میری خاک وطن ماتم کناں نہ ہو - الطاف جمیل ندوی

آج صبح سویرے اٹھا تو اخبار کی محبت میں اخبارات کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ اخبارات کی کچھ کاپیاں لیں اور ورق گردانی کے لیے اپنے مخصوص کمرے میں جاکر بیٹھ گیا۔ نگاہوں میں اب میں نیند کے ہلکے ہلکے سے اثرات تھے۔ اخبارات میں اول اکثر کالم نگاروں کی نگارشات دیکھنے کو اولین ترجیح دینا اب مزاج کا حصہ سا بن گیا ہے، اسی لیے مخمور سی کیفیت میں کالموں کے حصے کو دیکھنا شروع کیا، پر خمار آلود نگاہوں نے سرکانا شروع کیا، کمبل جو کھینچنے کو ہاتھ بڑھایا تو اچانک کشمیر عظمی نامی اخبار میں شائع ایک خبر پر نظر پڑی:

''منشیات کے خلاف بیداری مہم چلانے کے باوجود بھی 90 فیصد پڑھے لکھے نوجوان اس لت میں مبتلا ہیں، جبکہ صرف 10فیصد لوگ ان پڑھ ہیں۔ ایک سروے رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس لت میں 13برس کے بچوں سے لیکر 64 برس کی عمر کے بزرگ شہری بھی مبتلا ہیں۔ نیشنل انسٹی چیوٹ آف مینٹل ہیلتھ و نیروسائنس رپورٹ میں یہ حیران کن انکشاف ہوا ہے کہ مختلف قسم کی نشیلی ادویات یا منشیات استعمال کرنے والوں میں 60 فیصد نوجوان کی تعلیمی قابلیت 10+2 ہے جبکہ 20 فیصد گریجویٹ اور 10 فیصد پوسٹ گریجویٹ بھی منشیات استعمال کرنے والوں میں شامل ہیں۔'' کشمیر عظمیٰ کے پاس دستیاب اعداوشمار کے مطابق ''کم پڑھے لکھے نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور حیران کن طور پر ان پڑھ نوجوانوں کی تعداد بہت ہی قلیل ہے۔ ریاست میں منشیات کا کاروبار کرنے والوں کا مرکز پڑھے لکھے نوجوان ہیں۔''

میں اچھل پڑا، نیند غائب ہوگئی، دل اداس ہوگیا کہ ہائے ہماری نوجوان نسل کہاں جارہی ہے؟ کس نے اسے اس ذلت کی دلدل میں دھکیل دیا؟ خیال ہی خیال میں میرے اک معصوم سی صورت نگاہوں کے سامنے کھڑی ہوگئی۔ یہ ایک اچھے خاندان کا جیالا اور لاڈلا معصوم سا نوجوان تھا، جس کی پرورش ناز و نعم میں ہوئی، جس کے جسم پر ہلکی سی خراش سے بھی اس کے گھر میں چیخیں بلند ہوتی تھیں، اپنے والدین کی وہ اکیلی اولاد تھی، جو جی چاہتا وہ اسے ملتا، یہ آنکھوں کی ٹھنڈک تھا، اپنے والدین کے لیے شکل و صورت بھی حد سے زیادہ دینے والے نے دی تھی۔ آہستہ اس کے قدم جوانی کی دہلیز پر پڑنے لگے تو اس کی شوخیاں اور بھی بڑھنے لگیں۔ اب اس کا حلقہ یاراں بھی وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا۔ والدین نے کبھی کوئی روک نہ لگائی، سوچا یہ محو پرواز ہے تو خوب اڑے، ستاروں سے کھیلے۔ ایک روز انھی خوشیوں کے درمیان اس کے والد ایک ایکسڈنٹ میں مالک کو پیارے ہوگئے۔ اسے دکھ تو ہوا پر محفل میں شامل دوستوں نے اس کے غم کا مداوا بتایا کہ آؤ تمھارے غم کو کافور کرتے ہیں۔

