سیاسی رہنما شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ ’یہ سمجھداری کا تقاضہ ہے کہ آپ پرامن رہیں کیونکہ اس وقت وادی میں دو لاکھ سے زیادہ سکیورٹی فورس کے اہلکار ہر اس شخص کو مارنے کے لیے تیار ہیں جو ان کے خلاف آواز اٹھائے گا۔ ’میرے خیال میں یہ کشمیری عوام کا دانشمندانہ فیصلہ ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ انڈیا کی حکومت نے جو کیا ہے کشمیری عوام اس پر زیادہ بہتر، مستحکم، منظم و متحرک اور دور رس انداز میں ردعمل دیں گے۔‘

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ حیرانی کی بات ہے کہ انڈیا دنیا میں خود کو سب سے بڑی جمہوریت کہنے کا دعویدار ہے اور نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے باوجود ہم سمجھتے تھے کہ یہاں چند جمہوریت پسند ادارے ہیں جو آئین کی حفاظت کریں گے لیکن سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ جس انداز سے حکومت نے یہ اقدام اٹھایا ہے۔ ’اگر آپ انڈیا کی آئینی تاریخ دیکھیں تو گذشتہ ستر برسوں میں جو بھی قانون ساز تھے ان کے خیال میں کشمیر کو حاصل ان آئینی ضمانتوں کو آئینی طریقہ کار کے تحت ختم کرنا ناممکن ہے۔ لیکن آج جس طرح سے مودی حکومت نے کشمیر کی آئینی حیثیت کو ختم کیا ہے یہ مکمل طور پر غیر قانونی اور آئین کے قتل کے مترادف ہے۔‘

یہ بھی پڑھیں:   ہم سمجھنا ہی نہیں چاہتے - شیخ خالد زاہد

شاہ فیصل نے کہا کہ انھیں علم تھا کہ بی جے پی کے منشور میں ہمیشہ سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنا شامل تھا تاکہ ان کا 'اکھنڈ بھارت' کا خواب پورا ہو سکے لیکن ’جس طرح سے دن دیہاڑے آئین کو پامال کیا گیا ہے اس سے ہر وہ شخص حیران ہے جو انڈیا کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت سمجھتا تھا۔‘

’اب معاملہ ہماری شناخت ختم کرنے کا ہے‘
جموں و کشمیر کی تعمیر نو سے متعلق بل کی انڈین لوک سبھا میں منظوری کے سوال پر شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ ’ہم جمہوری مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں لیکن پارلیمنٹ کا کام جمہوریت کے اصولوں کو ختم کرنا نہیں ہے۔ پارلیمنٹرینز صرف اکثریت کی آواز نہیں بن سکتے۔ ’ہمارا مسئلہ ہی یہ ہے کہ اقلیت کی نمائندگی کون کرے گا۔ جب آپ انڈیا میں سماجی و ثقافتی تنوع کی بات کرتے ہیں تو ایوان میں 1.3 ارب آبادی کی نمائندگی ملتی ہے لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہی ہے کہ جب پارلیمنٹ غیر آئینی اقدامات کا سہارا لیتی ہے تو جو آج کشمیر کے ساتھ ہوا ہے کل کسی بھی دوسری ریاست کے ساتھ ہو سکتا ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ اگر اس ملک کا ایوان ہی مرکز کے ڈھانچے کو تباہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو اس کا مینڈیٹ پارلیمنٹ کو نہیں ہے۔

’اگر آپ غور کریں تو انڈیا کی سپریم کورٹ نے بھی پارلیمنٹ کے لیے ایک ضابطہ کار مرتب دیا ہوا ہے جس کے تحت چند ایسی چیزیں ہیں جو انڈین پارلیمنٹ بھی تبدیل نہیں کر سکتی۔ اور ہمارا خیال ہے کہ جیسا کہ سپریم کورٹ نے خود کشمیر کے آرٹیکل 370 کی بنیاد رکھی ہے تو پارلیمنٹ اس کو بھی تبدیل نہیں کر سکتی۔‘

