عرفان صدیقی کی گرفتاری - آصف محمود

اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کی ہدایت یہ ہے کہ آپ نے مکان کرائے پر دیا ہے تو جس شخص کو دیا ہے اس کے کوائف تھانے میں جمع کرائیں ۔ یہ اہتمام دہشت گردی کے خطرے کے تدارک کے تحت کیا گیا ہے ۔ اس ضمن میں چونکہ ابھی تک کوئی قانون نہیں بن سکا اور اس ضمن میں ایک مسودہ قانون عرصے سے قومی اسمبلی میں پڑا ہے لیکن اس کی منظوری نہیں ہو سکی اس لیے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 144 کے تحت مجسٹریٹ کے حکم کے تحت یہ ہدایت جاری گئی ۔ جب یہ ہدایت جاری ہوئی تب چودھری نثار علی خان وزیر داخلہ تھے ۔

یہاں ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ دو ماہ قبل انگریزی اخبار ڈان سے بات کرتے ہوئے ، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے کہا کہ چونکہ اس معاملے پر کوئی قانون سازی نہیں ہو سکی اس لیے تین سال سے اب اس انتظامی حکم پر عملدرآمد بھی نہیں کروایا جا رہا ۔ ان کے الفاظ تھے :
As there was no such law to implement the order, the practice was abandoned about three years ago
یہ بیان 18 مئی 2019 کے ڈان میں شائع ہوا ۔ گویا تین سال کے تعطل کے بعد مئی سے اس ہدایت پر پھر سے عمل شروع کیا گیا. اب سوال یہ ہے کہ ان دو ماہ میں کتنی گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں؟ اسلام آباد میں لاکھوں نہیں تو ہزاروں مالکان نے گھر کرائے پر دے رکھے ہوں گے سوال یہ ہے یہ واحد گرفتاری ہے یا کچھ اور لوگ بھی پکڑے گئے؟
اب آئیے اس نکتے کی طرف کہ اگر آپ کرایہ دار کے کوائف تھانے میں جمع نہیں کرواتے تو اس کی سزا کیا ہے؟

تعزیرات پاکستان کی دفعہ 188 کے تحت اس کی سزا ایک ماہ تک قید( ایک ماہ نہیں ، بلکہ ایک ماہ تک، یعنی ایک دن کی سزا بھی ہو سکتی ہے اور ایک ماہ کی بھی) اور دو سو روپے تک جرمانہ ہے ۔ ( دو سو روپے نہیں بلکہ دو سو روپے تک) ۔ یا یہ دونوں سزائیں ایک ساتھ بھی دی جا سکتی ہے ۔

اگر اس خلاف ورزی سے کسی کی جان خطرے میں پڑ گئی ہو تو سزا چھ ماہ تک قید اور ایک ہزار روپے تک جرمانہ ہو گی یا دونوں سزائیں اکٹھی بھی دی جا سکیں گی ۔ اگر اس جرم کی سزا اتنی سی ہے تو کیا لازم تھا ایک بوڑھے استاد کو رات گئے گرفتار کیا جائے اور ہتھ کڑی لگا کر پیش کیا جائے؟ عمران خان کو خیال رکھنا چاہیے کہ احتساب اور انتقام کے بیچ ایک باریک سی لائن ہوتی ہے ۔ پتا بھی نہیں چلتا وہ لائن کب روند ڈالی گئی ۔ لیکن جس یہ لائن روند دی جائے تو احتساب کی ساری معنویت غارت ہو جاتی ہے ۔ ماضی میں بھی احتساب ہوئے اور نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ سزا پا کر بھی وکٹری کے نشان بناتے نکلے ۔ عمران خان کا احتساب اخلاقی اعتبار سے معتبر ہونا چاہیے ۔ یہی خواہش ہے اور یہی درخواست ہے ۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.