پاکستانی سربراہان کے امریکی دوروں کی تاریخ پر ایک نظر

قیام پاکستان سے اب تک پاکستان کے سربراہان کی طرف سے امریکہ کے درجنوں دورے کیے جا چکے ہیں جن سے امریکہ پاکستان تعلقات میں اتار چڑھاؤ کی صورت حال کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

پاکستانی سربرہان کی طرف سے امریکہ کے سرکاری دوروں کی ابتدا 1950ء میں ہوئی جب پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان اس وقت کے امریکی صدر ہیری ٹرومین کی دعوت پر خاتون اول بیگم رعنا لیاقت علی خان کے ہمراہ 3 مئی کو تین روزہ دورے پر واشنگٹن پہنچے۔ صدر ٹرومین نے اس دورے کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہوئے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو واشنگٹن لانے کے لیے اپنا خصوصی طیارہ ’’دی انڈی پینڈنس‘‘ لندن بھیجا۔ واشنگٹن پہنچنے پر صدر ٹرومین نے اپنی کابینہ کے تمام ارکان کے ہمراہ واشنگٹن کے ہوائی اڈے پر ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ ​لیاقت علی خان کے دورے کے موقع پر ان کے اعزاز میں نیویارک میں ایک پریڈ کا اہتمام کیا گیا۔ انہیں کولمبیا یونیورسٹی کی جانب سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری بھی عطا کی گئی۔ اس موقع پر لیاقت علی خان نے امریکہ کے ایوان نمائندگان سے بھی خطاب کیا۔

پاکستانی وزیرِ اعظم لیاقت علی خان امریکی صدر ہیری ٹرومین سے مصافحہ کر رہے ہیں۔ 3 مئی 1950

اگرچہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم کا دورہ امریکہ انتہائی کامیاب تھا، لیکن پاکستان کے بہت سے حلقوں کی جانب سے اس پر تنقید بھی کی گئی تھی کہ انہوں نے سوویت یونین کی دعوت کو ٹھکراتے ہوئے امریکہ کا انتخاب کیا۔ لیاقت علی خان کے اس دورے نے امریکہ اور پاکستان کے درمیان خصوصی اور قریبی تعلقات کی بنیاد رکھ دی اور ان تعلقات کی گرمجوشی سرد جنگ کے خاتمے تک برقرار رہی۔

لیاقت علی خان کے بعد امریکہ کا دورہ کرنے والے دوسرے لیڈر گورنر جنرل غلام محمد تھے جنہوں نے علاج کی غرض سے 8 سے 13 نومبر، 1953 کو امریکہ کا دورہ کیا۔ وہ زیادہ تر علاج کی غرض سے میساچیوسٹس ریاست کے شہر باسٹن میں مقیم رہے۔ تاہم دورے کے دوران واشنگٹن میں ان کی اس وقت کے امریکی صدر آئزن ہاور سے باضابطہ ملاقات ہوئی۔

امریکہ کا سرکاری دورہ کرنے والے تیسرے پاکستانی رہنما وزیر اعظم محمد علی بوگرہ تھے جنہوں نے اکتوبر 1954 میں امریکہ کا دورہ کیا۔ ان کے بعد وزیر اعظم حسین شہید سہروردی جولائی 1957 میں سرکاری دورے پر امریکہ آئے۔ امریکی صدر اور دیگر رہنماؤں سے دو طرفہ ملاقاتوں کے بعد انہوں نے نجی حیثیت میں چند روز امریکہ میں گزارے۔ اس دوران انہوں نے کولوراڈو، ایری زونا، لاس انیجلس، سان فرانسسکو، یوٹا، نبراسکا، ڈیٹرائٹ اور نیویارک کی سیاحت کی۔

ان کے بعد امریکہ کا دورہ کرنے والے پاکستانی سربراہ صدر جنرل ایوب خان تھے۔ ان کا دورہ بہت سی وجوہات کے باعث غیر معمولی اہمیت کا حامل رہا۔ جب وہ 11 جولائی، 1961 کو چار روزہ دورے پر اپنی بیٹی نسیم اورنگزیب کے ہمراہ واشنگٹن کے ہوائی اڈے پر اترے تو اس وقت کے امریکی صدر جان ایف کینڈی نے مکمل فوجی اور سول اعزاز کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔

ایوب خان کے لیے روایت سے ہٹ کر امریکہ کے پہلے صدر جارج واشنگٹن کی ماؤنٹ ورنن میں یادگاری رہائش گاہ پر سرکاری ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔ صدر ایوب کو اس دورے کے دوران جس قدر پذیرائی ملی وہ نیچے دیے گئے ویڈیو کلپ میں دیکھی جا سکتی ہے۔

