سٹوڈنٹ ایک شاپر ہوتا ہے - سعدیہ مسعود

اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں ایم اے کے داخلے شروع تھے۔ میں نے ماس کمیونیکشن اور پولیٹیکل سائنس کے شعبہ جات میں کاغذات جمع کروائے۔ سوچا یہ تھا کہ میرٹ لسٹ میں نام آجانے کے بعد فیصلہ کریں گے کہ کس مضمون میں داخلہ لینا ہے (میرے جیسے نکموں کا واحد معیار)۔ ایک کزن پہلے سے ہی ایم اے ماس کمیونیکشن کے دوسرے سال میں تھے، ان کا خیال تھا کہ یہ میرے لیے بہترین مضمون ہوگا اور میں کون سا پڑھنے جا رہی ہوں، دو سال یونیورسٹی میں مزے ہی کرنے ہیں تو یہ ایسے مضامین ہوں گے جن میں بہت محنت بھی نہیں کرنا پڑے گی۔ پولیٹیکل سائنس مکمل طور پر انگلش میڈیم ہو گیا تھا تو میرے لیے زیادہ سوچنے والی بات زیادہ رہ بھی نہیں گئی تھی۔ طے یہ ہوا جس دن میریٹ لسٹ لگے گی، اسی دن یونیورسٹی جا کر بس فیس بھی بھر دی جائے گی۔

لسٹ دیکھنے کے لیے ہم سب سے پہلے پولیٹیکل سائنس ڈیپارٹمنٹ چلے گئے، کیونکہ یونیورسٹی بس سے اترنے کے بعد ماس کمیونیکشن ڈیپارٹمنٹ سے پہلے راستے میں پڑتا تھا۔ یونیورسٹی میں موجود چمکتے کھلکھلاتے چہروں سے میں مرعوب ہوئی جا رہی تھی۔ گیلریوں میں کھڑے لڑکے لڑکیاں ایسے دیکھتے تھے جیسے شکار کو دیکھتے ہوں۔ جیسے ہی پاس سے گزرتے مسکراہٹیں گہری ہوجاتیں، لگتا ابھی کوئی جملہ کسیں گے۔ یہ تو بھائی ساتھ تھا تو میری سانس چل رہی تھی، اپنی طرف سے شکل میں نے ایسے بنائی ہوئی تھی کہ جیسے میرا تو یہاں روز کا آنا جانا ہے۔ لیکن یہ آپ کایونیورسٹی یا کالج میں پہلا روز ہے، شکل پر ہی لکھا ہوتا ہے، بعد میں کئی بار میں نے خود دوسروں کی شکل پر پڑھا۔

شعبہ پولیٹکل سائنس کی گیلری میں داخل ہو ہی رہے تھے کہ بھائی کو کوئی جاننے والا مل گیا اور وہ اس سے بات کرنے لگے۔ گیلری کے کونے پر ایک کلاس روم کا دروازہ ذرا سا کھلا ہوا تھا۔ نیم دائرے میں کرسیوں پر کچھ لڑکے لڑکیاں نظر آئیں۔ اچانک ہی وہ سب کسی بات پر کھلکھلا کے ہنس دیے۔ مجھے اچھا بھی لگا اور تجسس بھی ہوا تو دروازے کے تھوڑا قریب ہو گئی۔ اندر سے ٹیچر کی آواز آ رہی تھی۔ وہ بہت روانی سے اور بہت خوبصورت لہجے میں انگلش بول رہے تھے۔ قریب ہو کر جھانکنے پر نظر آیا کہ ایک سوٹڈ بوٹڈ ٹیچر ہاتھ میں ایک کاغذ پکڑے بہت پرجوش ہو کر کچھ بول رہے تھے۔ میں سائیڈ سے دیکھ رہی تھی، وہ کندھے اچکاتے ہاتھ ہلاتے تیزی سے بات کرتے جاتے تھے اور سامنے بیٹھے سٹوڈنٹس ہنستے جاتے تھے۔ اچانک دروازہ کھلا اور وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتے گیلری میں آگے کہیں جا کر غائب ہوگئے۔ کمرے سے پانچ یا چھ لڑکے لڑکیاں برآمد ہوئے اور گیلری میں ہی سب آپس میں خوش گپیوں میں مصروف ہو گئے۔ ہم لوگ شعبے کے دفتر کی طرف بڑھ گئے۔

