لو وہ بھی کہتے ہیں کہ یہ بے ننگ و نام ہے - اظہر محمود

امریکی ریپ گلوکارہ نکی مناج نے محافظین حرم کی میزبانی کو ٹھکرا دیا۔ خبر کے مطابق خادم الحرمین الشریفین کی حکومت نے امریکی گلوکارہ سے 18 جولائی کو جدہ شہر میں پرفارمنس کے لیے وقت لیا تھا۔ دنیا وجہاں کی تنقید اورمسلمانوں کی منت سماجت سے بے پروا ہوکر امروالقیس کی روحانی اولاد کی خوشی دیدنی تھی۔

لیکن افسوس یہ ہوا کہ نکی مناج نے اعلان کردیا ہے کہ چونکہ وہ ہم جنس پرست ہے اوردنیا بھر کے ہم جنس پرستوں کی حمایت کررہی ہے سعودی عرب وہ ملک ہے جہاں ہم جنس پرستی کی اجازت نہیں ہے لہذا وہ جدہ میں پرفارمنس کرکے دنیا بھر میں اپنے مداحوں کو تکلیف پہنچانے کا رسک نہیں لے سکتی۔

میرے لئے نکی مناج کے انکار میں کوئی حیرت نہیں۔ نکی کو معلوم تھا کہ عرب عورتوں کے دلدادہ ہیں ۔۔ بالخصوص امریکی اور مغربی خواتین پر عرب جان، مال اور دولت نچھاور کر دیتے ہیں۔ وہ ان کے قدموں میں لیٹ جاتے ہیں۔ نکی اگر آجاتی تو اسے دولت کے ساتھ تول دیا جاتا لیکن یہ بازاری عورت ہمیں یہ سبق دے گئی ہے کہ دولت ہی سب کچھ نہیں۔ وژن اور نظریہ بھی کوئی چیز ہے ۔ مداحوں کا دل رکھنا بھی کوئی معنی رکھتا ہے۔ خادم حرمین نے تو دنیا کے ایک ارب مسلمانوں کی منت سماجت اور ارمانوں کی پروا نہیں کی لیکن نکی مناج اپنے مداحوں کی آرزوؤں کا خون نہیں کرسکتی۔ معلوم ہوا کہ بخدا خدام حرمین میں ایک بازاری عورت جتنی غیرت بھی باقی نہیں رہی۔