سپریم کورٹ میں اس فیصلے کو چیلنج کرنے سے متعلق سوال کے جواب میں کشمیری رہنما شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ اگر انڈین پارلیمنٹ ملک میں اکثریت کی نمائندگی کرتی ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ سپریم کورٹ کو اقلیت کی نمائندگی کرنی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ اب تک کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے وہ اس فیصلے کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے جا رہے ہیں۔ ’چند جماعتوں نے پہلے ہی اس کو چیلنج کیا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ ایک طویل لڑائی ہوگی۔ میں جانتا ہوں کہ سپریم کورٹ کے لیے بھی اس کو واپس کرنا آسان نہیں ہوگا جو ایک اکثریت رکھنے والی حکومت نے کیا ہے۔ یہ سپریم کورٹ کے ججوں کے لیے بھی آسان نہیں ہوگا کہ حق کا ساتھ دے سکیں۔‘

آرٹیکل 370 کے تحت کشمیری شہریت اور خواتین کو جائیداد کے مالکانہ حقوق نہ ملنے کے قانون پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون ارتقائی مراحل میں تھا اور اس پر متعدد بار ایوان میں خواتین کو یہ تحفظ اور حقوق دینے پر بحث ہوئی ہے جبکہ جموں و کشمیر کی ہائی کورٹ نے بھی اپنے فیصلے کے ذریعے اس مسئلے کو حل کر دیا تھا کہ ان خواتین کو مالکانہ حقوق حاصل ہوں گے جو ریاست سے باہر کسی سے شادی کرتی ہیں۔

’ہم متعدد بار انڈین حکومت کو یہ کہتے رہے ہیں کہ یہ معاملات ہماری اسمبلی اور سیاسی قیادت پر چھوڑ دیں، اگر ان قوانین میں کوئی خامیاں ہیں تو ان کو دور کر لیا جائے گا۔ لیکن اب معاملہ ہماری شناخت ختم کرنے کا ہے۔ ہمارے آبادیاتی خدوخال میں تبدیلی کرنے کا ہے۔ ریاست کا چہرہ تبدیل کرنے کا ہے۔ یہ ایجنڈا ہمیشہ سے بی جے پی کا رہا ہے جس کے تحت وہ ملک میں ایک قانون، ایک جھنڈا، ایک وزیراعظم، ایک صدر کا پرچار کرتے رہیں ہیں۔‘

’گذشتہ 70 برسوں سے یہ دونوں ممالک کچھ نہیں کر سکے‘
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ملک میں مذاکرات کے لیے ماحول نہیں رہا، ’صرف ہمارے لیے ہی نہیں بلکہ ہر کسی کے لیے ختم ہو گیا ہے۔ وہ لوگ جو ملک میں مفاہمت اور مذاکرات کی سیاست کے حامی تھے پانچ اگست کو ان کے منھ پر طمانچہ مارا گیا ہے۔ ’آج ریاست کشمیر میں سیاست کرنے کے بس دو ہی طریقے ہیں یا تو آپ ان کے پٹھو بن جائیں یا علحیدگی پسند۔ وہ لوگ جو کشمیری عوام کے حقوق کی جدوجہد کے لیے کوشاں تھے، مجھے یقین ہے کہ ان کی حکمت عملی تبدیل ہو گئی ہے، ان کا راستہ تبدیل ہو گیا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیں:   استحکام پاکستان میں افواج پاکستان کا کردار - عظمیٰ عروج عباسی

اس سوال پر کہ کیا آپ حکومت کے حامی بنیں گے یا علحیدگی پسند، شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ یہ قبل از وقت ہے ’لیکن یہ واضح ہے کہ میں کبھی بھی حکومت کا جوڑی دار نہیں بنوں گا۔‘ پروگرام کے میزبان کی جانب سے اس سوال پر کہ کیا آپ اب اپنے آپ کو علحدگی پسند سمجھتے ہیں، شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ ’میں اپنے آپ کو مرکزی دھارے کے سیاستدان یا علحیدگی پسند کی اصلاحات کی قید میں بند نہیں کرنا چاہتا کیونکہ یہ انڈین حکومت کا بیانیہ ہے۔

