عاطف زمان نے پہلا فراڈ اپنے ہی باپ کے ساتھ کیا

کراچی کے علاقے ڈیفنس میں قتل ہونے والے نجی ٹی وی چینل کے اینکر پرسن مرید عباس کے قتل میں ملوث ملزم عاطف زمان نے پہلا فراڈ اپنے باپ کے ساتھ کیا جبکہ اس کے پاس سب سے زیادہ سرمایہ کاری مرید عباس کی نکلی۔

کراچی میں اینکرز اور میڈیا ورکرز سمیت 100 سے زائد شہریوں سے سرمایہ کاری کے نام پر لگ بھگ تین سو کروڑ روپے بٹورنے والے ملزم عاطف زمان نے سب سے پہلا ساڑھے 7 لاکھ روپے کا فراڈ اپنے والد کے ساتھ کیا جو اس کے اس گورکھ دھندے کا موجد بنا۔

پولیس ذرائع کے مطابق ملزم سے اس نقطہ نظر سے تفتیش شروع کی گئی کہ اربوں روپے بٹورنے والا عاطف زمان اکیلا ہی یہ کام نہیں کر سکتا؟ پولیس کا شبہ تھا کہ ملزم کسی نہ کسی بین الاقوامی گروہ سے مل کر اتنی بڑی واردات کر رہا تھا تاہم پولیس کے مطابق مختلف زاویوں اور باریک بینی سے کی گئی پوچھ گچھ کے دوران ملزم ایک عام فراڈیا ثابت ہو رہا ہے جس نے خاص طور پر میڈیا پرسنز کو اس لیے اپنے چُنگل میں پھنسایا کہ اینکرز پرسنز کی انویسٹمنٹ دیکھ کر عام شہری بڑی آسانی سے اس کے جال میں پھنس رہے تھے۔

ملزم سے کی گئی تفتیش کے دوران ایک دلچسپ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب اس سے پہلی انویسٹمنٹ کرنے والے شخص کے بارے میں پوچھا گیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزم نے بتایا کہ اس نے ایک ٹائر کمپنی میں ملازمت کے دوران سیل کی کچھ رقم خردبرد کی اور نوکری چھوڑ کر غائب ہوگیا۔ ملزم عاطف زمان کے مطابق اس کے بعد وہ فارغ تھا اور کاروبار کرنے کی غرض سے اس نے اپنے والد کے ساڑھے 7 لاکھ روپے چوری کرلیے۔

ملزم کے مطابق والد کی رقم سے کوئی کاروبار تو نہ چل سکا البتہ اُس نے وہ رقم اپنی عیاشیوں پر اُڑا دی۔ گھر سے بھاری رقم غائب ہونے کا پتہ چلا تو والد نے اس کا عرصہ حیات تنگ کردیا۔ جس پر اس نے اپنے دوستوں سے بھاری منافع دینے کے نام پر ساڑھے 7 لاکھ روپے جمع کرکے والد کو لوٹا دیئے اور اس کے بعد بھی دوستوں سے رقم لینے کا سلسلہ جاری رکھا اور مزید لاکھوں روپے اپنے پاس جمع کرلیے۔

ملزم کے مطابق ٹھیک دو ماہ بعد پہلے دوست سے لئے گئے دو لاکھ روپے ایک لاکھ منافع کے ساتھ 3 لاکھ روپے واپس لوٹا دیئے پھر دوسرے دوست کو ایک لاکھ کی جگہ ڈیڑھ لاکھ روپے لوٹائے تو حلقہ احباب میں اس کا چرچا ہونے لگا۔ یوں وہ اِدھر کا پیسہ اُدھر اور اُدھر کا پیسہ اِدھر لے دے کر روپے جمع کرتا رہا کہ اسے پتہ ہی نہیں چلا کہ وہ کروڑوں تک پہنچ گئے۔

ملزم کے بیان کے مطابق سب سے زیادہ انویسٹمنٹ اینکر مرید عباس کے توسط سے ملی۔ ملزم کے مطابق مرید عباس نے کس کس سے کتنے پیسے لے کر اس تک پہنچائے یہ تو اسے نہیں پتہ تاہم یہ معلوم ہے کہ اس کی اہلیہ نے بھی کئی خاتون اینکرز سے بھاری رقوم جمع کرکے اپنے شوہر کے توسط سے سرمایہ کاری کی۔

ملزم کے مطابق کروڑوں کے حساب سے سرمایہ کاری پر وہ لاکھوں کے حساب سے منافع دیتا تھا۔ جس کا بیشتر حصہ مبینہ طور پر بڑے سرمایہ کار اپنے پاس رکھ کر عام انویسٹرز کو کم منافع پہنچاتے تھے۔ گزشتہ روز ملزم سے برآمد کی گئی سرمایہ کاری کے حساب کتاب کی ڈائری کی مدد سے اب تک ایک سو 20 کروڑ روپے انویسٹ کرنے والوں کے نام مل سکے ہیں۔ جن میں سب سے زیادہ رقم ساڑھے 11 کروڑ روپے ملزم کے ہاتھوں قتل ہونے والے اینکر مرید عباس کی ہے۔

چار سال کے اندر مرید عباس کروڑ پتی کیسے بنا اس سوال کی تحقیق کے دوران پتہ چلا کہ مرید عباس اور دیگر اینکرز نے عام میڈیا پرسنز کو سونے کا انڈا دینے والی مرغی جیسی پرکشش انویسٹمنٹ پر ورغلایا اور ان سے پیسے جمع کرکے سرمایا کاری کی۔ اس سلسلے میں مزید تحقیقات کی جارہی ہے۔

(بشکریہ جنگ)