صدر ایوب خان کے اس دورے سے پاکستانی معیشت اور دفاع کے لیے امریکی تعاون میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔ اس دورے کے بعد صدر ایوب خان نے ستمبر 1962 اور دسمبر 1965 میں بھی امریکہ کا سرکاری دورہ کیا۔

ایوب خان کا اقتدار ختم ہوا تو جنرل یحییٰ خان اقتدار میں آئے۔ انہوں نے اکتوبر 1970ء میں ایسے مشکل حالات میں امریکہ کا سرکاری دورہ کیا جب مشرقی پاکستان میں علیحدگی کی تحریک زور پکڑ چکی تھی۔ جنرل یحییٰ خان کے اعزاز میں وائٹ ہاؤس میں پرتکلف ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔ انہوں نے اس وقت کے صدر رچرڈ نکسن کے ساتھ ون آن ون ملاقات بھی کی۔

یہ بھی پڑھیں:   خبردار، ہوشیار - حامد میر

یحییٰ خان نے ملک دو لخت ہونے کے بعد اقتدار پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے کیا جو پہلے ملک کے صدر اور پھر وزیر اعظم رہے۔ انہوں نے دو مرتبہ امریکہ کا سرکاری دورہ کیا۔

ان کا پہلا دورہ امریکہ 1973ء میں ہوا جب وہ اس وقت کے صدر نکسن کی دعوت پر 18 ستمبر کو امریکہ پہنچے۔ اس دورے میں انہوں نے امریکہ سے پاکستان کو دفاعی ساز و سامان کی فراہمی دوبارہ شروع کرنے کے لیے کہا لیکن امریکہ کی جانب سے اس بارے میں کوئی خاص حمایت نہ مل سکی۔ بھٹو دوسری بار فروری 1975ء میں سرکاری دورے پر امریکہ پہنچے۔

ذوالفقار علی بھٹو کے بعد صدر جنرل ضیاءالحق نے اپنے لگ بھگ دس سالہ دور اقتدار میں امریکہ کا تین بار سرکاری دورہ کیا۔ سب سے پہلے وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے لیے اکتوبر 1980ء میں امریکہ آئے۔ یہ دورہ نجی حیثیت میں کیا گیا۔

اس کے دو برس بعد جنرل ضیا ءالحق دسمبر 1982 میں تین روزہ سرکاری دورے پر واشنگٹن پہنچے۔ اس وقت کے امریکی صدر سے ملاقاتوں میں پاکستان کا مجوزہ جوہری پروگرام سر فہرست رہا۔ اس دوران وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں دونوں صدور کے درمیان پہلے 20 منٹ تک تنہا ملاقات ہوئی جس کے بعد دونوں جانب سے وفود بھی ملاقات میں شامل ہو گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس ملاقات میں صدر ریگن نے صدر ضیاءالحق کو بتایا کہ پاکستان کے مجوزہ جوہری پروگرام کی وجہ سے انہیں پاکستان کے لیے 3.2 ارب ڈالر کے اقتصادی اور فوجی امداد کے پیکج کو کانگریس سے منظور کرانے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ صدر ریگن نے افغانستان پر سوویت حملے کے بعد کی صورت حال سے نمٹنے کی خاطر اس امدادی پیکیج کی پیشکش کی تھی۔

تین برس بعد ضیاءالحق نے اکتوبر 1985ٰء میں ایک بار پھر امریکہ کا سرکاری دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران صدر ضیاءالحق اور صدر ریگن کے درمیان ملاقات نیویارک میں ہوئی۔

صدر ضیاءالحق کے دور میں وزیراعظم محمد خان جونیجو بھی جولائی 1986 میں تین روزہ دورے پر واشنگٹن آئے۔ اس موقع پر وائٹ ہاؤس کے ساؤتھ لان میں ہونے والی خصوصی استقبالیہ تقریب میں امریکی صدر ریگن نے وزیر اعظم محمد خان جونیجو کے خیرمقدم کے دوران پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے دورہ امریکہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں جونیجو کا یہ دورہ لیاقت علی خان کے دورے کی یاد دلاتا ہے۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں امریکہ پاکستان تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

بے نظیر بھٹو دو مرتبہ پاکستان کی وزیر اعظم بنیں۔ انہوں نے اپنے دونوں ادوار میں ایک ایک مرتبہ امریکہ کا سرکاری دورہ کیا۔ پہلے وہ جون 1989 میں اس وقت کے امریکی صدر جارج بش کی دعوت پر تین روزہ دورے پر واشنگٹن آئیں۔ اس موقع پر بے نظیر نے کہا کہ وہ امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر چکی ہیں جبکہ جارج بش نے ییل یونیورسٹی سے اپنی تعلیم مکمل کی۔ یہ دونوں امریکہ کی معروف ترین یونیورسٹیاں ہیں۔ صدر بش اور پینٹاگان کے لیڈروں سے ملاقاتوں میں بے نظیر بھٹو نے پاکستان کے مجوزہ جوہری پروگرام کی وجہ سے عائد پابندیوں کو ہٹانے کے لیے کوششیں کی۔