’اگر آپ دیکھیں تو وہ لوگ جو علحیدگی پسند ہیں یا انڈین حکومت کے خلاف ہیں، ان کے پاس عوام کی حمایت زیادہ ہے بجائے ان لوگوں کے جن کو انڈین حکومت مرکزی دھارے میں گردانتی ہے۔ تو عملی طور پر وہ لوگ مرکزی دھارے میں ہیں، ہم جیسے لوگ مرکزی دھارے میں نہیں ہیں۔ اب کشمیر میں سیاست کی تمام اصلاحات تبدیل ہو چکی ہیں، اب ایک وہ ہوں گے جو انقلاب پسند ہیں اور ایک وہ جو حالات کو جوں کا توں رکھنے کے حامی ہیں۔ میں خود کو انقلاب پسند کہلانا چاہوں گا۔‘

کشمیر میں حالات خونریزی کے جانب بڑھنے کے بارے میں سوال پر ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ تیس برسوں میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد کشمیر میں مارے گئے ہیں۔ کشمیری ہندو پنڈتوں سمیت ہزاروں افراد نے نقل مکانی کی ہے۔ ’مجھے پریشانی ہے کہ اگر کشمیر 1980 اور 1990 کی دہائی میں واپس چلا جاتا ہے تو کئی اور نسلوں کو خون خرابہ دیکھنا ہوگا۔ اور اگر ایسا ہوا تو یہ کسی جوہری تباہ کاری سے کم نہیں ہو گا۔‘

شاہ فیصل نے کہا کہ انھیں کشمیر کے مسئلے پر عالمی برادری کے ردعمل نے بہت مایوس کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’اس علاقے پر خطے کی تین جوہری طاقتیں اپنے حق کی دعویدار ہیں اور یہ ایک فلیش پوائنٹ ہے اور اس کو ایسے نہیں چھوڑا جاسکتا۔ عالمی برادری کو کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لینا ہوگا۔‘

کشمیر میں پاکستان کی مداخلت کے انڈین حکومت کے الزام کے سوال پر شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ ’پاکستان نے اس معاملے میں ایک عالمی غیر سرکاری تنظیم کی طرح کام کیا ہے۔ عالمی پلیٹ فارم پر خطرے کی گھنٹیاں بجائی ہیں، اور بے بسی سے ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں۔ ’ہم سمجھتے تھے کہ پاکستان اور انڈیا اس مسئلے کا کوئی حل نکال لیں گے لیکن گذشتہ 70 برسوں سے یہ دونوں ممالک کچھ نہیں کر سکے اور اب وقت ہے کہ عالمی طاقتیں اس مسئلے کے حل کے لیے دونوں ممالک کو اس پر مذاکرات کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ اس سارے عمل میں یہ یاد رکھا جائے کہ اس کے سب سے اہم اور زیادہ سٹیک ہولڈرز کشمیری عوام ہیں۔‘

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ وقت ہے جب صرف کشمیری عوام کا بیانیہ سنا جائے کیونکہ ماضی میں ہمیشہ سے کشمیر کے بیانیے کو یا تو انڈیا کے بیانیے یا پاکستان کے بیانیے کے ساتھ ملا کر سنا گیا ہے۔

شاہ فیصل کون ہیں؟
شاہ فیصل جموں و کشمیر کی سیاسی جماعت پیپلز موومنٹ کے رہنما ہیں۔ ان کا تعلق وادی کشمیر کے علاقے کپواڑہ سے ہے۔ شاہ فیصل سنہ 2009 میں انڈین سول سروسزکے امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے پہلے کشمیری تھے۔ انھوں نے اس برس جنوری میں انڈین سکیورٹی فورسز کی طرف سے کشمیر میں نوجوانوں کے قتل کے خلاف احتجاجاً انڈین سول سروسز سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انھوں نے رواں برس فروری میں اپنے سیاسی سفر کا آغاز اپنے آبائی علاقے کپواڑہ میں ایک جلسے سے خطاب کر کے کیا۔ مارچ 2019 میں انھوں نے اپنی سیاسی جماعت پیپلزموومنٹ کی بنیاد رکھی تھی۔