گھروں میں سکون کا نسخہ.. خاوند کو گھر سے نکال دیجیے - محمود فیاض

ایک دوست سے برسوں بعد ملاقات ہوئی۔ بہت سی باتیں ہوئیں مگر اس نے اپنی ازدواجی زندگی سے متعلق زرا بھی "لطیفہ سازی" نہیں کی۔ تجسس ہوا کہ کیا ہے اسکی اچھی زندگی کا راز؟ یونہی کئژوئلی پوچھا، بھابھی کیسی ہیں؟ تمہاری شادی تو کزن میرج نہیں تھی؟ ہاں یار، سب اچھا ہے، بہت خیال رکھتی ہے میرا، جواب الٹا تھا۔ میں تو سوچ رہا تھا کہ ابھی شکایات کا پلندہ کھل جائیگا۔

بے تکلفی کا مارجن لیتے ہوئے پوچھا، پھر بھی کبھی کبھی تو توتکار ہو ہی جاتی ہوگی، نارمل ہے، ہوتا ہے۔ ۔ ۔ ہاں، ہو جاتی ہے۔ اس نے کہا تو میری جان میں جان آئی، ورنہ برسوں سے کی گئی ریسرچ خاک میں مل جاتی، میں نے سکھ کا سانس لیا۔ مگر اس کا لہجہ شکائتی نہیں تھا۔
کہنے لگا، تم تو جانتے ہو مجھے میل جول، پارٹیوں کا بہت شوق ہے۔ شروع سے میں باہر رہنے والا بندہ تھا۔ ابھی بھی میری بہت سی ممبر شپ ہیں۔ مگر جیسے جیسے بچے، جاب اور دیگر مصروفیات بڑھتی گئیں اب ان چیزوں کے لیے وقت بہت کم رہ جاتا ہے۔ جاب اور گھر ، گھر اور جاب، ہفتہ مہینہ کیسے گذرتا ہے پتہ ہی نہیں چلتا۔ ۔ ۔ میں خاموشی سے سن رہا تھا، کوئی بات آنے والی ہے، دل میں سوچ رہا تھا۔ تو جب کچھ زیادہ وقت گذر جاتا ہے ایسی مصروفیات میں تو میں چڑچڑا ہو جاتا ہوں۔ اچھا مزے کی بات ہے مجھے پتہ نہیں چلتا تھا پہلے، میری بیوی کو چل جاتا تھا۔ وہ پھر خود ہی مجھے مشورے دیتی تھی، کہ جائیں فلاں دوست سے مل آئیں، فلاں جگہ گئے آپ کو زیادہ وقت ہو گیا ہے، چکر لگا آئیں۔ کافی عرصے بعد بیوی نے بتایا کہ وہ ایسا کیوں کرتی ہے، ہا ہا ہا ہا ۔ ۔ ۔ کزن جو ہوئی، میری بچپن کی عادتیں جانتی ہے شائد۔
میں نے بھی سوچا ٹھیک ہے کزن جو ہوئی، کوئی دوسری کو کیا سمجھ ۔ خاوند کی عادتیں جاننے میں برسوں گذر ہی جاتے ہیں۔

