کارگل میں صرف ہمارا جھوٹ ہارا تھا - طارق ابوالحسن

ہر سال جولائی کے مہینے میں اس سوال پر اکثر بات ہوتی ہے۔ میرے نزدیک کارگل میں کوئی اور نہیں ہمیشہ کی طرح صرف ہمارا جھوٹ ہارا تھا۔

ایک پرجوش صحافی کی حیثیت سے میں اُن تین صحافیوں میں سے ایک تھا جو اپنے طور پر کارگل کے محاذ پر پہنچے تھے۔ ان میں میرے علاوہ ایک ساتھی جو اب ایک نیوز چینل کے ڈائریکٹر نیوز ہیں، اُن دنوں ہم کراچی کے ایک اردو روزنامے سے وابستہ تھے، اور سید مجتبی جو اب برطانیہ میں اسلام ٹی وی اردو میں پروگرام اینکر ہیں، اُن دنوں روز نامہ جنگ لندن سے وابستہ تھے۔ میرے خیال میں صرف ہم ہی وہ صحافی تھے جو آزادانہ طور کارگل کے محاذ پر پہنچے تھے۔

یہ جولائی 1999ء کی ایک صبح تھی جب ہم پی آئی اے کے ذریعہ کراچی سے اسلام آباد اور وہاں سے اسکردو پہنچے تھے۔ پہلے سے ہوئے رابطوں کے ذریعہ ہم اسکردو میں مجاہدین کے ایک مرکز گئے، اور وہاں دو دن رک کر مجاہدین کے ہمراہ کارگل کے محاذ کی جانب روانہ ہوئے۔ کیونکہ صحافیوں کو اس علاقے میں آنے کی اجازت نہیں تھی، اس لیے ہمارا تعارف صحافی کی حیثیت سے نہیں تھا۔

یہ سفر زندگی کا ایک خطرناک سفر تھا، ہماری جیپ سدپارہ جھیل کے کنارے کچے اور اونچے نیچے راستوں پر چل رہی تھی ۔ جھیل ختم ہوئی تو ایک جانب بلند و بالا پہاڑ تھے، دوسری جانب گہری کھائی میں بہتا دریا۔ راستے میں دریا میں گری کئی جیپیں ہمیں اس انجام سے ڈرا رہی تھیں۔ اس راستے پر ہماری جیپ تھی یا پھر فوجی گاڑیاں۔ پہاڑ ختم ہوئے تو ہم اس قدر بلندی پر موجود دنیا کے دوسرے بڑے پلوٹو دیوسائی کے میدان میں موجود تھے، خوبصورت اور سینکڑوں اقسام کے پھولوں سے سجے اس میدان سے کئی افسانوی کہانیاں وابستہ ہیں۔ ہمیں بتایا گیا کہ دیوسائی میں بہتے دریا مقبوضہ کشمیر کی جانب جاتے ہیں۔ دیوسائی ختم ہوا تو ہم چلم پہنچے جہاں پاکستان آرمی کا مرکز ہے۔ رات سڑک کے کنارے لکڑی سے بنے کیبن نما ایک سرائے میں گزاری۔ ہمارے لحاظ سے تو جولائی کے مہینے میں بھی یہاں خاصی سردی تھی۔ لیکن جس چیز سے ہمیں یہاں پہلی مرتبہ سابقہ پڑا، وہ اس بلندی پر آکسیجن کی کمی تھی۔ سر اور سینے میں شدید درد اور سانس لینے میں سخت مشکل کی وجہ سے آدھی رات کو اچانک آنکھ کھل گئی تو اندازہ ہوا کہ اس بلندی سے بھی کہیں اوپر پہاڑوں میں موجود ہمارے جوانوں کو دشمن کے علاوہ سخت موسمی حالات اور آکسیجن کی کمی جیسی مشکل صورتحال کا بھی سامنا ہے۔