میرٹ لسٹ کے سامنے کافی لوگ جمع تھے، میں ذرا پیچھے ہی رہ گئی تھی۔ پانی کے کولر کے سامنے ایک پہچان والی لڑکی مل گئی۔ پتہ چلا اسی شعبہ میں ہی ہے، اس سے پوچھا کہ ابھی جو ٹیچر یہاں سے گزرے ہیں، ان کا کیا نام ہے؟ کہنے لگی وہ کالے سوٹ والے جو ابھی ڈی ایس ایس روم سے نکلے تھے؟ وہ تو خواجہ صاحب تھے۔ ڈی ایس ایس کا پوچھنے پر بتایا کہ ڈیفنس اینڈ سٹریٹیجک سٹڈیز، مگر یہ مضمون سب لوگ نہیں پڑھتے۔ ہے تو اختیاری مگر خواجہ صاحب کے خاص سٹوڈنٹ ہی یہ مضمون پڑھتے ہیں۔ خواجہ صاحب کا گروپ شعبے کے بہترین سٹوڈنٹ کا گروپ ہوتا ہے، سب سے نمایاں سب سے آگے رہنے والا۔ اور اس سال سر کا لاڈلا سٹوڈنٹ ہے طارق چوہدری، وہ دیکھو۔ ایک دْبلے پتلے لڑکے کی طرف اشارہ کر کے اس نے بتایا۔ دل میں ایک خواہش ابھری، کاش میں بھی ہو جاؤں سر کی لاڈلی سٹوڈنٹ۔

لسٹ میں میرا نام آگیا تھا اور اب ایک نظر ماس کمیونیکیشن کی لسٹ پر ڈالنا تھی۔ وہاں بھی میرا نام موجود تھا۔ ڈیپارٹمنٹ کے اس وقت کے چیئرمین ابو کے دوست بھی تھے۔ ابو نے ان سے ملنے کی تاکید کی تھی۔ ماس کمیونیکیشن کے شعبے میں مجھے ایک بات نمایاں لگ رہی تھی کہ سٹوڈنٹ زیادہ شوخ بلکہ سرائیکی محاورے کے مطابق شوخے تھے۔ یہاں آ کر مجھے پھر وہ عجیب سا خوف آیا جیسا یونیورسٹی آتے ہی محسوس ہوا تھا۔ مجھے یہ جگہ اچھی نہیں لگ رہی تھی۔ پولیٹکل سائنس میں ایک دو جانے پہچانے سٹوڈنٹ بھی ملے تھے اور خواجہ صاحب کا پڑھانے کا بہترین انداز یاد آ رہا تھا، میرا جھکاؤ اسی طرف ہو گیا۔

ہمیں نام بتانے پر فورا ہی چیئرمین آفس بلا لیا گیا۔ بڑے تپاک سے ملے۔ کہنے لگے بس فورا فیس جمع کراؤ، افضل مسعود کی بیٹی ہو، دیکھتا ہوں باپ والی کیا بات ہے تم میں؟ ذرا آؤ ناں یہاں سٹوڈنٹ بن کے۔ میرے منہ سے نکلا نہیں، میں آپ کی سٹوڈنٹ بن کر نہیں آ رہی۔ میں پولیٹیکل سائنس میں خواجہ صاحب کی سٹوڈنٹ بنوں گی۔ کہنے لگے لڑکی ابھی تیرے ابا نے فون کر کے میرٹ لسٹ کا پوچھا ہے، اور تمھارے آنے کا بتایا ہے، یہ کیا کہہ رہی ہو؟ کان کھول کر سن لو، میں تمھیں خواجہ کی سٹوڈنٹ نہیں بننے دوں گا۔ ان کے اس انداز پر میرا دماغ بھی گھوم گیا۔ یہ تب ہی طے ہوگیا کہ چاہے دنیا ادھر سے اْدھر ہوجائے، اب تو پولیٹکل سائنس ہی جانا ہے۔ بھائی اور چیئرمین صاحب نے بہت تعریفیں کی اپنے شعبے، اپنے ٹیچرز کی لیکن میں نے طے کر لیا کہ نہیں یہاں کبھی نہیں۔ وہاں سے نکلے بنک گئے، پولیٹیکل سائنس کے لیے فیس جمع کروائی اور گھر لوٹ گئے۔ ابو نے بس ایک بار کہا انگلش میں ہے، نہ کر سکی تو؟ میں نے کہا تو دو سال بعد پرائیوٹ کوئی اور ایم اے کر لوں گی ابو جی۔