پھر کیا تھا، اسے غم کے رفع کرنے کا ایک ایسا طریقہ ملا جو اس کی بربادیوں کی ایک دلخراش داستان الم لیے ہوئے تھا۔ جام کے ساتھ پھر انجیکشن مل گئے، پھر پوڈر، اور پھر اس کی کربناک اذیتوں کا سلسلہ چل پڑا۔ نہ نیند نہ آرام نہ سکوں، جسم کی ہیئت بھی بدلنے لگی، اعضائے جسمانی مضحمل، ہاتھ پاؤں میں مسلسل درد کی ٹیس۔ جوانی میں ہی چہرے کی رونق غائب، بےنور سی آنکھیں ماتھے کی شکنیں، اس کی بدحالی کی چغلیاں کھانے کو کافی تھیں۔ چڑ چڑا پن، نفرت و کدورت بھرا جگر، اپنے ہی خیالات میں مگن، بال بکھرے ہوئے دنیا کی ہر خوشی سے ناواقف وہ کش لگاتا نوجوان، والدہ اس کی حالت دیکھ کر خون کے آنسو روتی مگر اس پر اثر نہ ہو رہا تھا۔ کبھی کسی نالی سے ماں اٹھاتی تو کبھی کسی کیچڑ کے ڈھیر سے۔ امی کے آنسو تھے کہ تھمتے نہ تھے۔ جو اسے کبھی جی بھر کر دیکھنے کے متمنی ہوا کرتے تھے، وہ اب نگاہیں نیچی کرنے میں ہی عافیت سمجھتے تھے۔ اس کے رگ و پے میں سرایت نشے کے اجزاء اسے تباہ کرگئے تھے۔ دوستوں نے بےیار و مددگار چھوڑ چکے تھے۔ والدہ کے بازو بھی کمزور ہو کر اسے سہارا دینے کے لیے ناکافی سے تھے۔ جب والدہ کے بازوؤں میں اسے سہارا دینے کی سکت نہ رہی تو یہ اب گندی نالیوں اور کیچڑ کے ڈھیروں کی زینت بنتا گیا۔ پھر وہ دن بھی آیا کہ اک روز شہر کے سب سے بڑے اسپتال میں اس کی امی اس کے قدموں کو چوم چوم کر رو رہی تھی پر اس کا وہ نور نظر لخت جگر بے ہوش و حواس پڑا ہوا تھا اور پھر اپنی امی کے کمزور بازؤں کے سہارے اک روز مٹی کے ڈھیر تلے دب گیا۔

یہ بھی پڑھیں:   وزیراعظم صاحب! ذرا احتیاط کیجیے - فضل ہادی حسن

یہ کوئی فرضی داستان نہیں، بلکہ کچھ سال پہلے ایک نحیف و نزار بھیک مانگتی اک خاتون نے سنائی تھی۔ درد میں ڈوبی داستان سناتے وقت جس کے ہاتھوں میں ہی نہیں انگ انگ میں لرزہ تھا، مگر اسے جینے کو مجبور اس کی سانسیں کر رہی تھیں، ورنہ اس کے لخت جگر نے تو اسے کب کا مزار پہنچا دیا تھا۔ تو اے میری ملت کے پاک باز شاہین صفت نوجوانو! میں تم سے مخاطب ہوں۔ اے میرے جگر کے ٹکڑو! تم سے کہتا ہوں۔ میری ملت کے خیر خواہو! تم میرے مخاطب ہو۔ پڑھ سکو تو پڑھو نا میرے دل کی صداؤں کو۔