یہ قصہ ختم سمجھئے، اگلے روز امریکہ کی ایک مشہور کاروباری خاتون (میری فارلیو نہیں، کوئی اور) کا انٹرویو دیکھ رہا تھا۔ اسکے سات بچے ہیں، شوہر اور وہ مل کر پراپرٹی اور گھروں کی مرمت و آرائش کا برانڈ چلاتے ہیں، کافی کامیاب اور مشہور ہیں، ایک اپنا رئیلٹی شو بھی ہوسٹ کرتے ہیں۔ اور نیویارک جیسے مہنگے اور مصروف ترین شہر میں رہتے ہیں۔ اس خاتون سے سوال پوچھا کہ میاں بیوی، اور سات بچے، کیسے گذارا ہوتا ہے۔ اس نے دو بنیادی باتیں کیں، ایک آج بتاؤنگا۔ اس نے کہا کہ برسوں ساتھ رہنے ، ساتھ کام کرنے اور پھر بھی خوش رہنے کی وجہ یہ ہے کہ ہم کچھ دن بعد ایک دوسرے کو وقفہ دیتے ہیں۔ وہ اپنے دوستوں اور رشتے داروں کے ساتھ وقت گذارنے جاتا ہے اور میں اپنے۔ ۔ ۔ ۔ اس نے مزید تفصیل بیان کی کہ ساتھ رہتے ہوئے جب ہمارے درمیاں اختلاف زیادہ ہونے لگے تو ہمیں اندازہ ہو جاتا ہے کہ اب ہم ایک دوسرے کی کمپنی مزید برداشت نہیں کر سکتے، تو ہم ہنسی خوشی کچھ روز کے لیے یا کم از کم ویک اینڈ کے لیے الگ ہو جاتے ہیں۔ اس کے بےشمار فائدے ہیں۔ چلئیے یہ بھی نیویارک کا قصہ تھا، کافر ملک ہے، مسلمان ملک میں آ جائیے۔
عرب ملکوں میں ایک رواج (جس کو میں برسوں پدرسری معاشرے کی برائی، اور مرد و عورت پر پردے وغیرہ کی بےجا سختیوں کا حصہ سمجھتا رہا) یہ ہے کہ وہ ہر دوسرے چوتھے ہفتے صحرا میں ایک محفل بپا کرتے ہیں۔ جس میں دو خیمے لگ جاتے ہیں۔ ایک خیمے میں خواتین اور دوسرے خیمے میں مرد حضرات محفل لگا لیتے ہیں۔ ساری رات خواتین اپنی دوستوں اور مرد اپنے دوستوں کے ساتھ گپیں، ڈانس، ہلہ گلا، کھانا پینا کرتے ہیں۔ اور فجر کے وقت واپس آ جاتے ہیں۔

ایک عربی دوست ہی کی زبانی، ایسی محفلیں انکے لیے اینٹی ڈیپریسنٹ کا کام کرتی ہیں۔
ان تین مختلف معاشروں کی مثالوں سے میں تو ایک ہی بات سمجھ پایا ہوں کہ دنیا میں کوئی بھی رشتہ کتنا ہی پیارا اور ضروری کیوں نہ ہو، اسکو سانس لینے، وقفہ رکھنے اور کبھی کبھار اس رشتے سے دور وقت گذارنے کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔
ہمارے یہاں خواتین میں ایک رویہ یہ پایا جاتا ہے کہ وہ سمجھتی ہیں کہ جیسے ہی انکا خاوند باہر کہیں دوستوں سے ملنے جا رہا ہے تو وہ وقت ضائع ہو رہا ہے۔ اس وقت پر بھی انکا اور بچوں کا حق ہے۔ وہ ایسا اس لیے بھی سمجھنے میں آسانی محسوس کرتی ہیں کیوںکہ وہ خود اپنا سارا وقت بچوں اور خاوند کو دیتی ہیں۔ حالانکہ یہی خرابی کی جڑ ہے۔ انکو نہ صرف خاوند کو باہر وقت گذارنے کی اجازت دینا چاہیے، بلکہ خود بھی اپنے دوستوں رشتے داروں کے ساتھ وقت نکالنا چاہیے۔ تو خواتین! اگر آپ کے رشتے میں بوریت، چڑچڑا پن، بات بے بات جھگڑا آ رہا ہے، تو خاوند کو گھر سے نکالیے۔ اسکو اسکے دوستوں میں بھیجیے۔ سکھ شانتی آپکی منتظر ہے۔

Comments

محمود فیاض

محمود فیاض

محمود فیاض نےانگلستان سے ماس کمیونیکیشنز میں ماسٹرز کیا اور بین الاقوامی اداروں سے وابستہ رہے۔ آج کل وہ ایک عدد ناول اور ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اساتذہ، کتابوں اور دوستوں کی رہنمائی سے وہ نوجوانوں کے لیے محبت، کامیابی اور خوشی پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.