یہ یونیورسٹی کا پہلا دن تھا۔ خواجہ صاحب نے مغربی سیاسی افکار پڑھانے آنا تھا۔ میں بہت خوش تھی۔ سر آئے، بات کرنا شروع کی اور اس کے بعد ایسا تھا کہ شاید آنکھوں کے ساتھ میرا منہ بھی تھوڑا سا کھل گیا ہوگا۔ وہ کلاس روم میں مسلسل چلتے ہوئے فراٹے دار انگریزی بول رہے تھے۔ میری نظر ان کے ساتھ پوری کلاس میں گھوم رہی تھی اور پھر سر بھی گھومنے لگا۔ سوچ رہی تھی یہ کیا کیا میں نے، کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا، کچھ بھی۔۔۔ یہ کیا کر ڈالا میں نے۔۔۔ کیوں آگئی یہاں؟ کتنا کہا تھا سب نے، کتنا سمجھایا تھا کہ میڈیم انگریزی ہے، تمھارے بس کی بات نہیں۔ اب کیا کروں گی؟ اب تو کہیں مائیگریشن بھی نہیں کروانے دیں گے ابو۔ او یار اس آدمی کو ترس کیوں نہیں آ رہا، کم سے کم سپیڈ ہی کم کردیں بولنے کی۔ دس منٹ گزر چکے ہوں گے۔ میں سمجھ چکی تھی کہ سعدیہ اب تیرا کچھ نہیں ہوسکتا۔ آنکھوں میں نمی تیر رہی تھی۔ سامنے نظر اٹھائی تو کلاس کا ہر لڑکا لڑکی بڑے زور و شور سے ایسے سر ہلا رہے تھے کہ جیسے سر کا بولا گیا ہر لفظ ان کو سمجھ آ رہا ہے بلکہ وہ من و عن ان کی بات پر ایمان لاتے جا رہے ہیں۔ میں کافی مرعوب ہوگئی۔ ایک بار پھر متوجہ ہوئی، یہ سوچتے ہوئے کہ یہ سب طلبہ میرے جیسے ہی لگ رہے ہیں، انہیں سمجھ آ رہا ہے تو مجھے بھی آ جائے گا۔ توجہ سے سنا تو خود سے کہا سعدی بس غور سے سن، سمجھ آ ہی رہا ہے کچھ نہ کچھ۔ باتیں بھی کوئی ایسی مشکل نہیں، یہ تو پہلے پڑھ ہی چکے ہیں۔ سر بتا رہے تھے کہ افلاطون کی مثالی ریاست کو یوٹوپیئن ڈریم کیوں کہا جاتا ہے؟ اس کے نزدیک مثالی ریاست ہے کیا؟ افلاطون کی سیاسی افکار کے بارے میں ہم کیا کیا پڑھیں گے؟ وغیرہ۔

ارے سعدیہ! ایسے ہی الو بن گئی تھیں۔ انگریزی فلمیں دیکھنے کا تو تجربہ ہے، ایسا لہجہ لائیو نہیں سنا ہوا، باقی تو کوئی مشکل نہیں۔ چلو شاباش، سانس لو، سانس لو۔ یہ سوچتے ہوئے میں نے ان کی بات سننا شروع کی تو مزہ آنے لگا۔ وہ انگریزی بولتے ہوئے اردو، پنجابی اور سرائیکی کے الفاظ بھی سمجھانے کے لیے استعمال کر رہے تھے، جس کی وجہ سے مسکراتے مسکراتے ان کی کہی گئی بات بہتر طورپر سمجھ آنے لگی۔ بات کرتے کرتے اچانک وہ میرے قریب آ کر بولے : مے یو ہیو اینی ڈریم ان لائف (May you have any dream in life) مری مری آواز میں میرے منہ سے نکلا : مینی (Many)، سر توجیسے خوشی سے اچھل ہی پڑے۔ بولے، شکر ہے اس کلاس میں کوئی ایسا انسان بھی ہے جس کے خواب ہیں۔ ٹھیک ہے تو پھر کل تم نے اپنے خواب بتانے ہیں مجھے۔ یہ سوچ کر کہ سر کو یہ اچھا لگا ہے کہ میرے کوئی خواب بھی ہیں، میں ایسے اکڑ گئی کہ جیسے بیس اکیس لوگوں کی کلاس میں ایک میں ہی تو ہوں بس ’’خاص‘‘۔ بعد میں سمجھ آئی کہ یہ سر خواجہ کا انداز تھا، طلبہ میں اعتماد پیدا کرنے کا۔