مولائے کریم گواہ ہے میں اس سرمایہ کے غم میں اداس ہوں۔ میری اجڑی بستی میں ماتم کناں ہوں۔ میں شرمندہ ہوں۔ میں نے ہی تو ان کا خیال نہ کیا جو یہ ظلمت کے شکار ہوگئے۔ میں نے ہی تو انہیں برائی کی دلدل میں جانے دیا۔ ہائے میری بربادی ہائے میری بے کسی۔ اے قوم کے بچو! میں شرمندہ ہوں۔ مجھے معاف کرکے اپنا کل سنوار دو نا۔ ہائے میری قوم کا سرمایہ کس طرح اپنی زندگیوں سے کھیل رہا ہے؟ کس طرح اپنی خوشیوں کو آگ کی لپیٹ میں دے رہا ہے؟ اے میری ملت و قوم کے پاسبانو! اٹھتے کیوں نہیں؟ چلاتے کیوں نہیں؟ سامنے آتے کیوں نہیں؟ دل تمہارے پرسکون ہیں کیونکر؟ ہائے تمھیں نیند کیسے آتی ہے؟ اف اداس ہوں کہ تم مسکراتے کیسے ہو؟ ہائے میں کیا کہوں؟ کچھ تو سوچو، سامنے تو آؤ۔ میرے بچے بک رہے ہیں، اپنی جوانیاں برباد کر رہے ہیں، کوئی تو انھیں گلے لگائے، کوئی تو ان کا مسیحا بن جائے۔

کیا یہ تمھارے بچے نہیں ہیں۔ چلے آؤ ان بچوں کو بچانے کی فکر لے کر۔ میں اپنے ان لخت جگروں کو ہرگز نہ کوسوں گا، ان پر الزام نہ دوں گا۔ یہ میری بے بسی ہے، یہ میری خطا ہے۔ یہ اجتماعی سطح پر غلطی ہے جو میرے بچے اس لعنت کا شکار ہوگئے۔ یہ حالات و حوادث کا شاخسانہ ہے کہ میری ملت کی کوکھ اجڑنے کو چلی ہے۔ جو چہرے چومنے کے قابل تھے، جو ہاتھ سہارے کے طالب تھے، جو قدم ہماری مدد کے طالب تھے، آہ! میری ملت کے خیر خواہو! ہم نے انھیں بربادی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ہم نے ان ہاتھوں میں نشے کی اشیا دی ہیں۔ ہم نے ان جگر کے ٹکڑوں کو بے سہارا کر دیا ہے۔ کیا ملت و قوم ایسے پنپتی ہے؟ کیا قومیں ایسے عروج پاتی ہیں کہ اپنے جگر گوشوں کو فراموش کرکے چلتے رہیں۔ نہیں، رب کعبہ گواہ ہے کہ قوم کی تباہی و بربادی کے لیے یہ کافی ہے کہ اس کا سرمایہ یوں زیاں کا شکار ہوتا رہے اور قوم اجتماعی غفلت میں خراٹے بھرتی رہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ایل او سی پر کشیدگی، بھارت کا ثالثی سے انکار - قادر خان یوسف زئی

میری ملت کے بچو! اے پروردگار کے پیارے بندو! آئے رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے شاہینو! اے قوم کے جگر کے ٹکڑو! تم میری ملت کا سرمایہ ہو، تم ہی تو میری غیرت ہو۔ اٹھو نا میرے جگر کے ٹکڑو! اٹھو نا آئے میری ملت کے پاسبانو! تم یوں نہ زندگیاں داؤ پر لگاؤ۔ یہ تمھاری خوشیاں منانے کے دن ہیں نشہ کرنے کے نہیں۔ تمھارے بازؤں کا فن دکھانے کا وقت ہے، بازو شل کرنے کا نہیں۔ تمھاری بہنیں تمھاری منتظر ہیں، آؤ ان کے محافظ بنو۔ یوں نہ لٹاؤ اپنی زندگیاں۔

تم ہی تو میری ملت کا آنے والا کل ہو۔ تمھیں کیا ہوگیا کہ تم سر راہ گر رہے ہو۔ اے میرے لخت جگرو! اٹھو نا تمھاری منزل تمھاری منتظر ہے۔ یہ سکون نہیں رب کبریاء کی قسم، یہ تمہارے لئے ناسور بن جائے گا۔ چلو آؤ اک نئی صبح کی نوید سنانے چلتے ہیں۔ میرا مولا میری ملت کے جگر کے ٹکڑوں کو سلامت رکھے۔ آپ کا ایک گمنام بھائی آپ کے اس درد و کرب والی زندگی پر آپ کو پکارتا ہے۔