رات جیسے تیسے گزار کر آگے بڑھے اور دومیل کے مقام پر پہنچے۔ یہ ایک بیس کیمپ تھا جہاں کشمیری مجاہدین کے علاوہ مزید دو تنظیموں کے کیمپ بھی تھے۔ یہیں سے ہم نے کارگل، گلتری اور داود پوسٹ جیسے محاذ جنگ کا دورہ کیا۔ دومیل میں مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں سے ملاقات ہوئی جو حزب المجاہدین سے وابستہ تھے۔ انہیں جب یہ معلوم ہوا کہ ہم کراچی سے آئے ہیں تو وہ ہم سے ملنے آئے اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ آج شام ہم سے کرکٹ میچ کھیلیں۔ انھی مجاہدین کے ذریعے ہمیں مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں کے کرکٹ سے لگاؤ کا علم ہوا۔ یہ کشمیری نوجوان اس علاقے میں کافی دنوں سے تھے، اس لیے یہاں کے موسمی حالات سے مانوس تھے۔ لیکن ہمارے لیے مشکل یہ تھی کہ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے دوڑ کر ایک رن لینے کے بعد دوسرا رن لینے کی ہمت ہی نہیں رہتی تھی۔

جب ہم اس علاقے میں پہنچے تو پاکستانی فوجیوں کی پہاڑی مورچوں سے واپسی شروع ہوچکی تھی۔ ہم مختلف محاذوں کا دورہ کرتے اور محاذ جنگ سے واپس آنے والے فوجیوں سے مل کر اُن کے تاثرات معلوم کرتے۔ اکثر سپاہی اور افسر کارگل کے محاذ سے واپسی کے حکم پر انتہائی غصے اور صدمے کا اظہار کرتے، اور اس کا ذمہ دار نواز شریف حکومت کو قرار دیتے۔

اب ہم اصل معاملے کی جانب آتے ہیں۔ 1999ء کے موسم سرما میں پاکستانی دستوں نے کارگل کے پہاڑوں پر موجود ان مورچوں پر قبضہ کرلیا تھا جو سرما کے سخت موسم میں بھارتی فوج خالی کر کے چلی جاتی تھی۔ کارگل آپریشن کا مقصد یہ تھا کہ سیاچن لیہ ہائی وے پر کنٹرول حاصل کر لیا جائے اور سیاچن پر موجود بھارتی فوج کی رسد کاٹ دی جائے۔ فوجی لحاظ سے یہ ایک جرت مندانہ مہم تھی، لیکن بدقسمتی سے اس کی بنیاد ایک ایسے جھوٹ پر رکھی گئی جس کا یقین ہم اپنے دوستوں تک کو نہ دلا سکے۔

کارگل کی مہم کے لیے پاکستان کے پاس کافی اخلاقی جواز موجود تھا۔ یہ علاقے 1984ء سے پہلے پاکستان کے پاس ہی تھے، اور بھارت نے اچانک اقدام کرتے ہوئے سیاچن اور کارگل کے ان علاقوں پر قبضہ کیا تھا۔ دوسرا یہ کہ بلند پہاڑی موچوں پر قابض بھارتی فوج نیچے وادی میں آباد آزاد کشمیر کے شہری علاقوں کو اکثر نشانہ بناتی ہے۔ اپنے مقبوضہ علاقوں کی بازیابی اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کی خاطر پاکستان کے پاس اپنے اس اقدام کا مکمل اخلاقی اور قانونی جواز موجود تھا، اور اس کا دوست ملکوں کو بھی یقین دلایا جاسکتا تھا، لیکن اس کے برخلاف پاکستان کا مؤقف یہ تھا کہ بھارتی مورچوں پر قبضہ کی یہ کارروائی کشمیری مجاہدین کی ہے۔ پاکستان آخر تک اسی پر اصرار کرتا رہا۔ یہ ایک ایسا جھوٹا مؤقف تھا جس پر دوست ممالک سمیت کسی کو یقین نہیں آیا۔

حقیقت یہ تھی کہ کارگل کی چوٹیوں پر قبضہ پاکستان آرمی کی کارروائی تھی، نادرن لائٹ انفینٹری کے جوان اس مہم کا حصہ تھے۔ بعد میں کچھ مجاہدین بھی شامل ہوئے لیکن اصل کارروائی نو گیارہ اور بارہ این ایل آئی کے دستوں نے انجام دی تھی۔ جنرل پرویز مشرف جن کی منظوری سے آپریشن ہوا تھا، اب اس کا اعتراف کرتے ہیں اور بھارت کو زبردست نقصان پہچانے کا دعوی بھی۔