ایک دن کلاس میں آتے ہی سب سے پوچھنے لگے آپ کی پسندیدہ فلم کون سی ہے؟ ہم سب اپنی اپنی پسند بتا رہے تھے۔ ایک لڑکی نے بتایا کہ اس کی آل ٹائم فیورٹ ہے ''دل والے دلہنیا لے جائیں گے''۔ وہ کبھی کبھار کلاس میں بولنے والی لڑکی تھی۔ سر اس کے پاس ہی چلے گئے۔ بولے ہاں! میری بھی یہ فیورٹ ہے، اچھا اس میں تمھیں سب سے زیادہ کیا پسند ہے؟ اس نے بتایا کہ اس کے گانے۔ بولے ہاں ہاں مجھے بھی گانے سب سے زیادہ پسند ہیں۔ مزید دو چار منٹ اس کے ساتھ دوستانہ انداز میں باتیں کرتے رہے۔ وہ لڑکی بہت خوشی خوشی بات کرتی رہی۔ اچانک سر روسڑم کے پاس پہنچے اور پوچھا کیا سب نے دیکھی ہے دل والے؟ سب نے ہم آواز ہو کر جوش سے کہا، یس سر! کافی اعتماد جو آگیا تھا کہ ہم سب نے وہ فلم دیکھ رکھی ہے جو سر کو بھی پسند ہے۔ لیکن اگلے ہی لمحے سب کی مسکراہٹیں غائب ہوگئیں جب سر نے پوچھا اس کا ڈائریکٹر کون ہے؟ دو تین لوگوں نے جواب دے دیا۔ پروڈیوسر کون ہے؟ رائٹر کون ہے؟ میوزک کس کا ہے؟ کب ریلیز ہوئی؟ کتنا بزنس کیا؟ دنیا میں اور کہاں ریلیز ہوئی؟ کتنا بجٹ تھا؟ سوالوں کی لائن تھی لیکن جواب خاصی دیر پہلے آنا بند ہوچکے تھے۔ ہم سب کی ہوائیاں اْڑ رہی تھیں۔ بڑے اطمینان سے بولے بس یہ قومی عادت ہے آپ سب سٹوڈنٹس کی۔ صرف اتنا کریں کہ جس بھی دنیا کی چیز میں آپ کو دلچسپی ہے، اس کے بارے میں پوری معلومات رکھیں، چاہے وہ کوئی فلم ہے، کوئی ایکٹر ہے، ملک یا دنیا کی کوئی بھی چیز ہے۔ یہ عادت آپ کو بہترین ٹاپ کلاس انسان بننے میں مدد دے گی۔

ہوسٹل اور یونیورسٹی کے باقی معاملات آہستہ آہستہ بہتر ہو رہے تھے۔ اساتذہ کا دوستانہ رویہ پہلی بار زندگی میں نصیب ہوا تھا اور اسی لیے اس بار پڑھنے کے لیے میں تیار تھی۔ خواجہ صاحب کے پڑھانے کا انداز مجھے سب سے دلچسپ لگتا۔ بات شروع کرتے اور ایسی مثال دیتے جو سامنے کی بات ہوتی اور جب پوری تصویر واضح ہوجاتی تو اسے اپنے اس دن کے لیکچر سے جوڑ دیتے۔ یہ ساری بْنت بورڈ پر ڈرا ہوتی۔ بہت سے طلبہ شکایت کرتے کہ وہ اپنے موضوع سے ہٹ جاتے ہیں، جبکہ ایسا بالکل بھی نہیں تھا، صرف ان کا پڑھانے کا انداز جدا تھا۔ اگر توجہ واقعی ہی لیکچر پر ہے تو آپ ہر کڑی کو ملا سکتے تھے۔ کلاس کے دوران نوٹس لیتے رہنا میری عادت تھی، یہ طریقہ خود کو جگائے رکھنے میں بھی کارگر ثابت ہوتا تھا۔ خواجہ صاحب کے چھوٹے چھوٹے دلچسپ جملے میں نوٹ بک پر الگ حاشیہ لگا کر لکھا کرتی تھی۔ میرے پاس وہ نوٹس محفوظ ہیں اور کچھ اس طرح کے جملے درج ہیں