ان کا دوسرا سرکاری دورہ اپریل 1995 میں ہوا جس میں انہوں نے اس وقت کے امریکی صدر بل کلنٹن کے ساتھ ملاقاتیں کیں جن میں پاکستان سمیت جنوبی ایشیا میں سیکورٹی کی صورت حال اور پاکستان بھارت تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس سے قبل سابق صدر فاروق لغاری نے بھی مئی 1994 میں واشنگٹن کا دورہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   اور آپشنز، بس ایک ہی آپشن ہے - پروفیسر جمیل چودھری

میاں محمد نواز شریف تین مرتبہ پاکستان کی وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے۔ اپنے ادوار کے دوران انہوں نے امریکہ کے تین سرکاری اور تین ہی نجی دورے کیے۔ تاہم تمام دوروں کے دوران ان کی امریکی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔

ان کے پہلے دو دورے ستمبر 1997 اور پھر اگلے برس اسی ماہ کے دوران ہوئے جب وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے لیے نیویارک آئے۔ ان دونوں مواقع پر انہوں نے امریکی صدر بل کلنٹن سے بھی ملاقاتیں کیں۔ یکم دسمبر، 1998 کو نواز شریف ایک دفعہ پھر واشنگٹن پہنچے۔ اس دورے کو سرکاری ورکنگ دورہ کہا گیا۔ اس دورے میں انہوں نے وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صدر بل کلنٹن سے ملاقات کی۔

نواز شریف نے جولائی 1999 میں ایک مرتبہ پھر واشنگٹن کا دورہ کیا۔ اس دورے کو نجی دورہ تصور کیا گیا۔ نواز شریف نے تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننے کے بعد اکتوبر 2013 اور اکتوبر 2015 میں بھی واشنگٹن کے سرکاری دورے کیے جنہیں ایک مرتبہ پھر سرکاری ورکنگ دورہ کہا گیا۔

جنرل پرویز مشرف نے اپنے دس سالہ دور اقتدار کے دوران امریکہ کے 9 سرکاری دورے کیے۔ یوں وہ امریکہ کے سب سے زیادہ دورے کرنے والے پاکستانی سربراہ تھے۔ یہ دورے 2001 ، 2002 ، 2003 ، 2004 اور 2006 میں کیے گئے۔ پرویز مشرف کے دور میں ان کے امریکی صدر جارج بش کے ساتھ قریبی روابط قائم ہو گئے تھے اور اس دوران پاکستان کو امریکہ کا خطیر اقتصادی اور دفاعی تعاون حاصل ہوا۔ ان کے دور میں وزیر اعظم شوکت عزیز بھی 2006 میں واشنگٹن آئے۔ ان کا دورہ بھی ورکنگ وزٹ کہلایا۔

جولائی 2008 میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی بھی ایک ورکنگ وزٹ پر امریکہ آئے۔ انہوں نے اپریل 2010 میں بھی امریکہ یاترا کی۔

سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنی مدت صدارت کے دوران پانچ مرتبہ امریکہ کا دورہ کیا۔ ستمبر 2008 میں جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران انہوں نے نیویارک میں صدر بش سے ملاقات کی۔ مئی 2009 میں انہوں نے واشنگٹن کا ورکنگ وزٹ کیا۔

اسی سال ستمبر میں وہ ایک دفعہ پھر امریکہ آئے اور پھر جنوری 2011 میں وہ افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے رچرڈ ہالبروک کے انتقال پر ان کی آخری رسومات میں شرکت کی غرض سے واشنگٹن آئے۔ زرداری کا آخری دورہ امریکہ مئی 2012 میں ہوا جب انہوں نے شکاگو میں نیٹو سربراہ اجلاس میں شرکت کی اور بعد ازاں صدر براک اوباما سے ملاقات کی۔

اب پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان صدر ٹرمپ کی دعوت پر اتوار سے امریکہ کا تین روزہ دورہ کر رہے ہیں۔ عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد صدر ٹرمپ کی طرف سے پاکستان کے بارے میں سخت ٹویٹس کے باعث ٹویٹر پر دونوں راہنماؤں کی نوک جھونگ کی گونج بھی محسوس کی گئی۔ یوں اگرچہ بہت سے حلقے اس دورے کے بارے میں ملے جلے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں، لیکن بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں کی شخصیت کو دیکھتے ہوئے اس بات کا بھی امکان موجود ہے کہ اس سربراہ ملاقات کے دوران امریکہ پاکستان تعلقات کو از سر نو مرتب کیا جا سکتا ہے۔