پاکستانی جھوٹ زیادہ نہیں چل سکا۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ پاکستان دوست ملکوں کی سفارتی، اخلاقی اور فوجی مدد سے محروم ہوگیا۔ کیونکہ چین اور دوسرے دوست ملک پاکستان کی مدد کے لیے تو آسکتے تھے لیکن مجاہدین کی مدد کرنے کا ان کے پاس کوئی جواز نہیں تھا۔ یہ پاکستان کی سفارتی محاذ پر واضح شکست اور دنیا بھر میں بھارتی موقف کی جیت تھی۔ امریکا کی جانب سے کارگل کے محاذ کی فراہم کردہ سیٹلائٹ تصاویر نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی تھی۔

اب آئیے میدان جنگ کی طرف۔ بھارتی مقبوضہ علاقے میں محاذ جنگ کی جانب جانے والے راستے پختہ اور سامان رسد کی سپلائی تیز رفتار تھی۔ پاکستان کی جانب پہاڑوں میں بنے راستے ناہموار کچے اور انتہائی خطرناک تھے۔ پاکستانی فوجی میدان جنگ میں صرف چھوٹے اور ہلکے ہتھیار ہی لے جاسکے۔ اونچے پہاڑی مورچوں تک رسد خچر، یاک جو گائے سے مشابہ مقامی جانور ہے، کے ذریعہ تھی، یا پھر جوان اپنی پیٹوں پر لاد کر لے جاتے تھے۔

بھارت نے جب جوابی حملہ کیا تو شروع میں پاکستانی فوجیوں کا پلا بھاری رہا۔ بہتر پوزیشن کی بدولت بھارتیوں کا زبردست نقصان ہوا۔ لیکن پھر بھارت اپنے بہترین جنگی طیارے میراج 2000 لے آیا جو ایریل ریکی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ بھارت نے ایریل فوٹوگرافی کے ذریعہ پاکستانی فوجیوں کی پوزیشنوں کا پتا لگا لیا، جبکہ امریکا نے بھی اپنے مصنوعی سیاروں کے ذریعہ حاصل ہونے والی معلومات بڑی فراخ دلی سے بھارت کو فراہم کیں۔ ان معلومات کی روشنی میں بھارت نے سویڈن سے حاصل کردہ بوفرز توپوں کا بھرپور استعمال کیا۔ انڈین ائیرفورس کو کارگل کے محاذ پر کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ بھارتی طیارے آزادانہ طور پر پاکستانی مورچوں پر بم گراتے اور زمین سے بوفرز توپیں پاکستانی مورچوں کو تاک تاک کر نشانہ بناتیں۔ جھوٹے مؤقف کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ اس پوری جنگ میں پاکستان ائیر فورس لاتعلق رہی، کیونکہ پاکستان ائیرفورس مجاہدین کی مدد کے لیے نہیں آ سکتی تھے۔ پاکستانی فوجیوں کا زیادہ نقصان پہاڑوں سے اترتے وقت ہوا، انھیں کوئی تحفظ حاصل نہیں تھا۔ اوپر سے بھارتی طیارے بم گراتے تو زمین سے وہ بوفرز توپوں کا نشانہ بنتے۔ یہ بات آج تک سمجھ نہیں آئی کہ جب واپسی کا فیصلہ ہوا تو نواز شریف حکومت نے جنگ بندی پر اصرار کیوں نہ کیا۔

ہم نے شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت کی، بعض جوانوں کی لاشوں کو خچروں پر لاد کر پہاڑوں سے نیچے لایا گیا تھا۔ اس میں شک نہیں کہ ہمارے جوانوں نے بڑی بےجگری سے یہ جنگ لڑی تھی اور بہادری کی لازوال داستانیں رقم کیں۔ پہاڑوں سے اترنے والے جوانوں کو ہم نے روتے دیکھا، وہ فتح کیے علاقے چھوڑنے پر راضی نہیں تھے۔ لیکن ہمارے جھوٹے مؤقف نے ہمیں نہ صرف شکست کا داغ دیا بلکہ دنیا کے سامنے رسوا بھی ہونا پڑا۔ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے ۔ ہمارے فیصلہ ساز ادارے یہ کب سمجھیں گے؟ اور سچ کی طاقت کو کب تسلیم کریں گے؟

(طارق ابوالحسن کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر اور جیو نیوز سے وابستہ سینئر صحافی ہیں)