’فوجی ہمارے چِٹے بیٹے ہوتے ہیں‘ اس کی وضاحت کچھ یوں کی تھی انہوں نے کہ ہمارے ہاں عام گھرانوں میں اگر کوئی بیٹا گورا نکل آئے تو وہ سب کا لاڈلا ہوتا ہے۔ اس کو سالن میں بڑی بوٹی نکال کے دی جاتی ہے تو اسی طرح فوجی ہمارے چِٹے بیٹے ہوتے ہیں۔ ’ویت نام میں امریکہ کو بْجے لگے تھے۔‘ سرائیکی میں بُجے سے مراد طمانچہ سمجھ لیں، اگرچہ جو مزا بُجہ لفظ سننے میں ہے، وہ اس میں نہیں۔ ’افغانستان سے بھی امریکہ کَھلے(جوتے) کھا کے ہی نکلے گا۔‘ ’َاقبال کی شاعری عشکییٹک نہیں ہے۔‘ ’َکشمیر کی وجہ سے انڈیا کے پیٹ میں وٹ (بل) پڑتے رہتے ہیں۔‘

سیاسیات کی اصطلاحات سکھانے کا ان کا انداز کمال تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اصطلاحات کو بولنا ہے، برتنا ہے۔ آپ جب بھی بولیں تو جیسے اردو ادب یا انگریزی ادب کے لوگ اپنی زبان سے پہچانے جاتے ہیں، سیاسیات کے طلبہ کو بھی اسی طرح اپنی زبان و اسلوب سے پہچانا جانا چاہیے۔ آپس میں جب بات کریں تو سیاسیات کی زبان میں بات کریں۔ نتیجہ یہ تھا کہ کلاس میں کچھ اختلاف ہوا، معاملہ چیئر پرسن تک پہنچا۔ وہاں اپنے گروپ کی نمائندگی کرتے ہوئے میری دوست آصفہ کچھ اس طرح سے بولی: ’’میڈم! ہوا یہ کہ یہ کولڈ وار تو کئی دنوں سے چل رہی تھی، یہ لوگ پورے میکاولی بنے ہوئے ہوئے ہیں، ان کے گروپ میں زیادہ لوگ ہیں تو اس کا مطلب ان کی برتری نہیں کہ تول میں یہ ہلکے ہیں۔ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے میں اور سعدیہ ہی کافی ہیں۔ بیلنس آف پاور اور ڈیٹرنس جب تک رہا تب تک یہ مسئلہ آپ تک نہیں پہنچا۔ یہ لوگ ہمیشہ ہمارے لیے پروبلومیٹک بنے رہے ہیں۔ اب ’دیتاں‘ آپ کی وجہ سے ممکن ہے ورنہ ہم اس کے لیے تیار نہیں۔‘‘ (شاید پڑھنے والوں کو یہ پولیٹیکل زبان مذاق لگ رہی ہو، مگر اس زمانے میں ہم ایسے ہی بولا کرتے تھے۔)

بی ہیورل سائنس کیا ہے؟ ہم نے کچھ ایسے سمجھا کہ ایک روز کلاس میں سر نے کہا، ’’اگر کسی روز میں کلاس میں آتے ہی سعدیہ کو تھپڑ لگا دوں اور وہ اس دن خوشگوار موڈ میں ہوئی تو شاید ہنس دے اور پوچھے کہ سر خیر ہے کیا ہوا، آپ نے مجھے تھپڑ کیوں لگا دیا؟ یا پہلے سے کسی پریشانی میں ہوئی تو ہو سکتا ہے کہ رونا ہی شروع کر دے۔ غصے میں بیٹھی ہو تو یہ بھی عین ممکن ہے کہ جوابی تھپڑ رسید کر ڈالے؟ تو ایک لمحہ کو سوچیے، یہ میرے مارے گئے تھپڑ پر الگ الگ رد عمل ہیں۔ ان میں سے کچھ بھی ممکن ہے۔ جو بھی رد عمل سامنے آئے، اس کی وجہ بھی الگ ہے۔ تو تھپڑ کے الگ الگ ردعمل کو سمجھنے کے لیے اس کی وجوہات سمجھنی ہوں گی۔ رو دینا یا ہنس دینا دونوں ہی ممکن ہیں۔ تو ابھی کا جو رد عمل ہے اس کی اصل وجہ کیا ہے۔ ہم سوشل سائنس کے طالب علم ہیں، ہم انسان کا مطالعہ کرتے ہیں اور انسان کا رویہ ایک ہی چیز کے لیے ہر بار مختلف ہو سکتا ہے۔ ہم ہاٹ سائنسز کی طرح ہر بار ایک ہی نتیجہ پر مشکل سے پہنچ پائیں گے۔ ‘‘

مثال میں چونکہ تھپڑ مجھے لگا تھا، اس لیے میں بہت توجہ سے یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ میرے منہ سے نکلا، سر پھر پولیٹکل سائنس، سائنس کیسے ہوئی؟ سر جلدی سے روسٹرم کی طرف بڑھے اور دراز کے نیچے ہاتھ ڈالا جیسے کچھ ڈھونڈ رہے ہوں۔ اپنی عینک کے اوپر سے دیکھتے ہوئے مخصوص انداز میں بولے، استاد کے پاس ہمیشہ ایک پسٹل ہونا چاہیے اور اس کے بعد اپنے دونوں ہاتھوں سے وہ خیالی پستول کو تھامے میری طرف نشانہ لے چکے تھے۔ مجھ سمیت پوری کلاس حیرت کے مارے منہ کھولے بیٹھی تھی کہ غصہ وہ بھی اتنا، آخر کیوں؟ سوال ایسا نامعقول بھی نہیں تھا۔ میری آنکھیں آنسوؤں کی وجہ سے دھندلی ہوچکی تھیں۔ سر کے پستول کا نشانہ ابھی تک میری طرف تھا۔ بولے پستول اس وجہ سے ہونا چاہیے کہ اگر اب بھی یہ سوال کلاس کی طرف سے نہیں آتا تو استاد کو بےدریغ گولی مار دینے کا حق ہو۔ واپس مڑے اور حاضری شیٹ اٹھائے یہ جا وہ جا۔

کوئی کچھ سمجھ نہیں پایا۔ یہ آخر میں ہوا کیا؟ میرے کیونکہ آنسو نہیں تھم رہے تھے، اوپر سے کچھ نظریں ایسی تھیں کہ کتنی بے وقوف ہے، اس کو یہ بھی نہیں پتہ ؟یہ بھی کوئی سوال ہے؟ نری جاہل ہی ہے۔ میری جگری دوست سے رہا نہ گیا۔ کھینچ کے خواجہ صاحب کے آفس لے گئی۔ ابھی دروازے تک ہی پہنچے تھے کہ سر نے بولا جلدی اندر آؤ۔ مجھے لگا ابھی اصلی پستول نکال لیں گے، چلا نہ گیا، تقریبا دھکیل کہ دوست نے اندر پہنچایا۔ میں نظر نہیں اْٹھا رہی تھی۔ دوست نے ہی ہمت کی، پوچھا کہ سر وہ ہم پوچھنے آئے تھے کہ اگر رزلٹ ہاٹ سائنس جیسے نہیں آئیں گے تو ہمارا سبجیکٹ سائنس کیسے ہوگا؟ اطمینان سے بولے یہ ہی تو اگلا ٹاپک ہوگا۔ میں نے بہت ہمت کر کے شکوہ کرتے ہوئے پوچھا تو سر اس میں گولی مارنے والی کیا بات تھی؟ زور سے قہقہہ لگایا۔ بولے، بے وقوف یہ سوال اگر کوئی بھی کلاس میں نہ کرتا تو گولی مارتا ناں۔ بات نہیں سمجھتے ہوئے دوست نے اور میں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ بولے، تم نے غور نہیں کیا؟ میں نے اس وقت بولا تھا کہ سوال نہ آتا تب گولی مارتا۔ اس پر ہم کچھ سمجھے، کچھ اس وقت بھی نہ سمجھے۔ سر پوچھنے لگے تم دونوں بھاگے اس لیے آئے تھے کہ بے عزتی محسوس ہوئی ہوگی؟ میری بات غور سے سنو، سٹوڈنٹ ایک ’شاپر‘ کی طرح ہوتا ہے۔ اس میں پانی ڈالیں تو نکلتا نہیں۔ جب بھی کسی استاد کے ہاتھوں بےعزتی محسوس کرو تو سمجھ لینا کہ اس استاد کو تمھاری پروا ہے، استاد کی کسی بات، ڈانٹ کا تم پر اس طرح کا اثر نہیں ہونا چاہیے۔

اس دن ہم نے ہوسٹل کے روم میں ایک رنگین چارٹ لگایا جس پر لکھا تھا ’’سٹوڈنٹ ایک شاپر ہوتا ہے‘‘۔ اور الحمداللہ اس کے بعد سے اب تک خود کو ایک بہترین شاپر بنانے کی کوشش کی۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com